Modesty, thanksgiving, submission, peace,
Al-Risala, June 1996, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد ڈاکٹر مہیش چندر شرما نے کہا کہ اب روزہ کے بارہ میں کچھ بتائیے۔ کہا کہ روزہ کے لئے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے لفظی معنی ہیں رک جانا (abstinence) روزہ کی بھی ایک ظاہری صورت ہے۔ اور دوسری چیز اس کی حقیقت ہے۔ روزہ کی ظاہری صورت تو آپ کو معلوم ہے۔ اس کی اسپرٹ یا اس کی حقیقت پر ہیز گاری ہے۔ یہی مطلب ان لفظوں کا ہے جس کو ابھی ہم نے افطار کرتے ہوئے اپنی زبان سے ادا کیا۔ وہ الفاظ ہیں : اللھم لک صمت وعلى رزقك أفطرت۔ یعنی اے اللہ، میں نے تیرے کہنے سے روزہ رکھا، اور تیرے کہنے سے میں نے افطار کیا۔
انسان خدا کا بندہ ہے۔ اس لحاظ سے اس کو چاہئے کہ وہ خدا کی اطاعت گزار بنے مگر خدا جبری اطاعت کے بجائے آزادانہ اطاعت چاہتا ہے جو زیادہ اونچی صفت ہے۔ خدا نے ہم کو زمین پر پوری آزادی دیدی ہے۔ اب خدا چاہتا ہے کہ ہم کسی جبر کے بغیر خود اپنے ارادہ اور فیصلہ سے خدا کے حکموں کے پابند بن جائیں۔
یہ آزادی گویا انسان کی اخلاقی ترقی کا ایک کورس ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ انسان کے اندر خود انضباطی (self-discipline) کی صفت پیدا ہو۔ ہر انسان ایک با اصول انسان وہ فطرت کے مقرر اصول کے مطابق، خود اپنے ارادہ سے برائی کو چھوڑ دے،
اور خود اپنے ارادہ سے بھلائی کو اختیار کرے۔
روزہ میں آدمی خود اپنے فیصلہ کے تحت صبح کو کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، اور پھر شام کو خود اپنے فیصلہ کے تحت دوبارہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ یہ علامتی طور پر اسی آزادانہ اطاعت کی تربیت ہے۔ روزہ کا سبق یہ ہے کہ تم ایک با اصول زندگی گزارو، بغیر اس کے کہ خارج سے تمہارے اوپر کوئی جبر کیا گیا۔ تم اپنے دل میں اچھے خیالات رکھو اور برے خیالات کو اپنے اندر سے نکال دو۔ تم اچھی بات بولو اور بری بات کے لئے اپنی زبان بند کر لو۔ اچھا عمل کرو اور برے عمل سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے روک لو۔ اور یہ سب خود اپنے آزاد ارادہ کے تحت ہو، نہ کہ کسی مجبوری کے تحت۔
آخر میں جب لوگ واپس جانے لگے تو ان کو یہی سائز کی نہایت خوبصورت چھپی ہوئی کتاب بطور تحفہ دی گئی۔ یہ الرسالہ بک سنٹر سے چھپی ہوئی تازہ انگریزی کتاب تھی جس میں دو سو احادیث رسول کے انگریزی ترجمے آرٹ پیپر پر چھاپے گئے ہیں؛ اس کا نام یہ ہے : Words of the Prophet Muhammad Selections from the Hadith ۱۲ صفحہ کی اس کتاب کے آغاز میں ایک صفحہ کا دیباچہ (Foreword) ہے۔ آخری پیرا گراف یہ ہے کہ ان حدیثوں میں وہ چند اصول بتائے گئے ہیں جن کی طرف پیغمبر نے اپنے ماننے والوں کو رہنمائی دی۔ یہ سب ابدی اصول ہیں۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ ساری انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں :
The following are some of the principles by which the Prophet sought to guide his followers. Eternal in essence, they are of value not only to Muslims but to humanity at large.