Old Redding, Harrow Weald, London HA3 6SH.
Al-Risala, June 1996, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۹ جولائی کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز لندن کی سینٹرل مسجد میں پڑھی۔ ہوٹل سے مسجد تک کار سے آدھ گھنٹہ کا راستہ ہے۔ یہ سفر طے کرتے ہوئے سڑک کے دونوں طرف کے مناظر ایک منظم شہر کی تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہر چیز میں نظم اور سلیقہ نمایاں تھا۔ مثال کے طور پر راستہ میں ایک ٹرک نظر آیا جس پر پیال (دھان کا ڈھنٹھل) بھاری مقدار میں لدا ہوا تھا۔ ہندوستان میں جب بھی میں نے کسی ٹرک پر پیال لدا ہوا دیکھا ہے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی وحشت خیز کوڑا گاڑی سامنے سے گزر مگر یہاں کا منظر مختلف تھا۔ یہ ایک عمدہ اور جدید ٹرک تھا۔ پیال کو مشینوں کے ذریعہ خوبصورت چوکور گانٹھوں کی صورت میں پیک کیا گیا تھا۔ یہ گانٹھیں ٹرک کے اوپر کامل نظم اور ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں جیسے کہ مرصع چوکور بنڈل اس کے اوپر سجا کر رکھ دئے گئے ہوں۔ سینٹرل مسجد میں ہم لوگ ایک بجے پہنچے۔ اس وقت لاؤڈ اسپیکر پر قرات ہو رہی تھی۔ بجے“ الفاتحہ” کے ساتھ قرات ختم ہوئی ۔ اذان کے بعد ۱۰ منٹ کے اندر لوگوں نے سنتیں پڑھیں. اس کے بعد امام نے طویل خطبہ دیا۔ پہلا خطبہ عربی میں تھا اور دوسرے خطبہ کا بڑا حصہ انگریزی میں۔ کے بعد امام نے سلام پھیرنے سے پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ بلند آواز سے کہا۔ اس کے بعد دائیں طرف منہ کر کے ایک بار صرف السلام علیکم کہا۔ البتہ مؤذن نے دونوں طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔ وسیع مسجد اندر اور باہر، اوپر اور نیچے ہر طرف بھری ہوئی تھی۔ قرات فاتحہ کے بعد آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ نمازیوں میں بڑی تعداد عربوں کی ہے۔ بعد مسجد سے باہر نکلے تو یہاں چندہ مانگنے والوں کا ہجوم تھا۔ کوئی پوسٹر بانٹ رہا تھا۔ کوئی بلند آواز سے کوئی امدادی اعلان کر رہا تھا۔ ایک صاحب جو غالباً الجزائر کے لئے تعاون مانگ رہے تھے، وہ چیخ چیخ کر
کہہ رہے تھے: این حكام العرب من بوسنة، این حكام العرب من كشمیر۔ بوسنیا کے لئے امداد کا بورڈ لگائے ہوئے تھے۔ اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: Bosnia needs action not pity. بورڈ پر بوسنیا کے ٹوٹے ہوئے مکانات اور دوسرے تباہی کے مناظر تھے۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ اپنی زندگی کا مقابلہ ان سے کیجئے: