Al-Risala · January 1996

اسلامی لٹریچر کی ترتیبِ جدید

Al-Risala, January 1996, pp. 26–30

By Maulana Wahiduddin Khan

دورِ اول میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، وہ سب کا سب دور اقتدار میں تیار ہوا۔ اس کا نتیجہ فطری طور پر یہ تھا کہ وہ زمانی حالات سے متاثر ہو گیا۔ مثال کے طور پر شاتم رسولؐ کی سزا کے مسئلہ پر متعدد کتابیں ہمارے اسلامی کتب خانہ میں موجود ہیں۔ یہ سب کی سب دور اقتدار میں لکھی گئی ہیں، مثلاً : ابن تیمیہ الحرانی ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول ابن عابدین الشامی ، تنبيه الولاة والحكام على احكام شاتم خير الانام

تقی الدین ابوالحسن علی السبکی، (السيف المسلول علی من سب الرسول ان کتابوں میں بے دریغ طور پر شاتم رسول کے بارے میں اسلام کا یہ حکم بتایا گیا ہے کہ وہ بطور حد قتل کیا جائے گا (يُقتل حداً) سب وشتم کرنے والا قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ( ان السابّ يُقتل سواء كان مسلماً او کافراً)

یہ کتابیں جب لکھی گئیں ، اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اس وقت کا مفتی اور عالم اس پوزیشن میں تھا کہ اس کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ واقعہ بن جائیں ۔ چنانچہ اسی احساس کے تحت یہ تمام کتابیں لکھی گئیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں دو ایسی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں جن سے ہمارا قدیم مفتی یا عالم مکمل طور پر بے خبر تھا۔ ایک یہ کہ آج مسلمان مغلوب ہیں اور ہر قسم کا غلبہ ان قوموں کی طرف چلا گیا ہے جن کے مذہب کا اولین مقدس اصول یہ ہے کہ انسان کو لامحدود طور پر اظہار خیال کی آزادی حاصل اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی کی تصنیف پر اس کو شاتم قرار دے کر اس کے قتل کا فتویٰ دیں تو فوری طور پر وہ شخص ان غالب قوموں کا ہیرو بن جاتا ہے ۔ یہ قومیں اپنے اعلیٰ وسائل کے ساتھ اس طرح اس کی حمایت پر آجاتی ہیں کہ مسلمان عوام اور خواص سب کے سب ان کے مقابلہ میں بے بس ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح قتل کا فتویٰ صرف ایک مضحکہ خیز ، لفظی اعلان بن کر رہ جاتا ہے ۔ دوسری اس سے بھی زیادہ شدید بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک بالکل نئی طاقت ظہور میں آئی ہے جس کو میڈیا کہا جاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ، دونوں ہی مکمل طور پر انھیں غالب قوموں کے ہاتھ میں ہیں ۔ اس کے ذریعہ وہ مسلم علماء کے فتووں کو ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کی بنیاد پر وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے جو بات بات پر لوگوں کو مارنے اور قتل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ اسلام امن کا مذہب نہیں ہے بلکہ تشدد کا مذہب ہے ۔ اس طرح شاتم کو قتل کرنے کے موجودہ فتوے تو قتل نہ کر سکے ۔ البتہ وہ شدید طور پر اسلام کی بدنامی کا سبب بن گئے ۔ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter-productive) ثابت ہوئے ۔

حالاں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں خود اسلام میں حالات کے اعتبار سے فرق کیا گیا چنانچہ ابن تیمیہ اور دوسرے حضرات شاتم کی سزا کے جتنے بھی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں وہ سب مدنی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اس دور سے جب کہ اسلام کو با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی اس کے برعکس مکی دور میں جب کہ اقتدار اعلیٰ اسلام کے ہاتھ میں نہیں تھا، ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے علی الاعلان بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذتم کہا (معاذ اللہ مبینا) مگر نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتم کی حد بیان فرمائی اور نہ آپ کے اصحاب دوڑے کہ اس شاتمہ کو قتل

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذکورہ قسم کی کتابوں میں بعد کے زمانہ میں پیش آنے والے حالات کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتابیں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود، موجودہ زمانہ کے اعتبار سے غیر متعلق ہو کر رہ گئی ہیں ۔ یہی کم و بیش اس پورے تصنیفی ذخیرہ کا حال ہے جس کو آج اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر آپ کسی مستند تفسیر کو پڑھیے۔ آپ پائیں گے کہ اس میں صبر و اعراض کی آیتوں کو منسوخ بتایا گیا ہے۔ مثلاً القرطبی کی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں واعرض عن المشرکین کے تحت لکھا ہوا ہے کہ وہ منسوخ ہے: هو منسوخ بقوله فاققتلوا المشركين (۶۲/۱۰) اسی طرح آیت واصبر وما صبرک إلا بالله کے تحت درج ہے کہ جنگ کی آیت نازل ہونے کے بعد وہ منسوخ ہو گئی : ھی منسوخة بالقتال (۲۰۲/۱۰)

صبر و اعراض اسلام کا اہم ترین حکم ہے۔ قرآن میں کہیں بالواسطہ انداز میں اور کہیں براہ راست طور پر اس کی تاکید کی گئی ہے۔ حتی کہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ پورا قرآن کتاب صبر ہے۔ مگر جو آدمی تفسیر کی ان کتابوں کو پڑھے اس کا عام تاثر فطری طور پر یہ ہوگا کہ صبر و اعراض کی آیتیں اب صرف تلاوت کے لیے اب ہم سے متعلق جو قرآنی حکم ہے وہ صرف جہاد و قتال ہے۔ صبر و اعراض کا حکم کمزوری کے دور میں تھا، اب مسلمان طاقتور ہیں۔ اب ہمیں صبر نہیں کرنا ہے، بلکہ لڑکرغیراسلامی عناصر کو زیر کرنا ہے ۔ اسی طرح حدیث کی کتابیں بے شمار قیمتی تعلیمات سے لبریز ہیں، مگر اپنی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے وہ غلط فہمی کا باعث بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صحاح ستہ یا حدیث کی اور کوئی مستند کتاب

اٹھا کر دیکھیں ، اس میں آپ کو دعوت و تبلیغ کا باب یں ملے گا ۔ موجودہ کتب حدیث میں ، باعتبار ترتیب ، ہر قسم کے ابواب ہیں ، مگر دعوت و تبلیغ کا باب ان میں سرے سے موجود نہیں ۔ جو لوگ ان کتب حدیث کو پڑھتے ہیں ، قدرتی طور پر تراجم ابواب کے تحت انہیں پڑھتے اس طرح ان کو پڑھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر قاری کے اندر غیر دعوتی ذہن بنتا ہے ۔ جہاد و قتال کے ابواب سے تو وہ خوب آشنا ہو جاتا ہے ۔ مگر دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے وہ یکسر غافل رہتا ہے ۔

اسی طرح سیرتِ رسول پر لکھی جانے والی کتابوں کو دیکھئے ۔ سیرت کی تقریباً تمام مستند کتابیں غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں ۔ ابن ہشام کی مشہور چار جلدوں کی سیرت کا ایک جلد سے کچھ نہ زیادہ حصہ ۱۲ سالہ مکی دور پر ہے ، اور بقیہ تقریباً تین جلدیں ۱۰ سالہ مدنی دور پر ۔ مدنی دور کے ابواب کی ترتیب سیرت کی تمام کتابوں میں غزوات کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ حتیٰ کہ سیرت کی ابتدائی کتابوں کا نام ہی " مغازی " ہوا کرتا تھا ۔ اگرچہ بعد کی کتابوں کے نام مغازی پر نہیں رکھے گئے ، مگر عملاً سیرت کی تقریباً تمام کتابیں مغازی ہی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

تاریخ تک پہنچ کر یہ صورتِ حال اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے ۔ کیوں کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابیں ، تقریباً بلا استثناء ، جنگ آزمائی اور کشور کشائی کی داستان نظر آتی ہیں ۔ یہ سیاسی فتح و شکست اور بادشاہوں کی موت و حیات کا بیان ہو کر رہ گئی ہیں ۔ علامہ ابن خلدون نے پہلی بار اسلامی تاریخ کی اس کمی کا احساس کیا ۔ اور وہ وسیع تر انداز میں اسلام کی جامع تاریخ لکھنا چاہا ۔ انھوں نے اپنے مقدمۂ تاریخ میں کامیابی کے ساتھ اس جدید تاریخ کے اصول مقرر کیے ۔ مگر وہ خود بھی اس انداز پر اسلام کی تاریخ مرتب نہ کر سکے ۔

بعد کے دور میں جو کتابیں لکھی گئیں ( گئیں(صوفیاء کی غیر معتبر کتابوں کو چھوڑ کر ) تقریباً سب کی سب اسی نہج پر تھیں ۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کو مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے ایک معرکہ الآر اء کتاب بتایا ہے ، اور لکھا ہے کہ اس میں دین و نظام شریعت کا نہایت مربوط ، جامع اور مدلل نقشہ پیش کیا گیا ہے ( صفحہ ۲۱۵ )

مگر اس کتاب کا حال یہ ہے کہ اس میں مسواک اور سُترہ تک کے ابواب ہیں ۔ مگر اس میں

دعوت و تبلیغ کا سرے سے کوئی باب ہی نہیں ۔ اس کے برعکس اس میں جہاد و قتال کو سب سے زیادہ اہم اسلامی عمل بتایا گیا ہے ۔ یہ یقینی طور پر زمانی حالات کے زیراثر ہے۔ کمیونکہ کیونکہ ابدی تناظر میں اسلام کی سب سے بڑی خارجی تعلیم دعوت ہے ، اور جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک اتفاقی یا نسبتی عمل ہے ۔ یعنی دعوت کا عمل علی الاطلاق طور پر ہر حال میں جاری رہتا ہے ۔ جب کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف مخصوص شرائط و احوال میں وقتی طور پر مطلوب ہوتا ہے ۔

عام تاثر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ایک جنگ جو قوم بن گئے ہیں ۔ اس جنگ جوئی میں کوئی براہ راست طور پر شریک ہے اور کوئی بالواسطہ طور پر ۔ مسلمانوں کے محبوب رہنما اقبال نے اس ذہن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا :

تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا مسلم نو جوان آج کل ساری دنیا میں گن اٹھائے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم دانشور اور علماء اس کو عملاً جہاد کہہ کر یا کم از کم خاموش رہ کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں ۔ ان نوجوانوں کا ترانہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے :

Printed page