Al-Risala · January 1996

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

Al-Risala, January 1996, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

مجمع البحوث الاسلامیہ (قاہرہ) کے زیر اہتمام خاص اسی موضوع پر ایک سے زیادہ بار سمینار اور کانفرنس کا انعقاد ہو چکا ہے ۔ عام طور پر ان کانفرنسوں کا عنوان تھا : ( الاجتہاد فی شریعۃ الاسلام ۔ اس موضوع پر پہلی مؤتمر شوال ۱۳۸۳ ( مارچ ۱۹۶۲ ) میں ازھر میں ہوئی ۔

کویت میں حکومت کے تعاون سے ہر سال اعلیٰ پیمانہ پر ایک انٹر نیشنل سیمنار کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کی مسلم شخصیتیں جمع ہوتی ہیں ۔ اس سالانہ سیمنار کا موضوع ہوتا ہے : نـــدوة مستجدات الفکر الاسلامی ۔ یعنی فکر اسلامی کے جدید پہلو ۔

اسی طرح پروفیسر مشیر الحق مرحوم نے ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے تحت دسمبر ۱۹۷۶ میں بڑے پیمانہ پر ایک سیمنار نئی دہلی میں کیا تھا۔ اس کا موضوع بھی عین یہی تھا ۔ میں منتخب علماء اور اہل فکر جمع ہوئے اور انھوں نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کیے ۔ ان مقالات کا مجموعہ " فکر اسلامی کی تشکیل جدید " کے نام سے مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی) کے تحت شائع ہو چکا ہے جو ۸۰ اہم صفحات پر مشتمل ہے ۔

اس قسم کی کوششیں بہت بڑے پیمانہ پر سارے عالم اسلام میں جاری ہیں ۔ مگر کوششوں کی کثرت کے باوجود وہ ابھی تک نتیجہ خیز نہیں ہوئیں ۔ ان کوششوں کا خاص مقصد یہ تھا کہ دور جدید کی نسبت سے مسلمانوں کو فکری اور عملی رہنمائی دی جائے ۔ مگر یہ اہم ترین مقصد ابھی تک حاصل نہ ہوسکا ۔ اس کا سبب کیا ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید ایک مجتہدانہ عمل ہے۔ اس کے لیے ایک اعلیٰ اجتہادی کوشش درکار ہے ۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، چوتھی صدی ہجری کے بعد سے مسلم دنیا میں ذہنی جمود کی ایسی فضا چھائی ہوئی ہے کہ کوئی بھی شخص اجتہاد کی ہمت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

Printed page