حق کی ادائیگی
Al-Risala, May 1996, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
البخاری میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تین شخص کے خلاف قیامت میں مدعی ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے ایک آدمی کو اپنے یہاں مزدور رکھا اور اس سے پورا کام لیا مگر اس نے اس کی مزدوری نہیں دی (رجل استأجر اجیرا فاستوفی منہ ولم یعطه اجره (مشکاۃ المصابیح ۸۹۹/۲)
ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعطوا الاجیر اجره قبل ان یجف عرقہ (مزدور کو اس کی مزدوری دو، اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو) مشکاۃ المصابیح ۹۰۰/۲ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کام لیتا ہے۔ معاملہ میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ پوری اجرت دو، اور کام ختم ہونے کے بعد فوراً اسے ادا کرو۔ کروانے کے بعد مزدور سے یہ کہنا کہ اگلے دن آکر اجرت لے لینا، انتہائی غیر انسانی فعل ہے۔ پست فعل سے اسلام میں نہایت شدت کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔
کام کروانے والے کی ضرورت اگر یہ ہے کہ اس کا کام ہو جائے تو کام کرنے والے کی ضرورت یہ ہے کہ اس کی محنت کا معاوضہ اسے بروقت مل جائے۔ یہ ایک دو طرفہ تقاضا ہے۔ اور کام کرنے والے نے جب کام انجام دے دیا تو اب دوسرے شخص پر لازم ہو گیا کہ وہ اس کا مقرر معاوضہ ادا کرنے میں کسی قسم کی کوئی قابل شکایت بات نہ کرے۔
جہاں طے شدہ مزدوری کا معاملہ نہ ہو وہاں بھی اسلام کا تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ پورا کیا جائے۔ اگر مادی بدلہ کا موقع نہ ہو تو اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ کھلے دل سے اس کی کارگزاری کا اعتراف کیا جائے ۔ اچھے الفاظ کے ساتھ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کیا جائے ۔ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے نیک دعا کی جائے۔
محنت کا فوراً معاوضہ ادا کرنے سے سماج میں باہمی اعتماد بڑھتا ہے، اور اگر اس کے برعکس عمل کیا جائے تو پورا سماج بے اعتمادی اور بدگمانی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔