۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶
Al-Risala, June 1996, pp. 36–44
By Maulana Wahiduddin Khan
۳۰ جولائی کی صبح کو کمرے سے باہر ٹہلنے کے لئے نکلا تو سوامی یوگانند سرسوتی پہلے ہی سے باہر آکر ٹہل رہے تھے۔ انھوں نے اپنی ایک ہندی کتاب مجھے دی۔ یہ ۱۱۰ صفحہ کی کتاب ہے۔ سوامی جی سے میں نے پوچھا کہ اس کتاب کا خلاصہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں تین باتیں بتائی گئی ہیں۔ جو سامنے دکھائی دے اس کی سیوا کرنا۔ (۲) جس کی شکتی سے دکھائی دے رہا ہے اس سے پریم کرنا۔ (۳) سیوایا پریم کے بدلے کچھ نہ چاہنا۔ آخر میں انھوں نے کہا: کچھ نہیں چاہنے سے اپنا کام ہو جاتا ہے۔ گنگوتری میں سوامی جی کا ایک بڑا آشرم ہے۔ وہاں ہر روز تقریباً پانچ سو آدمی کھانا مگر بھوجن اور نواس کا ہمارے یہاں کوئی چارج نہیں۔ سوامی جی کے ساتھیوں نے کہا کہ اس طرح کیسے آشرم چلے گا۔ سوامی جی نے جواب دیا: آشرم تو چل ہی رہا ہے۔ پر جس دن تم چلاؤ گے اسی دن سے وہ نہیں چلے گا۔
۳۰ جولائی کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ اس کا انتظام راونڈ وڈ پارک میں کیا گیا تھا جو بہت بڑا ہے۔ اس میں کافی بڑا شامیانہ لگایا گیا تھا۔ ۱۰ بجے میں وہاں پہنچا تو اس کو دیکھ کر پہلا تاثر یہ ہوا کہ لندن کا شامیانہ بھی ترقی یافتہ ملک کے معیار کا ہے۔ شامیانہ سادہ بھی تھا اور خوبصورت وہ اتنا لمبا تھا کہ ایک سرے پر کھڑے ہوں تو دوسرا سرا صاف دکھائی نہیں دیتا تھا۔ شامیانہ بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ باہر بھی کھڑے ہوئے نظر آئے۔
لندن میں انڈیا کے ہائی کمشنر ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی نے افتتاحی تقریر کی۔ وہ نہ صرف ایک ڈپلومیٹ ہیں بلکہ مذہبیات کے ایک اچھے عالم بھی ہیں۔ اس کے بعد چند اور تقریریں ہوئیں۔ مادھوانی کی فیملی تنہا پوری کانفرنس کا خرچ دے رہی ہے جس کا بجٹ تین کروڑ روپیہ سے زیادہ ہے۔ منو بھائی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اس سے پہلے وہ یوگنڈا میں بزنس کرتے تھے۔ ۱۹۷۲ میں عیدی امین نے ان کو پکڑ کر قید خانہ میں ڈال دیا۔ قید خانہ میں انھوں نے گیت اور دوسری مذہبی کتابیں پڑھیں، اس سے ان کا ذہن بدلا۔ جیل سے رہائی پا کر وہ لندن آ گئے اور یہاں دوبارہ اپنا بزنس قائم کیا۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ مذہب اور روحانیت کے پرچار کے لئے استعمال کریں گے۔ اسی کے مطابق وہ موجودہ کانفرنس کر رہے ہیں۔
آخر میں شری مراری باپو کی کتھا ہوئی جو کئی گھنٹہ تک جاری رہی۔ ان کے ساتھ تربیت یافتہ
FESTIVAL OF SPIRITUAL UNITY 1994 GURUDEV SHREE CHITRABHANUJI DR. SADHAVI SADHANAJI PROFESSOR SARDAR MANJIT SINGHJI (Chief Jathedar Akal Takhat) DR MOHINDER SINGH PUJYA SWAMI CHIDANAND SARASWATI (MUNIJI) SWAMI YOGANAND SARASWATI PROFESSOR VIDYANIWAS MISHRA REV. MARCUS BRAYBROOK (Chairman of World Congress of Faiths) SIR SIGMUND STERNBERG (Former Archbishop of the Indian Ocean) TOTAL : 19 confirmed
سازندوں کی پوری ٹیم تھی ۔ لمبی کتھا کے بعد انہوں نے “ بولئے ہنو مان جی کی جے‘‘ “ کہہ کر مخصوص انداز میں تقریر شروع کی ۔ شری ہنو مان جی کو انہوں نے رام دوار بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ ۱۸۸۳ میں جب سوامی ویویکانند امریکہ گئے تو کسی نے ان کو چڑھانے کے لئے پوچھا کہ سوامی جی ، آپ کی گھڑی میں کتنا بجا ہے۔ جی نے کہا کہ ایک ۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دوبارہ پوچھا۔ سوامی جی نے دوبارہ کہا کہ ایک ۔ کچھ دیر کے بعد اس آدمی نے پھر یہی سوال کیا ۔ سوامی جی نے پھر کہا کہ ایک ۔ اب اس آدمی نے مذاق کے انداز میں سوامی جی سے کہا کہ سوامی جی ، آپ کیسی گھڑی پہن کر امریکہ آئے ہیں جس میں ہر وقت ایک ہی بجا رہتا ہے۔ ویویکانند نے نرمی سے جواب دیا : میرے بھائی ، سادھوا دویت واد ہوتا ہے۔ وہ دویت کو مانتا نہیں اس لئے اس کی گھڑی میں تو ہمیشہ ایک ہی بجے کا سے رہتا ہے۔ غالباً اس آدمی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بعد وہ یہ کہے کہ معاف کیجئے گا ، میں بھی ایک بار اس عجیب گھڑی کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں۔ مراری باپو نے اچھی زندگی کا خلاصہ تین لفظوں میں بتایا ۔ ہمارے پاؤں میں بل ہو ۔ ہمارے ہاتھوں میں پیل ہو۔ ہماری آنکھوں میں جل ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بل اہنکار شونیہ پھل ادھیکا رشونیہ ہو اور جل پریم اور کرونا کا جل ہو۔
مراری باپونے اپنی بات کی وضاحت کے لئے ایک اور قصہ سوامی ویویکا نند کا سنایا۔ جی ایک بار کسی عیسائی کے یہاں گئے۔ اس نے اپنے کمرہ میں کچھ کتابیں اس طرح رکھیں کہ سب سے نیچے رام چرت مانس تھی۔ اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور پھر سب سے اوپر بائبل۔ ویویکا نند جب کمرہ میں داخل ہوئے تو اس نے مسکرا کر کہا کہ سوامی جی ، اس کو دیکھئے۔ اس پر برہم نہیں ہوئے کہ ان کی مقدس کتاب سب سے نیچے رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے اطمینان کے ساتھ کہا: فاؤنڈیشن تو بہت سندر ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ آدمی کس طرح اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر سکتا ہے۔
مراری باپونے ایک اور قصہ اس طرح بتایا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہر ہفتہ دس روپیہ جیب خرچ دیتا تھا۔ بیٹا اس کو خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ رہ امائن کے اندر رکھ دیتا تھا جو اس کی میز پر کھلی پڑی اس طرح بہت سے روپئے اس کے اندر اکٹھا ہو گئے ۔ باپ نے دیکھا تو کہا کہ تم کو پیسہ یہ رکھنا تھا تو کہیں بند کر کے رکھتے۔ اس طرح تو وہ چوری ہو سکتا ہے۔ بیٹے نے جواب دیا کہ میرا پیسہ یہاں سب سے
زیادہ محفوظ ہے ۔ کیوں کہ جو چور ہوگا وہ راما ئن کھولے گا نہیں ۔ اور جو راما ئن کھولے گا وہ چوری کریگا
مراری باپو کی کتھا کے آخر میں میں نے دیکھا کہ سیکڑوں لوگ اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے ہیں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ لوگ شاید اٹھ اٹھ کر جا رہے ہیں۔ مگر وہاں معاملہ دوسرا تھا۔ یہ لوگ اٹھ کر نہایت جوش کے ساتھ بالکل وارفتگی کے عالم میں زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔ ایک صاحب نے اس کو روحانی کیفیت سے تعبیر کیا۔ میں نے کہا کہ اگر یہ روحانیت ہوتو تماشاآخر کس چیز کا نام ہوگا۔ دہلی سے ڈاکٹر مہندر سنگھ بھی آئے تھے۔ ایک گفتگو کے دور ان انھوں نے کہا کہ ہم تو اپنے کو مائنارٹی سمجھتے ہی نہیں۔ آپ دیکھئے سکھ لوگ اس ملک میں صرف دو فیصد ہیں۔ مگر یہاں کے باب اور یہاں کی اقتصادیات میں انھوں نے ۲۵ فیصد پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پھر مائناریٹی کہہ کر ہم کیوں اپنے آپ کو گھٹائیں۔
اکال تخت کے چیف جتھے دار بھی یہاں آئے ہیں۔ ایک بار ہم دونوں ایک ہی کار میں سفر روپہلے رنگ کی ایک چھوٹی کرپان وہ کندھے سے لٹکائے ہوئے تھے اور سنہرے رنگ کی بڑی تلوار اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سوا دو سو سال پرانی میں نے پوچھا کہ کیا یہ کبھی استعمال ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ایک سمبل ہے روحانی استعمال کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
۳۰ جولائی کی شام کو ایشین ایج کی ٹیم اور سن رائز ریڈیو کی ٹیم قیام گاہ پر آئی۔ نے الگ الگ تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایشین ایج کا انٹرویو انگریزی میں تھا، اور سن رائز ریڈیو کا ہندی پروگرام“ کے تحت ہندی ( آسان اردو ) میں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ایشیائی کمیونٹی جو برطانیہ میں رہتی ہے، اس کے لئے یہاں باعزت زندگی حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ یہ کہ وہ یہاں لینے والے گر وہ (taker group) بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے گروہ (giver group) بن جائیں۔ یہاں کے باشندوں کو محسوس ہو کہ آپ ان کے لئے نفع بخش گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زندگی کا یہی واحد راز ہے، باہر کے دیش میں اور خود اپنے دیش میں بھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہاں کے نوجوان طبقہ کو میرا پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ پر نظرثانی کریں۔ انھوں نے مسرت (pleasure) کو مطلق (absolute) چیز سمجھ لیا ہے۔ چاہتے ہیں کہ مسرت غیر محدود طور پر لطف اندوز ہوں۔ مگر ایسا اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اپنی محدودیتوں کی وجہ سے لامحدود طور پر چیزوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ لوگ حقیقت پسند بنئے۔ زندگی کا سچ حقیقت پسند بننے میں ہے۔ لذت پسندی کا موجودہ رجحان آپ کو آخر کار فرسٹریشن کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔
دوپہر کا کھانا اجتماع گاہ میں تھا۔ ہندوستانی انداز میں تھال کے اندر رکھ کر کھایا گیا۔ کے بعد جب میں بذریعہ کار ہوٹل کی طرف واپس آرہا تھا تو راستہ میں بھورے سے رنگ کی ایک خوبصورت عمارت دکھائی دی۔ اس میں نہایت خوبصورت حرفوں میں لکھا ہوا تھا : بر ہماکماری اسپیر یچول
ایک صاحب نے بتایا کہ منو بھائی نے ۱۹۷۲ میں جب جیل کے اندر گیتا اور دوسری مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس کے بعد انھوں نے ہنو مان جی کو پا لیا۔ وہ تاجر کے ساتھ سادھو گھر گھر میں پوجا کا سنکلپ لیا ہے انھوں نے ۔ اسی کا ایک اظہار یہ فیسٹول ہے۔ یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ شاید ایک غیر حقیقی چیز پر بھی آدمی کو اتنا ہی یقین ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک حقیقی چیز پر۔ پچھلے دو سال کے اندر مجھے ہندو حلقوں میں جانے کا بہت زیادہ موقع ملا ہے۔ بہت زیادہ ان کو سنا ہے اور بہت گہرائی تک ان کو دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہندو سنتوں اور گروؤں کے اجتماعات میں لاکھوں لوگ دیوانہ وار آتے ہیں اور نہایت ذوق وشوق کے ساتھ ان کی باتیں سنتے ہیں۔ مگر میرا آخری تاثر یہ ہے کہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو سائنٹفک اصول پر قائم ہے۔ بقیہ تمام مذاہب، تحریف کے نتیجہ میں، غیر معقول صورت اختیار کر چکے اب وہ یا تو طلسماتی افسانے ہیں یا روحانی شاعری۔ کسی بھی دوسرے مذہب کی کوئی سائنٹفک بنیاد نہیں. دوسرے مذاہب پر لوگ اس لئے قائم ہیں کہ وہ ان کو ایک روایتی ضمیمہ کے طور پر لئے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اپنے مذہب پر اپنی عقل کو استعمال کریں تو شاید کوئی بھی ان مذاہب کو اختیار نہ کر سکے۔
تاہم یہ بات میں قرآن و سنت والے اسلام کے بارے میں کہہ رہا ہوں ۔ جہاں تک اس اسلام کا تعلق ہے جس کی نمائندگی موجودہ زمانہ کے مسلمان کر رہے ہیں، وہ بھی بڑی حد تک غیر معقول صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ اضافوں کے نتیجہ میں دین بدعت ہے نہ کہ دین مسنون۔ کچھ مسلم مفکرین نے بطور خود اسلام کا ایک انقلابی ایڈیشن نکالا ہے۔ مگر یہ انقلابی ایڈیشن حقیقۂ ایک محرف ایڈیشن ہے۔ اس خود ساختہ اسلام نے لوگوں کو اسلام سے قریب کرنے کے بجائے انھیں اسلام سے دور کر دیا ہے۔ مسلم ملکوں میں بھی اور غیر مسلم ملکوں میں بھی۔ اس قسم کے کچھ انقلابی نوجوانوں سے لندن میں ملاقات ہوئی ۔ ان کا تعلق تونس سے تھا۔ انھوں نے آٹھ صفحہ کا اپنا "نشریہ سیاسیہ" دیا جس کو وہ مہینہ میں دو بار شائع کرتے ہیں۔ "نصف شہر یہ" کا نام ہے، تونس الشہید ۔ یعنی مقتول تونس ۔ ان کے نزدیک تونس کے موجودہ حکمرانوں نے تونس کو اسلامی اعتبار سے قتل کر ڈالا ہے۔ اسی قسم کے جنونی لوگ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس موت کی خوراک تو بہت ہے، مگر ان کے پاس آج کے انسان کے لئے زندگی کا کوئی پیغام نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مکمل اسلام کے علم بردار ہیں۔ ان کے پاس محرف اسلام کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔
۳۱ اگست کو فیسٹیول کا دوسرا دن تھا۔ مخصوص روایتی انداز میں ہم لوگ جلسہ گاہ کے اندر لیجائے جب میں ڈائس پر پہنچ کر اپنی نشست گاہ پر بیٹھا تو نظر آیا کہ لمبا پھیلا ہوا شامیا نہ اس سرے سے اس سرے تک پورا بھر چکا ہے۔ لوگ وقت سے پہلے ہی آکر اپنی جگہ بیٹھ چکے ہیں۔ ہر روز تمام شرکاء کومفت لنچ دیا جاتا ہے۔ آج سولہ ہزار افراد نے یہاں کھانا کھایا۔ جانے والوں کی تعداد کو شامل کر لیا جائے تو غالبًا تمام شرکاء کی تعداد ۲۵ ہزار کے قریب ہوگی۔ آج پہلی تقریر ایک جینی پیشو اشری چتر بھانو جی کی ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ ۷۰ سال کے تھے تو انھوں نے مہا ویر کا ایک واقعہ پڑھا۔ اس میں انھوں نے بتایا تھا کہ جس طرح چھوٹے سے بیج کے اندر ایک پورا درخت ہوتا ہے، اسی طرح تمہاری آتما کے اندر پر ماتما چھپا اس کو جان لو تو تم پر ماتما ہو جاؤ گے۔ اس کو پڑھ کر میرے اندر انقلاب آگیا۔ بعد میں سنیاس لے کر گھر سے نکل گیا۔ اب میں ۲۰ سال کا ہوں۔ اب بھی روزانہ اٹھارہ گھنٹہ
کام کرتا ہوں، پر مجھ کو تھکاوٹ نہیں لگتی ہے۔ اس لئے کہ میں آپ لوگوں کا آشیرواد لیتا ہوں۔ نے کہا کہ رام اجودھیا میں نہیں ہے، رام گھٹ گھٹ میں ہے۔
ان کا ایک سنٹر بمبئی میں ہے اور دوسرا امریکہ میں۔ اس کا نام جین میڈیٹیشن سنٹرہے۔ نے بتایا کہ جب میں امریکہ گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ گائے جب تک دودھ دیتی ہے لوگ اس کو پالتے ہیں۔ اور جب دودھ دینا بند کر دیتی ہے تو وہ فوراً سلاٹرہاؤ س کو ٹیلی فون کرتے ہیں کہ یہ گائے ہم کو نہیں چاہئے۔ اس کے بعد سلاٹر ہاؤ س والے اس گائے کو ذبح کرنے کے لئے اٹھا لے جاتے ہیں اور دوسری گائے ان کے یہاں پہنچا دیتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے طے کیا کہ آج کے بعد میں دودھ، مکھن، دہی، کوئی چیز نہیں کھاؤں گا۔ آج تک میں اسی پر قائم ہوں۔ اس طرح چند تقریریں ہوئیں۔ ۱۲ بجے مائک پر اعلان کیا گیا کہ اب شری پوجیہ مراری با پوکے چرنوں میں پرارتھنا ہے کہ وہ اپنی کتھا سے ہم سب کو آشیرواد دیں۔ حسب معمول آٹھ سازندوں کی ٹیم کے ساتھ انھوں نے اپنی کتھا شروع کی۔ انھوں نے گوسوامی تلسی داس کی رامائن کا ایک حصہ پڑھا۔ کتھا کے آغاز میں بہت دیر تک "شری رام جے رام جے جے رام" کا لفظ آتا تھا۔ ہندو ذہن میں رام کا درجہ وہی ہے جو مسلمان کے ذہن میں خدا کا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جینی پیشوا نے ان کے جلسہ میں رام پر تنقید کی مگر اس پر کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔
۳۱ جولائی کی شام کو ایک ہندو خاتون مسز دیوی پانڈے کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں اور میرے شوہر آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں ملاقات کے لئے آئے۔ مجھ کو یہاں کے فیسٹیول میں دیکھا تھا۔ جب وہ میرے کمرہ میں داخل ہوئے تو ان کو دیکھ کر بظاہر یہ خیال ہوا کہ وہ لندن کے ان ہندوستانیوں میں سے ہیں جو یہاں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر بیٹھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ہم بہت بڑی مصیبت میں پڑ گئے ہیں۔ یہ کہہ کر دونوں رونے لگے ۔ آنسوؤں کے ساتھ انھوں نے اپنی کہانی سنائی۔ یہ کہانی وہی تھی جس کا یہاں کے حالات کے اعتبار سے میں نے پہلے ہی قیاس کر لیا تھا۔ ان کا لڑکا جو پہلے والدین کا بہت وفادار تھا، اب ایک غیر مذہب لڑکی کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے۔ اکثر وہ اسی لڑکی کے ساتھ رہتا ہے۔ کئی کئی دن گزر جاتے ہیں اور باپ کو اس کا چہرہ دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ ماں نے کہا کہ میرا تو جی چاہتا ہے کہ میں زہر کھا کر
اپنے کو ہلاک کرلوں ۔ باپ نے کہا کہ میری نیند اڑ گئی ہے۔ آجکل میں روزانہ گولی کھا کر سوتا ہوں ۔
یو کے کی بظاہرخوشنمازندگی کے پیچھے جو تلخ حقائق ہیں ، اس کو اگر لوگ جان لیں تو دہلی کے برٹش ہائی کمیشن میں ویزا کے لئے لائن لگانے والوں کی تعداد بہت کم ہو جائے۔ اگلے دن مذکورہ نوجوان مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ ان سے شادی کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ جس چیز کو لو میرج کہتے ہیں وہ حقیقتہ لسٹ میرج ہوتی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو کیوں ایسا ہے کہ لو میرج زیادہ ٹوٹ جاتی ہے اور لَوَرس کے درمیان شکایت کے ساتھ آخر کار جدائی ہو جاتی ہے۔ حقیقی محبت کبھی اس طرح ٹوٹ نہیں سکتی۔ میں نے کہا کہ چند سال کے تجربہ کے بعد آپ مجھے خط لکھئے گا کہ آپ کی بات صحیح تھی یا میری بات۔ فیسٹیول کے منتظمین نے ایک پروگرام مختلف مذاہب کے تعارف کا رکھا تھا۔ ۳۱ اگست کی شام کو سکھ ازم کے تعارف کا دن تھا۔ ہوٹل کے لان میں اس کا انتظام کیا گیا تھا۔ اکال تخت امرتسر کے چیف جتھیدار پر وفیسر منجیت سنگھ نے یہ ذمہ داری ادا کی۔ پہلے انھوں نے ہارمونیم پر گرو گرنتھ صاحب کا ایک حصہ پڑھا۔ ہارمونیم وہ خود بجا رہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے سکھ دھرم کا تعارف کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ سکھ دھرم میں گرنتھ (گرو گرنتھ صاحب) کو زندہ گرو مانا گیا ہے۔ کے بڑے گردوارہ میں اس کو پالکی پر ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا ہے۔ گرو گرنتھ صاحب میں ۳۶ مہاپرشوں کا کلام ہے ۔ ہندو اور مسلمان ، یہاں تک کہ شودر کا کلام بھی۔ اس میں سد نا قصائی کا کلام بھی موجود ہے جو مسلمان تھے اور قصائی کا کام کرتے تھے۔ پھر ان کو گیان پر آپت ہوا اور اپنا پیشہ چھوڑ کر سنت بن گئے۔
گولڈن ٹیمپل (سورن مندر) کے بارہ میں انھوں نے بتایا کہ یہ انگریزوں کا دیا ہوا نام اس کا اصل نام ہری مندر صاحب ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکھ ازم میں میری اور پیری دونوں ایک یعنی سیاست اور مذہب دونوں کو ہم ایک سمجھتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو مذہب ہی پیشوا ہوتا ہے وہی سیاسی سردار بھی مانا جاتا ہے۔
ان کی تقریر سننے کے بعد ایک ہندو نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا: جب گولڈن ٹیمپل کا
نام بھی مندر ہے تو پھر ہند و سکھ میں جھگڑا کیوں ۔
۳۱ اگست کو دن کے کھانے کے وقت میری کرسی سے ملی ہوئی کرسی سوامی چید آنند کی تھی ۔ اس کے بعد کی کرسی پر ایک صاحب آکر بیٹھ گئے اور سوامی جی سے باتیں کرنے لگے۔ وہ اس قدر سادہ اور بظاہر اہم تھے کہ کوئی نا واقف آدمی ان کو دیکھ کر یہ سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کوئی مالدار آدمی سوامی جی نے بعد کو بتایا کہ یہ مسٹر سری چند ہند و جا تھے جو پچاس ہندوستانی بر لا کے برابر ہیں۔ اس قسم کے ہندو تاجر مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بہت بڑے بڑے بزنس کرتے ہیں اور ہندو اداروں اور تحریکوں کو نہایت فراخ دلی کے ساتھ مالی تعاون دے رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم ادارے عرب حکمرانوں کے تعاون سے چل رہے ہیں اور ہندو ادارے ہندو تاجروں کے تعاون سے ۔ یورپ اور امریکہ میں بہت بڑے ہندو ادارے ہیں جن کا بجٹ کروڑوں ڈالر سالانہ ہوتا ہے۔ یہ سب ہندو تاجروں کے تعاون سے پورا ہوتا ہے۔ آجکل انسائیکلو پیڈیا آف ہند و ازم اٹھارہ جلدوں میں چھپ اس میں میکمیلن (ناشر) نے ۳۳ کروڑ روپیہ لگایا ہے اور ہندو تاجروں نے ۲۰ کروڑ روپیہ فراہم کیا ہے۔
موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام اسلامی ادارے پیٹرو ڈالر کی خدا داد دولت کے ذریعہ چل رہے ہیں نہ کہ خود اپنی کمائی ہوئی دولت سے۔ مگر کم از کم میں نے کسی بھی اسلامی ادارے کے لوگوں کو اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے نہیں سنا۔ تمام لوگ اس کو خود اپنے فضل وکمال کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ نایاب ہو گئی ہے وہ یہی شکر ہے۔ ایک کٹر ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ دوسرے مذہبوں کو وہ لوگ سچا مذہب ایسی حالت میں انڈیا میں ہندو مسلم ایکتا کیسے آسکتی ہے۔ آپ مسلمانوں کو سمجھائیے کہ وہ ہندو مذہب کو بھی اسلام ہی کی طرح سچا مانیں۔ ورنہ ہندوستان میں رہنا ان کے لئے مشکل ہو جائے میں نے کہا کہ عیسائی لوگ بھی صرف اپنے مذہب کو سچا مذہب سمجھتے ہیں۔ پھر آپ لوگ یہاں کس طرح ان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔