ایک سفر
Al-Risala, June 1996, pp. 26–31
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن میں روحانی اتحاد (Festival of Spiritual Unity) کے نام سے ایک عمومی جلسہ ہوا۔ وہ ۳۰ جولائی سے ۷ اگست تک جاری رہا۔ اس کو لندن میں مقیم ہندوستان کی ایک تجارتی فیملی مادھوانی پریوار (Madhvani Family) نے اسپانسر کیا تھا۔ اور اس کے آرگنائزرسوامی چید انند تھے۔ اس کی دعوت پر انگلینڈ کا سفر ہوا۔
اس سفر کا پہلا تجربہ ۲۱ جولائی کو پیش آیا۔ ویزا کے سلسلہ میں مجھے نئی دہلی کی برٹش ایمبیسی جانا پڑا۔ وہاں پہنچا تو ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔ اس کے باوجود ہندوستانیوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ وہاں لائن میں کھڑی ہوئی نظر آئی ۔ یہ لوگ برطانیہ میں پیسہ کمانے کے لئے جا رہے تھے۔ ایک صاحب کی بات سن کر میں نے اپنے دل میں کہا : آج کی دنیا میں ہر آدمی آئیڈیل کی بات کرتا ہے۔ مگر ہر آدمی اپنے مفاد کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا مفاد دولت ہے ، کسی کا اقتدار اور کسی کا شہرت اور
آخری دن جب کہ میں دہلی میں اپنی روانگی کی تیاری کر رہا تھا ، ایک صاحب کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ فلاں بزرگ صاحب اس وقت دہلی میں ہیں۔ بزرگ کے لئے لندن سے اسپانسر شپ کا کاغذ آیا ہے۔ حضرت دعوتی اور تربیتی نظام کے تحت لندن جانا چاہتے ہیں مگر ویزا کے لئے برٹش ایمبیسی جانا حضرت کے مزاج کے مطابق یں۔ اس لئے برٹش ایمبیسی میں ٹیلیفون کر کے کہیں کہ حضرت کو شخصی حاضری سے مستثنیٰ کر دیا جائے ۔ حالاں کہ نہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ خدام جب ایسی تجویز پیش کریں تو حضرت یہ کہہ اسے رد کر دیں کہ نہیں، میں خود سفارت خانہ جاؤ ں گا تاکہ لوگوں سے میرا اختلاط ہو اور جس ملک میں میں جا رہا ہوں اس کے بارہ میں مجھے براہ راست معلومات حاصل ہوں ۔ اسی دوری کایہ نتیجہ ہے کہ ہمارے بزرگ حالات حاضرہ سے بے خبر رہتے ہیں۔ ان کے کلام میں حالات حاضرہ کا عرفان شامل نہیں ہوتا۔ سننے والے بھی ان کی باتوں کو صرف تبرک کے لئے سن لیتے ہیں اور بس ۔ ایسے اسفار کو دعوتی اسفار کہنے کے بجائے برکتی اسفار کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔
۲۸ جولائی کی شام کو جب کہ میں روانگی کے لئے تیاری کر رہا تھا ، اچانک خوف ناک
گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ کھڑکیوں کے دروازے بجنے لگے۔ گھر ہلنے لگا۔ یہ زلزلہ تھا۔ گھر کے چھوٹے بڑے سب ڈر گئے۔ ایک بچی رونے لگی۔ میرا ڈھائی سالہ پوتا عدنان بھی گھبرا اٹھا۔ وہ میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ دادا، یہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ زلزلہ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ بولا کہ دادا آپ زلزلہ کو ڈنڈے سے مار دیجئے۔
گھر میں کبھی بلی آتی ہے تو عدنان کہتا ہے کہ دادا، بلی کو مار دیجئے۔ میں اپنی چھڑی سے اس کو بھگا اس پر قیاس کر کے اس نے سمجھا کہ دادا زلزلہ کو بھی مار سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ زلزلہ اللہ کی طرف سے آتا ہے اور وہی اس کو روک سکتا ہے۔ میں یا تم اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ زلزلہ کا مرکز اندر اگاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب تھا۔ اس کی وجہ سے کچھ معمولی نقصانات دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں دو اونچے میناروں کے علاوہ کچھ چھوٹے مینار ہیں۔ چھوٹے مینار کا اوپر کا حصہ ٹوٹ کر نیچے گر پڑا ۔
۲۸ جولائی کی شام کو، انکے گھر سے ایئر پورٹ کے لئے روانگی تھی۔ روانگی سے پہلے سعودی عرب کے شیخ عبد العزیز بن عبداللہ العمار اور سعودی سفارت خانہ کے دو ذمہ دار ملاقات کے ان کے ساتھ مولانا عبد الله مدنی جھنڈا نگری بھی تھے۔ دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ ان سے پوچھا کہ آپ نے اکثر ملکوں کا سفر کیا ہے، اسلام کے اعتبار سے کس ملک کو آپ نے زیادہ بہتر انھوں نے کہا کہ یہ اضافی معاملہ ہے، کوئی کسی اعتبار سے بہتر ہے اور کوئی کسی اعتبار سے بہتر۔ پر کسی ایک ملک کو زیادہ بہتر نہیں کہا جاسکتا۔
انھوں نے ایک نئی بات یہ بتائی کہ فلپائن کا موجودہ شہر منیلا حقیقتہ امان اللہ تھا۔ میں اس کا یہی نام تھا۔ بعد کو جب اس علاقہ سے مسلمانوں کو نکالا گیا تو جہاں اور چیزیں بدل گئیں وہاں شہر کا نام بھی بدل گیا۔ میں نے سوچا کہ تاریخ میں کتنی ایسی چیزیں ہیں جن کے تشخص کو لوگوں نے بدل آخرت میں جب ہر چیز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نمایاں ہوگی تو وہی کیفیت ہوگی جس کو ایک شاعر نے اس طرح کہا ہے :
لوگ محشر میں حیران رہ جائیں گے کہ تھی بات کیا ہم نے سمجھا تھا کیا گھڑی میں گیارہ بج رہے ہیں۔ میں دہلی ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ انسانوں کا ہجوم
ہر طرف آتا جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ہر ایک کے ساتھ بھاری بھاری بوجھ ہے۔ مگر ہر ایک مخصوص پہیے دار گاڑی پر اپنا سامان رکھے ہوئے ہے۔ چکنے اور ہموار فرش پر اس کی گاڑی پھسلتی ہوئی چلی جارہی ہے۔ پہیہ دار گاڑی نہ ہو تو ان سامانوں کو لے کر چلنا سخت مشکل ہو جائے۔ کسی نے کہا ہے کہ" سب سے بڑی ایجاد پہیہ ہے" یہ بالکل درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس انسان نے پہلی بار پہیہ بنایا اس نے تاریخ انسانی کو ایک عظیم بڑھاوا عطا کیا۔ پہیہ کی ایجاد سے پہلے انسان کی تمدنی تاریخ ٹھہری، ہوئی حالت میں تھی۔ پہیہ کی ایجاد نے اس کو ترقی کے سفر پر رواں دواں کر دیا۔ ایئرپورٹ پر سوامی ویوگانند سرسوتی سے ملاقات ہوئی۔ وہ گنگوتری میں رہتے ہیں ۔ ان کو سنیاس لئے ہوئے ۴۵ سال ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ سنیاس جیون میں تو بڑا آنند آتا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گونگے کا گڑ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس کو شبدوں میں نہیں کہا جا سکتا، بہت کہا جاتا ہے، پر وہ کہنے میں نہیں آتا۔ انھوں نے جواب دیا۔
ان کی باتیں سننے کے بعد میں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے لمبی تپسیا کی ہے۔ بہت نرمی سے جواب دیا: اور تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بس اتنا کہوں گا کہ جب ہوش آیا تو پتہ چلا کہ ہورہا ہے، کیا کچھ نہیں ہے۔
دہلی سے لندن کے لئے برٹش ایئرویز کی فلائٹ نمبر ۴۱ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ مقرروقت ساڑھے ۱۲ بجے تھا۔ گھڑی کی ایک سوئی بارہ پر تھی اور دوسری سوئی ۶ پر کہ جہاز میں حرکت شروع ہوئی۔ چند منٹ کے بعد ہم زمین سے بلند ہو کر فضا میں پہنچ چکے تھے۔ اسی کے ساتھ کیلنڈر میں تاریخ بھی بدل گئی تھی ۔ ہم گھر سے نکلے تو جولائی کی ۲۸ تاریخ تھی، مگر اب ہم جولائی کی ۲۹ تاریخ میں داخل ہو چکے تھے۔
راستہ میں برٹش ایئر ویز کامیگزین ہائی لائف (High life) کا شمارہ جولائی ۱۹۹۴ دیکھا۔ اس میں ایک مضمون جدید کشتیوں کے بارہ میں تھا۔ اس کا عنوان تھا ڈریم بوٹس (Dream boats) ۔ مضمون میں جدید طرز کی آرام دہ کشتیوں (Luxurious Yacht) کی خوشنما تصویریں تھیں اور ان کے بارہ میں ضروری تفصیلات درج تھیں۔ یہ کشتیاں انسانی انہوسی حد تک آرام دہ اور خوبصورت ہوتی ہیں۔ دیکھ کر مجھے اپنا وہ ۶۰ سال پہلے کا زمانہ یاد آیا جب میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا جو ایک ندی کے
کنارے آباد تھا۔ اس زمانہ میں ہم لکڑی کی بنی ہوئی سادہ کشتی پر بیٹھا کرتے تھے جو لمبے بانس کے ذریعہ چلائی جاتی تھی۔ اس وقت دور دور تک بھی میرے تصور میں نہ تھا کہ موجودہ ڈریم بوٹ جیسی کشتیوں کا وجود بھی کہیں ہوگا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آج کی دنیا کے مقابلہ میں کل کی دنیا کا بھی ہے۔ یہ کافی بڑا جہاز تھا۔ میں نے ایک ایئر ہوسٹس سے پوچھا کہ اس جہاز میں کتنی سیٹ ہے۔ کہا کہ میرا خیال ہے کہ ۴۵۰ سیٹیں ہوں گی۔ مگر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ میں نے دوبارہ فلائٹ انجینئر سے پوچھا اس نے کہا کہ اس میں کل ۴۲۰ سیٹیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ باتوں کو کتنا کم جانتے ہیں۔ پورا جہاز بھرا ہوا نظر آیا۔ مسافروں میں زیادہ تر بنگلہ دیشی اور ہندوستانی تھے۔ اتنے زیادہ ہندوستانی کس لئے لندن جا رہے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ مزدوری کرنے کے لئے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں غیر ترقی یافتہ ملکوں کے جو لوگ ہیں، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا ڈاکٹر اور پروفیسر، سب ان ملکوں کے مزدور ہیں۔ وہ ان ملکوں کی اقتصادی مشین کو چلا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ اپنے ملکوں کے مقابلہ میں یہاں ان کو کچھ زیادہ اجرت مل جاتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے انگریزوں کی محکومی سے نجات حاصل کرنے کے لئے بے حساب قربانیاں دیں، مگر یہ عظیم جدوجہد جب کامیابی کے مرحلہ کو پہنچی تو جو فرق ہوا وہ صرف یہ تھا کہ جو لوگ پہلے ہم کو سیاسی محکوم بنائے ہوئے تھے، اب انھوں نے ہم کو اپنا اقتصادی مزدور بنالیا۔
یہ دہلی سے لندن کے لئے نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ جہاز بلندی پر پرواز کرتا ہوا تیزی سے منزل کی طرف جارہا ہے۔ پائلٹ کچھ کچھ دیر کے بعد اعلان کرتا ہے__ اب ہم پاکستان کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم ایران کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم ترکی کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم بلغاریہ کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم سوئٹزرلینڈ کے اوپر سے گزررہے ہیں۔ اس طرح بلند پروازی کے ساتھ سفر مسلسل جاری رہا۔
میں نے سوچا کہ سفر ہزاروں سال سے انسان کا ایک مسئلہ تھا۔ پیدل، گھوڑا اور کشتی جیسی چیزوں سے انسان سفر کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اہل مغرب نے ہوائی سفر کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ گویا سفر کے مسئلہ کا ایک برتر حل (superior solution) تھا۔ اس دنیا میں وہی لوگ اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں جو کسی مسئلہ کا برتر حل دریافت کر سکیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب کسی قوم یا قوموں کا ظلم نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کی یہ کوتاہی ہے کہ وہ انسانی مسائل کا کوئی برتر حل دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے۔
موجودہ مسلمان اس پوزیشن میں تو نہیں ہیں کہ جاپان کی طرح وہ صنعتی میدان میں کوئی برتر خیز انسان کو دے سکیں۔ البتہ مسلمانوں کے پاس ابدی طور پر ایک "برتر حل" ہے۔ یہ اسلام کی آئیڈیالوجی ہے۔ اسلام فکری اعتبار سے گویا ایک برتر آئیڈیالوجی ہے جو انسان کو اس کے فکری مسائل کا واحد صحیح جواب فراہم کرتا ہے۔ یہاں اسلام اور اہل اسلام کو دوسروں کے اوپر ابدی برتری حاصل ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اور رہنما ان کو احتجاج اور ٹکراؤ میں الجھائے ہوئے ہیں۔ ہے کہ مسلمانوں کو احتجاج اور تکرار کی دلدل سے نکال کر فکری اور نظریاتی میدان میں لایا جائے۔ یہاں اجارہ داری کی حد تک ان کے لئے اعلیٰ مواقع حیات حاصل ہیں، یہاں وہ قوموں کو دینے کی پوزیشن میں ہیں، جب کہ دوسرے پہلوؤں میں وہ صرف لینے والوں کی قطار میں کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ساڑھے نو گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ہم لندن ا یئرپورٹ پر اتر گئے۔ اس وقت دہلی کی گھڑیوں میں ساڑھے نو بجے کا وقت تھا مگر لندن کی گھڑیوں میں اس وقت پانچ بج رہے تھے۔ ویوگانند سرسوتی نے کہا: یہاں آکر مجھ کو پہلا احساس یہ ہوا کہ ہم ساڑھے چار گھنٹے پیچھے ہو گئے ۔ کانفرنس والوں نے بہت اچھا نظم کیا تھا ۔ ہم تین آدمی ہوائی جہاز سے نکلے تو دروازہ پر۔ ایک خاتون ہماری رہنمائی کے لئے کھڑی ہوئی تھیں۔ انھوں نے ایئرپورٹ کے تمام مراحل نہایت آسانی سے طے کرا دیئے۔
ایئرپورٹ پر کافی لوگ موجود تھے۔ ان کے ساتھ کچھ دیر تک ایرپورٹ پر ٹھہرا۔ اس کے بعد مسٹر سامی طیار کے ساتھ ایرپورٹ سے ہوٹل کے لئے روانگی ہوئی۔ مسٹر سامی طیار ایک لبنانی ان کے والد ایک بڑے وکیل ہیں اور لندن میں رہتے ہیں۔ مسٹر سامی لاس اینجلس (امریکہ) میں بزنس کرتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ الاسلام یتحدی کاایک نسخہ لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ پچھلے سال لاس اینجلس کی سیرت کانفرنس میں جب میں نے سیرت پر اپنا مقالہ پیش کیا تھا اس وقت بھی وہ اس اجلاس میں موجود تھے۔ مگر ان سے پہلی ملاقات لندن میں ہوئی ۔ مسٹر سامی کانفرنس کے دوران میرے مساعد کے طور پر متعین کئے گئے ہیں۔ لندن میں میرا قیام گرم ڈائنگ (Grim's Dyke) کے کمرہ نمبر ۳۰ میں تھا۔ یہ ایک تاریخی عمارت ہے جو لندن کے مضافات میں چالیس ایکڑ رقبہ میں واقع ہے۔ اس کی تاریخ ۶۰۰ ق م تک جاتی ہے۔
موجودہ شکل میں اس کو ۱۹۷۸ میں بنایا گیا تھا۔ ۱۹۶۹ سے وہ ہوٹل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ بے حد پر سکون جگہ ہے۔ اس کے چاروں طرف دور دور تک گارڈن ہی گارڈن نظر آتے ہیں۔ تقریباً ۵۰ بیڈروم ہیں۔ وہ ہوٹل سے زیادہ ریزورٹ معلوم ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کو ایک (historical country retreat) سمجھا جاتا ہے۔ وہ اعلیٰ خاندان کی شادیوں، خصوصی ڈنر اور کانفرنس کے لئے مشہور ہے: