Al-Risala · June 1996

The two world knew little of one another.

Al-Risala, June 1996, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ یہ جدید کمیونی کیشن سے پہلے کی بات ہے۔ ورنہ آج ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی آج منٹوں میں ایک علاقہ کی خبر دوسرے علاقہ میں پہنچ جاتی ہے۔ مگر ایک اور اعتبار سے آج بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ آج بھی مسلم دنیا بڑی حد تک مغرب کے حقیقی افکار سے نا آشنا ہے۔ طرح مغربی دنیا بھی بڑی حد تک اسلام کی حقیقی تصویر سر سے بے خبر ہے۔ مسلم دانش ور " مغرب " کے نام سے ایک ایسی دنیا کو جانتے ہیں جو اسلام کی دشمن ہو۔ اور مغربی دانشور " اسلام " کے نام سے ایک ایسے مذہب کو جانتے ہیں جو دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ دور آگہی میں بھی انسان کی بے خبری ختم نہیں ہوئی ۔

دوسری عالمی جنگ سے پہلے لندن کو دنیا کے نمبر ایک شہر کی حیثیت حاصل تھی ۔ وہ خاص شہر (the city) کہا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب برٹش ایمپائر ٹوٹا تو لندن کی حیثیت بھی اسی طرح بہت کم ہوگئی جس طرح سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ماسکو کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ اسی مہینہ اگست ۱۶۶۶ میں لندن میں اس کی تاریخ کی سب سے بڑی آگ لگی تھی جس کو عظیم آگ

(great fire) کہا جاتا ہے۔ اس آگ میں لندن کا تقریباً دو تہائی حصہ تباہ ہوگیا تھا۔ تیرہ ہزار مکانات جل کر خاک ہوگئے۔

لندن کی سڑکوں پر چلنا اس سے بہت زیادہ مختلف تجربہ ہے، جو دہلی میں پیش آتا ہے، یہاں ہارن کی آوازیں نہیں۔ ہوائی کثافت موجود ہے مگر وہ دہلی کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ اگر چہ گاڑیوں کی تعداد یہاں دہلی سے زیادہ ہے۔ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کی دکانداری کا یہاں کوئی وجود نہیں۔ علاقہ میں بھی میں گیا مجھے صفائی اور باقاعدگی نظر آئی۔ پرانی اور شور مچاتی ہوئی چلنے والی گاڑیاں کہیں نظر نہیں آئیں ۔ لوگ نظم کے ساتھ ادھر اُدھر جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سڑکوں پر کہیں ٹوٹ پھوٹ دکھائی نہیں دی جو کہ دہلی وغیرہ میں عام ہے۔

ایک مرتبہ میں ایک سڑک پر جارہا تھا کہ ایک بڑی گاڑی آواز لگاتی ہوئی اور تیزی سے بھاگتی ہوئی نظر آئی۔ یہ ایمبولنس کی گاڑی تھی۔ یہاں کوئی گاڑی جب بھی اس طرح سڑک پر دوڑ رہی ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہ یا تو ایمبولنس کی گاڑی ہے یا فائر بریگیڈ یا پولیس کی ۔ ایک عرب نوجوان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا اور یو کے میں یہ فرق ہے کہ یہاں ہر چیز میں اسٹینڈرڈائزیشن ہو چکا ہے۔ انڈیا میں کسی چیز کا کوئی اسٹینڈر نہیں ۔ وہاں کا معروف اصول یہ ہے : سب چلتا ہے۔ برطانیہ کی اسٹیٹ جدید اصطلاح کے مطابق ویلفیر اسٹیٹ ہے۔ یہاں تعلیم، علاج، ہر چیز فری قیمتیں دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔ ایک عرب نوجوان جو یہاں شادی کرکے رہ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اگر میں اپنی ماں کو بلاؤں تو جب تک وہ یہاں رہیں گی، اگر میں چاہوں تو اس پوری مدت کے لئے ان کا خرچ حکومت سے وصول کرسکتا ہوں۔ ان چیزوں کا سب سے زیادہ فائدہ غالباً ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں نے اٹھایا ہے۔ لیکن اگر آپ لوگوں سے ملیں تو یہاں کے نظام سے سب سے زیادہ شاکی ہندوستانی اور پاکستانیوں ہی کو پائیں گے ۔ ملے ہوئے کو نہ دیکھنا اور نہ ملے ہوئے کو دیکھنا یہ ان کا عام مزاج بن گیا ہے۔ یہاں بھی اور خود اپنے ملک میں بھی۔ ہوٹل میں کانفرنس کے شر کا ء کے لئے خالص "انڈین فوڈ" کا انتظام کیا گیا تھا۔ ناشتے کی میز پر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ یہاں فوڈ کا بہت بڑا بزنس کر رہے ہیں۔ انھوں نے انڈین فوڈ کو نئے طریقہ پر بنا کر اور اس کو ماڈرن پیکنگ

کے ساتھ یہاں کامیابی کے ساتھ چلایا ہے۔ بہت سے انگریز بھی انڈین فوڈ کو استعمال کرنے لگے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے لوگ بھی کافی اس بزنس میں ہیں۔ مگر ہر ایک اس کو انڈین فوڈ کے نام سے بازار میں لاتا ہے نہ کہ پاکستانی فوڈ یا بنگلہ دیشی فوڈ کے نام پر۔ فوڈ سے اس کو شہرت ہو چکی ہے۔ کوئی اور نام چلایا جائے تو لوگوں کو وہ نامانوس معلوم ہوگا۔ میں نے کہا کہ اس کا راز انفرادی مفاد ہے۔ چوں کہ تجارت کے اعتبار سے اس میں فائدہ ہے کہ اس کو انڈین فوڈ کے نام سے بازار میں لایا جائے، اس لئے ہر تاجر بلا اعتراض اس نام کو استعمال کر رہا ہے۔ مگر جب قومی مفاد کے لئے ایسا کوئی مشترک لفظ بولا جائے تو یہی لوگ فوراً اس کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جائیں گے ، کیوں کہ اب ان کا ذاتی مفاد اس سے وابستہ نہیں۔ یہاں آجکل رات چھوٹی ہے اور دن لمبا۔ فجر کا وقت یہاں تقریبا انڈیا کے مطابق ہے یعنی صبح ساڑھے چار بجے ۔ لیکن مغرب کا وقت یہاں آجکل شام کو 9 بجے ہوتا ہے۔ رات اور دن کا یہ فرق اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو عرصہ سے برطانیہ میں رہتے ہیں، ان سے یہاں کے مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی حالت پر گفت گو ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ بعض استثنائی افراد کو چھوڑ کر سارے مسلمانوں کا مذہب صرف ایک ہے، اور وہ منی (money) ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان مسلمانوں کا مذہب حقیقۃً مانو تھی ازم نہیں ہے بلکہ منی تھی ازم ہے۔ (یعنی توحید پرستی نہیں بلکہ دولت پرستی) یہاں امرتسر کے چیف جتھے دار پر وفیسر منجیت سنگھ بھی آئے ہوئے ہیں۔ ان سے چند بار میں نے دیکھا کہ وہ اپنی روایت کے مطابق، اگر چہ اپنے کندھے سے ایک کر پان لٹکائے ہوئے تھے اور ہاتھ میں بڑی تلوار لئے ہوئے تھے۔ مگر وہ اتنے میٹھے اور نرم انداز میں بول رہے تھے جیسے کہ ان کا " کرپان کلچر" سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی ہر بات میں سادگی اور متانت ٹپک رہی میں نے سوچا کہ اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس تلوار نہیں، مگر وہ اتنے جارحانہ انداز میں بولتے ہیں جیسے کہ وہ تلواروں کے بادشاہ ہوں ۔ دوسری طرف اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس تلوار ہے مگر وہ اپنی تلوار کو اس کی روایتی حد کے اندر رکھتے ہیں۔ اپنی بولی اور اپنے عمومی سلوک میں اس کو دخیل ہونے نہیں دیتے ۔

Printed page