Al-Risala · May 1996

بے مسئلہ

Al-Risala, May 1996, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا اس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی درجہ میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ کسی کو اتنی زحمت دینا بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اس سے کہے کہ میرا کوڑا اٹھا کر مجھے دے دو۔ بلکہ خود گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (ابو داؤد ۱۲۴/۲) حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں (ویؤمن شتر) ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے (يتقى الله و يدع الناس من شره) صحیح البخاری، کتاب الجہاد البخاری (کتاب الادب) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلم پر صدقہ ہے۔ یعنی اس کو دینے والا بننا چاہیے۔ پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ محنت کر کے کمائے اور پھر اس میں سے دے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ اب بھی کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ زبان سے اچھا کلمہ پوچھا گیا کہ اگر وہ اب بھی کر سکے تو آپ نے فرمایا : فليمسك عن الشر فانہ له صدقة۔ یعنی وہ اپنے شر کو دوسروں سے روکے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک عطیہ ہے (فتح الباری ۴۶۲/۱۰) ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کامل ایمان والامومن وہ ہے جو مجاہد بنے اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال کو خرچ کرے۔ اور اس کے بعد وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے بچے ہوئے ہوں (قد کفی الناس شره) سنن ابی داؤد ۵/۳ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی تعلیمات آئی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے کردار کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اس کے بعد اسلامی کردار کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ وہ پوری طرح بے ضرر بنا ہوا ہو، وہ کسی کے لیے کسی قسم کا کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیدا نہ کرے۔

قرآن میں مختلف الفاظ میں برار بار کہی گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو ہمیشہ مثبت رد عمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہیں ہر حال میں منفی رد عمل سے بچنا چاہیے۔ ان کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی طرف سے برے سلوک کا مظاہرہ کرے تب بھی خدا پرستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ با اصول انسان کا ثبوت دیں۔ برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔

مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں: أمر الله المؤمنين بالصبر عند الغضب والحلم عند الجهل والعفو عند الاساءة (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۱۰۱) یعنی اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انہیں غصہ آجائے تو وہ صبر و برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص با سلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔

اس اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر

مومن وہ ہے جو بر تر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر ایسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے جو باہر کے کسی بھی واقعہ سے نہیں ٹوٹتا۔ جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں وہاں وہ سمندر کی طرح پر سکون بنا رہتا ہے۔

Printed page