سر سید فارمولا
Al-Risala, June 1996, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
سر سید احمد خاں برٹش دور حکومت میں ۱۸۱۷ میں پیدا ہوئے ، اور اسی زمانہ میں ۱۸۹۸ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے سو سال بعد چھپنے والی ایک انسائیکلو پیڈیا میں ان کے بارہ میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں_ سر سید احمد خاں ، انیسویں صدی میں انڈیا کے سب سے بڑے مسلم لیڈر :
Sir Sayyid Ahmad Khan, India's greatest 19th century Muslim leader, (9/414). آج مسلمانوں کے ہر طبقہ میں سر سید احمد خاں کو پسند کیا جاتا ہے۔ با ریش گروہ اور بے ریش گروہ دونوں ہی یکساں طور پر سرسید کے قصیدہ خواں ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی تعلیم گاہ کو ملک میں حیات ملی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آج سب ان کے کار ناموں کا کھلے دل سے اعتراف کر رہے ہیں۔ کوئی ان کو سید والا گہر کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ کوئی ان کو معمار قوم کا لقب دے رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو مسلمان آج آزاد ہندوستان کے ہریجن ہوتے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
مگر انہیں سرسید کو اپنے زمانہ میں کافر ، ملت فروش اور دشمنان اسلام کا ایجنٹ مولانا الطاف حسین حالی نے سرسید کا ساتھ دیا اور ان کے بارہ میں کتابیں لکھیں تو اکبر الہ آبادی نے دونوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا :
سید کی داستان کو حالی سے پوچھیے غازی میاں کا حال ڈفالی سے پوچھئے قدیم وجدید میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب سادہ طور پر یہ ہے کہ آج کے مداحین سرسید کو ان کے مستقبل میں دیکھتے ہیں۔ اور ماضی کے ناقدین سرسید کو ان کے حال میں دیکھ
ہر مصلح ہمیشہ اسی طرح دو طرفہ انجام سے دوچار ہوا ہے ۔ ہر انقلابی مصلح کو اس کے معاصرین کی طرف سے سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اس کی اصلاحی
کوششوں کے نتائج سامنے آجاتے ہیں تو بعد کے لوگ اس کے قصیدہ خواں بن جاتے ہر مصلح اس دنیا میں انسانوں کی اسی کوتاہ نظری کا شکار ہوا ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ منظر اتنا عام ہے کہ پیغمبر جیسی مقدس ہستیاں بھی اس عمومی انجام سے مستثنیٰ نہیں حقیقی لیڈر کی تعریف یہ ہے کہ وہ حال میں مستقبل کو دیکھ سکے۔ ایسا لیڈر جو بات کہتا ہے وہ مستقبل کے لحاظ سے کہتا ہے۔ وہ ایسا منصوبہ پیش کرتا ہے جس کا مثبت انجام بہت بعد کو نکلنے والا ہوتا ہے۔ اب جن لوگوں کی نظریں حال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہیں، جو ظاہری مسائل کو جانتے ہیں مگر ان کی تہہ میں چھپے، ہوئے امکانات سے باخبر نہیں ہوتے، ایسے لوگ صرف سطحی لیڈروں کو سمجھ پاتے ہیں جو انھیں سامنے کے مسائل میں الجھائیں۔ وہ ان سچے لیڈروں کی اہمیت کو جان نہیں پاتے جو مستقبل کی تعمیر کاگہرانقشہ ان کے سامنے پیش کریں۔ معاملہ سرسید احمد خاں کے ساتھ پیش آیا۔
سرسید احمد خاں کا زمانہ وہ ہے جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ہمارے تمام اکابر اس زمانہ کو غلامی کا زمانہ کہتے تھے۔ مولا نا قاسم نانوتوی، مولانامحمودحسن دیوبندی، مولا نا شبلی نعمانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولا نا حسین احمد مدنی ، غرض اس دور کے جتنے بھی رہنما تھے ، سب کے سب نفرت کی حد تک انگریزوں کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ ان کے نزدیک انگریزی حکومت کی موجودگی میں مسلمانوں کے لئے کسی ترقی یا کامیابی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ مولانا محمدعلی تو غلام ہندوستان میں مرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے ۔ اقبال نے اس سے آگے بڑھ کر کہا کہ غلامی ایسی بری چیز ہے کہ وہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت ہی کو ابدی طور پر لوگوں سے چھین لیتی ہے :