Al-Risala · June 1996

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

Al-Risala, June 1996, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر سرسید کا معاملہ یہ تھا کہ وہی انگریز جس کو تمام لوگ دشمن اسلام کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے، اسی انگریز میں انھوں نے دوستی کے پہلو تلاش کر لئے ۔ وہ ہی ہندوستان جس کو لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کا پورا طبقہ صرف غلام ، ہندوستان بتا رہا تھا ، اسی غلام

ہندوستان میں انھوں نے آزادی کے مواقع کی نشاندہی کی۔ سرسید کی ترجمانی کرتے ہوئے مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں کہا:

حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سدا سر کھلی ہیں بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ جو کچھ ہے دنیا میں تعلیم ہی ہے غلامی کے اندر آزادی کی اس نشاندہی کا مطلب کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں اگر چہ انگریزوں کی سیاسی محکومی کا مسئلہ ہے، مگر عین اسی وقت یہاں تعلیمی اور اقتصادی آزادی بھی موجود ہے۔ سیاسی مسئلے کے باوجود اس ملک میں تمہارے لئے یہ موقع ہے کہ تم غیر سیاسی میدانوں میں محنت کر کے اپنے لئے ایک باعزت اور خوش حال زندگی بنا سکو۔

دوسرے لفظوں میں، سرسید کے مخالفین صرف مسلئہ انگریز کو دیکھ رہے تھے، وہ اسی مسئلہ کو سب کچھ سمجھ کر اس سے لڑنے کی باتیں کرتے تھے، کیوں کہ ان کے نزدیک جب تک انگریز کا سیاسی مسئلہ ختم نہ ہو کوئی ترقیاتی کام سرے سے کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ کی گہری نگاہ نے دیکھا کہ یہاں اگر مسائل ہیں تو اسی کے ساتھ اور عین اسی وقت یہاں مواقع بھی قانون فطرت کی زبان میں انھوں نے لوگوں کو یہ فارمولا دیا کہ ـــــــــ مسائل کو نظر انداز کرو ، اور مواقع کو استعمال کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ سرسید کے زمانہ میں اس فارمولے کی حکمت آنکھ والوں کو بھی نظر نہیں آتی تھی۔ سال کے تجربہ کے بعد آج بے آنکھ والے بھی دیکھ رہے ہیں کہ سرسید کی نشاندہی نہایت اپنے حال میں بظاہر سرسید کافارمولا بزدلی اور بے عملی نظر آتا تھا۔ کے نتیجہ نے بتایا کہ وہ عین حکمت اور سراپا عمل تھا۔ بلکہ وہ واحد ممکن تدبیر تھی۔ اور اگر اول مرحلہ میں اس تدبیر کو پوری طرح اختیار کر لیا جاتا تو یقیناً مسلمانوں کی حالت اس سے بہت زیادہ مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دے رہی ہے۔

مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ماضی سے بہت کم سبق لیتا ہے۔ چنانچہ آج دوبارہ ہر طرف اس کوتاہ بینی کا دور دورہ ہے جو سرسید کے زمانہ میں یہاں پائی جاتی تھی۔

ماضی کے سرسید کے قصیدہ خواں ہیں لیکن حال میں اگر کوئی خدا کا بندہ سرسید کے فارمولے کو منطبق کرنے والی بات کرے تو دوبارہ اسی طرح وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جس طرح ماضی میں وہ سرسید کے دشمن بنے ہوئے تھے ۔

اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ مقابلہ اور مسابقت کے ماحول کی وجہ سے یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان زندگی کی دوڑ جاری رہتی ہے۔ کبھی کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کبھی کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال ہابیل اور قابیل کے زمانہ سے ہے اور وہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گی۔ یہ نظامِ خود خدا کا قائم کیا ہوا ہے، اور کسی بھی حال میں اس میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کبھی اور کسی کے لئے بھی ایسی نہیں ہو سکتی کہ اس کے لئے سب کچھ اچھا ہو اور کوئی نا خوشگوار چیز سرے سے یہاں موجود نہ ہو۔

تاہم اس دنیا کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں یہاں ایک نہ بدلنے والی صورتِ حال بھی ہمیشہ باقی رہے۔ وہ یہ کہ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے دوران جب ایک گروہ کو پیچھے دھکیلا جائے تو عین اسی وقت خود حالات کے تقاضے کے تحت اس کے لئے نئے امکانات بھی ظاہر ہو جائیں۔ چھینے والا جب اس سے ایک زینہ چھینے تو فطرت کا قانون اس کے لئے ایک اور راستہ کھول دے جس کے ذریعہ چل کر وہ دوبارہ آگے جا سکتا ہو۔

۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ تب بھی یہاں یہی صورتِ حال قائم تھی ، آج جب کہ یہاں "اکثریتی فرقہ "کا غلبہ ہے تب بھی یہی حالت یہاں موجود ہے۔ پچاس سال پہلے جب بر صغیر ہند ایک تھا تب بھی یہی حالت تھی ، آج جب کہ برصغیر کے تین ٹکڑے ہو گئے ہیں تب بھی تینوں جگہ یہی حال ہے۔ ہر جگہ کچھ نئے یا پرانے مسائل ہیں، اور اسی طرح ہر جگہ کچھ نئے یا پرانے مواقع بھی۔

آپ خواہ یورپ اور امریکہ جائیں یا عرب دیشوں اور مسلم دیشوں میں جائیں ، ہر جگہ آپ کو ظاہری فرق کے ساتھ عین یہی صورتِ حال ملے گی ۔ یہ فطرت کا قانون ہے،

اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس قانون میں زمانہ کے فرق کے کوئی فرق واقع ہوتا اور نہ جگہ کے فرق سے کوئی فرق۔

ایسی حالت میں کرنے کا کام کیا ہے۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ حالات کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے حالات کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے، حالات کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے حالات کے ساتھ ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ سرسید کا مذکورہ بالا فارمولا دراصل اسی ہم آہنگی کے طریقہ کا دوسرا نام ہے۔

یہ دنیا جب مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے تو یقینی طور پر وہ کبھی مسائل سے خالی بھی نہیں چنانچہ جس طرح دوسرے تمام زمانوں میں مسائل موجود تھے، اسی طرح آج بھی یہاں مسائل یہ مسائل نظام فطرت کی بنا پر ہیں نہ کسی کے ظلم اور تعصب کی بنا پر۔ فطرت ہی کا بنایا ہوا نظام یہ بھی ہے کہ جب بھی دنیا میں مسائل ہوں تو عین اسی وقت وہاں مواقع بھی موجود ہوں۔ ایسی حالت میں عقل و حکمت کا تقاضا صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو دریافت کرکے انھیں استعمال کیا جائے : Ignore the problems, avail the opportunities. اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد فارمولا ہے۔ جب بھی کسی شخص یا گروہ نے اس دنیا میں کامیابی حاصل کی ہے تو اسی فارمولے پر چل کر کامیابی حاصل کی ہے۔ بھی جو لوگ اس دنیا میں کوئی کامیابی حاصل کریں گے تو وہ بھی اسی فارمولے پر چل کر حاصل مسائل سے لڑنے والے لوگ اس دنیا میں ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ اور مواقع کو استعمال کرنے والے لوگ ہمیشہ کامیاب۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کی کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں نہ ہندوستان میں اور نہ کسی دوسرے ملک میں۔ نہ آج اور نہ آج سے سیکڑوں سال بعد۔

Printed page