Al-Risala · May 1996

سب پر سلامتی

Al-Risala, May 1996, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں زندگی کے جو آداب بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ یعنی ایک شخص کہے کہ السلام علیکم (تمہارے اوپر سلامتی ہو اس کے بعد دوسرا شخص جواب میں کہے : وعلیکم السلام (تمہارے اوپر بھی سلامتی ہو)

سلام کا یہ کلمہ ایک قسم کی دعا ہے۔ ایک مومن کے دل میں دوسرے مومن کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے ایک مذکورہ سلام کا سلام کی بہترین تشریح وہ ہے جو ابن عیینہ سے نقل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ سلام کیا ہے۔ سلام کرنے والا دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے محفوظ ہو (ھل تدرى ما السلام ، يقول انت آمن منی)

سلام کی یہ تشریح بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ہر اعتبار سے تمہارا خیر خواہ میری طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ میں تمہارے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والا نہیں۔ تم سے میری گفتگو ہو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا کہ میں تم سے بدکلامی کرنے لگوں۔ ساتھ میرا کوئی لین دین ہو تو میں تمہارے ساتھ غضب اور خیانت کا معاملہ نہیں کروں گا۔ جو حق ہے ، اس کو انصاف اور دیانت کے ساتھ پورا پورا ادا کروں گا۔ تمہارے خلاف اگر مجھے کوئی شکایت ہو جائے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں عدل کے راستہ سے ہٹ جاؤں اور تمہارا دشمن بن کر تمہاری جڑ کاٹنے لگوں۔ تم سے اگر مجھے کوئی اختلاف ہو تو میں اس اختلاف کو جائز تنقید کے دائرہ میں رکھوں گا، میں اس کو عیب جوئی، الزام تراشی اور کردار کشی کی حد تک ہرگز نہیں لے جاؤں گا ۔

السلام علیکم کوئی رسمی کلمہ نہیں ، وہ با اصول زندگی گزارنے کا ایک عہد ہے۔ السلام علیکم کہنے والا گویا اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہوگا ۔ وہ سلامتی اور خیر خواہی کا ہوگا نہ کہ بے امنی اور بد خواہی کا۔

Printed page