جوابات
Al-Risala, June 1996, pp. 12–15
By Maulana Wahiduddin Khan
۱- میرا جواب یہ ہے کہ ہاں۔ اسلام کی ہمہ گیر معنویت اور حیات انسانی کے ساتھ اس کی مطابقت (relevance) آج بھی اسی طرح باقی ہے جس طرح وہ ہزار سال پہلے کے دور میں پائی جاتی حتی کہ وہ دور جس کو دورِ جدید کہا جاتا ہے، وہ خود اسلام کا پیدا کردہ ہے، پھر اسلام خود اپنی پیدا کردہ دنیا کے لیے غیر مطابق کیسے ہو سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کی تمام اعلیٰ قدریں، مثلاً فکری آزادی، انسانی برابری، جمہوریت، جدید ٹکنالوجی، وغیرہ سب اسلام ہی کے انقلاب کے سیکولر تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب : " اسلام دورِ جدید کا خالق " بعض امور جس میں اسلام کو عہدِ حاضر کے غیر مطابق بتایا گیا وہ خود بتانے والوں کی غلطی تھی۔ اور مرد کے ورک پلیس کو اسلام میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں اس تصور کو رد کر دیا گیا۔ مگر اسی صدی کے نصف آخر میں حیاتیات اور نفسیات کے گہرے مطالعہ نے ثابت کیا کہ عورت اور مرد کے درمیان فیصلہ کن قسم کا تخلیقی فرق ہے۔ اور جب دونوں میں تخلیق کے اعتبار سے فرق ہو تو دونوں کے ورک پلیس کا جدا جدا ہونا ہی مطابق فطرت ہے نہ کہ اس کا چوں کہ یہ ایک فطری حقیقت ہے، اس لیے خود مغربی سوسائٹی میں، کامل آزادی کے باوجود، ورک پلیس کی یہ تفریق آج بھی پوری طرح باقی ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: خاتون اسلام) ۲- اسلام کو بطور نظامِ حکومت اختیار کرنا بلا شبہ عین ممکن ہے۔ کلئی حقیقی نظریاتی رکاوٹ اس میں مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں جمہوریت کو معیاری حکومتی نظام سمجھا جاتا ہے۔ نظام کو اسلام ہی نے تاریخ میں پہلی بار پیدا کیا۔ وہ اسلام میں شورائی نظام کے نام سے موجود ہے۔ ایسی حالت میں اسلام پر مبنی سیاسی نظام نا قابلِ عمل کیوں ہو گا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، صرف ایک چیز ہے جس کی بنا پر جدید مفکرینِ اسلام کے سیاسی نظام کو عہدِ حاضر کے لیے غیر صالح سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ، ان کے نزدیک، اسلام کلیت پسندانہ نظام (totalitarianism) کا حامی ہے۔ اس بنا پر وہ کسی مشترک سماج (plural society) کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔
مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے جو کچھ نا اہل نمائندگان اسلام کی غلط تشریح سے پیدا ہوئی ہے۔ حضرات نے یہ کہنا شروع کیا کہ اسلام ایک دین کامل ہے جس کے اجزاء کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کے نزدیک اس نظام کو بیک وقت پوری صورت میں قائم ہونا چاہیے۔ اس کے حصے بخرے کرنا کسی حال میں ممکن نہیں۔
یہ ایک غلط تصور ہے۔ بطور عقیدہ بلاشبہ اسلام دین اور ریاست دونوں ہے۔ مگر عملی نفاذ کے اعتبار سے دونوں کا معاملہ الگ الگ ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے حج اور زکوٰۃ بطور عقیدہ مگر ان پر عمل اس وقت کیا جائے گا جب کہ اس کی شرائط بھی پائی جا رہی ہوں۔ اس معاملہ میں ہمیں مدنی دور سے رہنمائی ملتی ہے۔ مدنی دور اسلام کا حکومتی دور ہے، مگر اس حکومت کے خود دو دور ہیں۔ مدنی دور کے نصف اول میں وہاں مشترک آبادی تھی۔ گویا وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں پلورل سوسائٹی کہا جاتا ہے۔ اور مدنی دور کے نصف آخر میں وہاں وحدانی معاشرہ وجود میں آگیا۔
ان دونوں دوروں میں دو الگ الگ انداز اختیار کیا گیا۔ مدینہ جب ایک پلورل سوسائٹی تھا تو وہاں اسلامی اقتدار کے باوجود غیر مسلموں کو ان کے اپنے رواج پر چھوڑ دیا گیا : كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتاباً في (المدينة) بين المهاجرين والانصار وادع فيه اليهود وعاهدهم واقرهم على دينهم واموالهم (البداية والنهاية ۲۲۳/۳ کسی پلورل سوسائٹی کے لیے مدنی دور کے نصف اول میں مثال موجود ہے۔ یہ غیر مسلموں کے لیے تقریباً وہی چیز ہے جو موجودہ زمانہ میں سیکولر سسٹم میں اختیار کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پلورل سوسائٹی میں بھی اسلام اتنا ہی قابل عمل ہے جتنا کہ سیکولر نظام کو قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ ۳- میں سمجھتا ہوں کہ عرب ترقی کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے۔ تاریخی طور پر عربوں کا جو مزاج بنا ہے اس میں کوئی دوسرا نظام ان کے یہاں معقول طور پر کام نہیں کر سکتا۔ جمہوری طور پر ان کے درمیان صرف اسلام کا نظام ہی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ دوسرا کوئی نظام جب بھی ان کے درمیان قائم ہوگا وہ آمریت کے زور پر قائم ہوگا۔ اور آمریت ہمیشہ ترقی کے عمل کو روکنے کی قیمت پر قائم ہوتی ہے۔ ترقی کے لیے آزادی اور آمریت کا نظام اس کا متحمل نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو فکر و عمل کی آزادی عطا کرے۔
عرب دنیا میں بظاہر جس چیز نے اسلام کو ناقابلِ عمل بنایا وہ کچھ مسلم لیڈروں اور مسلم تحریکوں کا غیر جمہوری جمہوری مزاج یہ ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ (free and fair) الیکشن ہو۔ اور پھر جو جیتے اس کو مقرر مدت تک کے لیے حکومت چلانے کا موقع دیا جائے ۔ اور جو ہارے وہ اپنی ہار کو
عرب ملکوں میں یہ مزاج موجود نہیں۔ یہاں الیکشن میں ہارا ہوا گروپ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ جو جیتے وہ چاہتا ہے کہ حکومت ہمیشہ اسی کے پاس رہے۔ اگر اس مزاج کی اصلاح ہو جائے تو عرب ملکوں میں اسلام پوری طرح قابلِ عمل نظر آنے لگے گا۔
وہ ظاہر ہے جس کو موجودہ زمانہ میں دینی بیداری کہا جاتا ہے، وہ میرے نزدیک صرف قومی بیداری دینی بیداری وہ ہے جو معرفتِ خداوندی کی سطح پر ہونے والے ذہنی انقلاب سے ابھرے۔ موجودہ مسلم بیداری کا معاملہ یہ نہیں ہے ۔ وہ فلسطین اور اسی قسم کے دوسرے محاذوں پر مسلمانوں کی قومی شکست کی زمین سے ابھری ہے۔ وہ ایک قومی ردِ عمل ہے جس کو اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
دینی بیداری لوگوں کے اندر عجز پیدا کرتی ہے اور قومی بیداری احساسِ برتری کا جذبہ ابھارتی دینی بیداری سے دعوت کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور قومی بیداری سے مخاصمت کی دینی بیداری آدمی کو دوسروں کے تئیں محبت کرنے والا بناتی ہے اور قومی بیداری دوسروں کے تئیں نفرت کرنے والا۔ دینی بیداری میں لوگوں کی نظر اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے اور قومی بیداری میں لوگوں کی نظر اپنے حقوق پر۔ دینی بیداری سے آخرت رخی ذہن بنتا ہے اور قومی بیداری سے دنیا رخی ذہن۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی موجودہ بیداری میں وہی تمام علامتیں نظر آئیں گی جن کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں قومی بیداری کے تحت بیان کیا ہے۔
قرآن کی تصریح کے مطابق اسلام کا دشمن نمبر ایک کبھی خارج میں نہیں ہو سکتا۔ اس کو یقینی طور پر داخل میں تلاش کرنا چاہیے (فلا تخشوہمو اخخشون)، میرے نزدیک یہ داخلی دشمن وہ نام نہاد اسلام پسند (اسلامسٹ) ہیں جو موجودہ زمانہ میں " اسلامی نظام قائم کرو " کا نعرہ لے کر کھڑے
ہوں گے اور ہر جگہ مل حکومتوں سے ٹکرارہے ہیں۔
اسلامی نظام ہمیشہ اس وقت قائم ہوتا ہے جب اس کے لیے عوامی سطح پر موافق ماحول بنایا جا چکا ہو ملاحظہ ہو حضرت عائشہ کی روایت (البخاری، باب تالیف القرآن) موجودہ اسلام پسند حالات کو سازگار بنائے بغیر اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اسلام تو قائم نہیں ہورہا ہے۔ البتہ ہر جگہ ضد اور نفرت بھڑک رہی ہے۔ ہر جگہ اسلام سے بیزاری پیدا
ابن خلدون نے لکھا ہے کہ : سأل رجل عليا رضى الله عنه ما بال المسلمين، اختلفوا عليك ولم يختلفوا على ابى بكر وعمر - فقال لان ابابكر وعمر كانا واليين على مثلى وانا اليوم وال على مثلك (صفحه ٤١١)
خلیفہ چہارم کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک صحابی رسول حاکم ریاست ہو تب بھی اجتماعی نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ امثال علی کی کثرت سے معاشرہ کے اندر موجود اگر ایسا نہ ہو تو صحابی جیسے ایک شخص کے حاکم ہونے کے باوجود سارا نظام منتشر ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں جن مسلم ملکوں میں "اسلامی حکومت قائم کرو" کے نعرے لگائے جارہے ہیں وہاں نہ حکومت کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے کوئی مثل عمرؓ موجو د ہے اور نہ معاشرہ میں امثال علی نظر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر سیاسی تبدیلی ہو بھی جائے تو کوئی صالح اسلامی نظام کیسے جب کہ حضرت علی رضی کے زمانہ سے بھی زیادہ بگاڑ آج پیدا ہو چکا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی غیر فطری اور غیر اسلامی تحریکیں چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ اسلام کے دشمن ہیں کیوں کہ انھوں نے اسلام کو ساری دنیا میں بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ لوگوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کو ناقابل عمل، غیر مہذب، تشدد پسند، رجعت پسند قرار دے دیں۔