بین الالالالالاقوامی رواج
Al-Risala, May 1996, pp. 50–53
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے ۱۰ھ میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا : اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک ، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں ، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے ۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے : قال سمعت رسول الله صلی اللہ عليه وسلم | راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حين جاءه رسولا مسيلمة الكذاب | کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں بكتابه يقول لهما : وانتما تقولان | قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی مثل ما يقول - قالا نعم - فقال أما | کہتے ہو جو وہ کہتا ہے ۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربتُ | نے فرمایا کہ خدا کی قسم ، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں أعناقكما - | کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوا دیتا۔
راوی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ : فمضت السنة بان الرسل لا تقتل۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیا جائے ( البدایہ والنہایہ ۵ / ۵۱-۵۲) اس سنت نبوی سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں ۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے ۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز رواج پا جائے جو صراحۃً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جزو کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی ۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولاناحیدالدین خان کے قلم سے 5/- تاریخ دعوت حق Rs اردو 12/- مطالعہ سیرت 200/- تذکیر القرآن جلد اول 100/- ڈائری جلد اول 200/- تذکیر القرآن جلد دوم 55/- کتاب زندگی 45/- اللہ اکبر - انوار حکمت 40/- پیغمبر انقلاب 25/- اقوال حکمت 45/- مذہب اور جدید چیلنج 8/- تعمیر کی طرف 50/- عظمتِ قرآن 20/- تبلیغی تحریک 50/- عظمت اسلام 35/- تجدید دین 7/- عظمت صحابہ 50/- عقلیات اسلام 50/- دین کامل - مذہب اور سائنس 40/- الاسلام 8/- قرآن کا مطلوب انسان 70/- ظہور اسلام 5/- دین کیا ہے 25/- اسلامی زندگی 7/- اسلام دین فطرت 40/- احیاء اسلام 7/- تعمیر ملت 50/- راز حیات 7/- تاریخ کا سبق 40/- صراط مستقیم 5/- فسادات کا مسئلہ 50/- خاتون اسلام 8/- انسان اپنے آپ کو پہچان 70/- سوشلزم اور اسلام 5/- تعارف اسلام 50/- اسلام اور عصر حاضر 10/- اسلام پندرہویں صدی میں 40/- الربانیہ 12/- راہیں بند نہیں 45/- کاروان ملت 7/- ایمانی طاقت 30/- حقیقت حج 7/- اتحاد ملت 25/- اسلامی تعلیمات 7/- سبق آموز واقعات 25/- اسلام دورِ جدید کا خالق 20/- زلزلہ قیامت 35/- حدیث رسول 12/- حقیقت کی تلاش 85/- سفرنامہ (غیر ملکی اسفار) 5/- پیغمبر اسلام - سفرنامہ (ملکی اسفار) 7/- آخری سفر 35/- میوات کا سفر 7/- اسلامی دعوت - قیادت نامه 12/- خدا اور انسان 25/- راهِ عمل 10/- حل یہاں ہے 95/- تعبیر کی غلطی 8/- سچا راستہ 20/- دین کی سیاسی تعبیر 12/- دینی تعلیم 20/- امہات المومنین 7/- حیات طیبه 7/- عظمتِ مومن 7/- باغِ جنت 3/- سلام ایک مقیم حد درجہ 7/- نار جہنم 10/- فلیچ ڈائری 7/- رہنائے حیات 45/- مضامین اسلام 10/- تعدد ازواج 40/- ہندوستانی مسلمان 7/- روشن مستقبل 12/- صوم رمضان 9/- لم کلام 2/- اسلام کا تعارف 8/- علماء اور دور جدید 10/- سیرت رسول 1/- ہندوستان آزادی کے بعد 7/- مارکسزم تاریخ جس کو رد کرچکی ہے 4/- سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ 2/- منزل کی طرف 85/- الإسلام يتحدى
8/- سچائی کی تلاش 4/- انسان اپنے آپ کو پہچان 4/- پیغمبر اسلام 10/- سچائی کی کھوج 8/- آخری سفر 8/- اسلام کا پرچم 8/- پیغمبر اسلام کے مہان ساتھی 7/- راستے بند نہیں 8/- جنت کا باغ 10/- بہو پتنی واور اسلام 9/- اتہاس کا سبق 8/- اسلام ایک سواہواک مذہب 8/- اجول بھولیش 8/- پور تجيون 3/- منزل کی اور AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, New Delhi 110 013, Tel. 4611128, Fax 4697333
AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, Near DESU, New Delhi-110 013 Tel. 4611128 Fax 4697333
June 1996 • Issue 235 • Rs. 7 وہ مسئلہ مسئلہ نہیں جس کا حل اپنے قابو میں ہو اور بیشتر مسائل کا حل ہمیشہ اپنے ہی قابو میں ہوتا ہے ۔