Al-Risala · May 1996

وسیع تر آدمیت

Al-Risala, May 1996, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح البخاری میں حدیث کے ایک مجموعہ کا باب یہ ہے : باب رحمۃ الناس و البہائم یعنی انسانوں اور حیوانات کے ساتھ رحمت کا باب۔ اس کی تشریح میں ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے :(ی صدور الرحمۃ من الشخص لغیرہ۔ یعنی کسی شخص کی طرف سے اس کے غیر کے لیے مہربانی کا عمل۔ کے اندر رحمت و شفقت کا جو جذبہ پیدا کرتا ہے وہ اتنا زیادہ آفاقی ہے کہ اس کا اثر حیوانات اور نباتات کی دنیا تک پہنچتا ہے۔ ایسا انسان ہر ایک کے لیے شفیق بن جاتا ہے، حتیٰ کہ جانوروں اور درختوں کے لیے بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کسی راستہ پر چل رہا تھا۔ اس کو سخت پیاس لگی۔ پھر اس کو راستہ میں ایک کنواں نظر آیا۔ اس نے اس کنویں سے پانی حاصل کیا۔ جب وہ باہر آیا تو اس نے ایک کتے کو دیکھا جو ہانپ رہا تھا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا۔ آدمی نے اپنے دل میں کہا کہ اس کتے کا بھی پیاس سے وہی حال ہو رہا ہے جو میرا حال ہوا تھا۔ وہ دوبارہ کنویں کے پاس گیا اور اپنے جوتے میں پانی نکال کر کتے کو پلایا۔ پھر اس آدمی نے اللہ کا شکر ادا کیا تو اللہ نے اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہمارے لیے حیوانات میں بھی اجر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہر نرم و نازک جگر میں تمہارے لیے اجر ہے (فتح الباری ۵۲/۱۰) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر احساس والی مخلوق کے ساتھ تمہیں شفقت کا معاملہ کرنا ہے اور ہر ایسے معاملہ پر اللہ کی طرف سے تمہیں انعام دیا جائے گا۔ اسی طرح درخت کو اسلام میں اتنی زیادہ اہمیت دی گئی کہ قرآن میں فرمایا کہ خدا کو ماننے والا انسان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ ایک درخت۔ وہ درخت کی مانند نفع بخش بن کر دنیا میں زندگی گزارتا ہے (ابراہیم ۲۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مسلم جب ایک پودا لگاتا ہے۔ بڑا ہوتا ہے اور کوئی انسان یا کوئی جانور اس کا پھل کھاتا ہے تو یہ پودا لگانے والے کے لیے ایک صدقہ ہوتا ہے (فتح الباری ۵۲/۱۰) خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے اسلامی فوج روانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ تم لوگ کوئی درخت نہ کاٹنا ( لا تقطعوا شجرا ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام میں درخت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی درخت دشمن کا درخت ہو تب بھی اس کو نہ کاٹا جائے۔ اسلام کی آدمیت وسیع تر آدمیت ہے نہ کہ محدود آدمیت۔

Printed page