عالمی اخوت
Al-Risala, May 1996, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو ایک ہی جوڑے سے پیدا کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ہی ماں اور باپ کی نسل ہے جو سارے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی ہے (النساء ۱) اس سے معلوم ہوا کہ تمام انسان، ظاہری اختلافات کے باوجود، باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ دوسرے لفظ میں یہ کہ سب کے سب آپس میں خونی بھائی (blood brothers) ہیں۔
یہ اخوت ایک عالمی اخوت ہے۔ چنانچہ قرآن میں ایک طرف کہا گیا ہے کہ: إنما المومنون إخوة یعنی اہل ایمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں (الحجرات ۱۰) دوسری طرف غیر مسلموں کو بھی مسلمانوں کا بھائی بتایا گیا ہے۔ اہل ایمان اگر دینی اعتبار سے ہمارے بھائی ہیں تو غیر مسلم حیاتیاتی اعتبار سے تمام مسلمانوں کے لیے بھائی اور بہن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چنانچہ قرآن میں جن پیغمبروں کا نام آیا ہے، ان کی گمراہ قوموں کا ذکر ان کے بھائی کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً وإلى ثمود أخاهم صالحا (الاعراف ۷۳) وإلى مدين أخاهم شعيبا (الاعراف ۸۵) إذ قال لهم أخوهم نوح (الشعراء ۱۰۶) إذ قال اخوهم هود (الشعراء ۱۲۳) إذ قال لهم أخوهم لوط (۱۶۱) اس طرح کی آیات میں پیغمبروں کی مخاطب قوموں کو پیغمبروں کا بھائی بتایا گیا ہے۔ حدیث میں کثرت سے ایسی تعلیمات ہیں جن میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی اور بہن جیسا سلوک کرو۔ یہ بات کہیں عام الفاظ میں ہے اور کہیں مومن اور مسلم کے الفاظ میں۔ اس کا خطاب عمومی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے اس کی حیثیت گویا نصیحت کی ہے اور اہل ایمان کے لیے اس کی حیثیت فریضہ اور حکم کی۔
اسلام کے مطابق، خدا کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ پوری انسانیت ایک وسیع تر خاندان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک گھر کے اندر دو بھائیوں میں جو برادرانہ تعلق ہوتا ہے، وہی برادرانہ تعلق وسیع تر دائرہ میں تمام انسانوں سے مطلوب ہے۔ حدیث میں اگر کہیں المسلم اخو المسلم کا لفظ ہے تو وہ بھی گروہی معنی میں نہیں ہے بلکہ اصولی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچے انسان ہمیشہ بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔