۴۵ المر سال جون ۱۹۹۴
Al-Risala, June 1996, pp. 6–49
By Maulana Wahiduddin Khan
گاندھی پیس فاؤنڈیشن (نئی دہلی) میں ۱۵ جنوری ۱۹۹۶ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کا موضوع انتخابی اصلاح تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انتخابات کو بہتر بنانے کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ ناٹر ڈیم یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر فریڈ ڈالمیر (Fred Dallmyr) ۱۴ جنوری ۱۹۹۶ کو اسلامی مرکز میں آئے۔ وہ اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس پر کتاب لکھنا اس سلسلہ میں انھوں نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں جنگ صرف دفاعی ہے اور دفاعی جنگ بھی اس وقت ہے جبکہ اس کو اوائڈ کرنے کی ہر کوشش ناکام
انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے نمائندہ مسٹر راہل دتہ نے ۱۹ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ایک شخص اپنے مذہب کے لوگوں سے محبت کرتے ہوئے دوسرے مذہب کے لوگوں سے بھی یکساں محبت کر سکتا ہے۔ دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ ہر آدمی کا تجربہ ہے کہ وہ اپنے سے محبت کرتے ہوئے یکساں درجہ میں اپنے باپ سے بھی محبت کرتا ہے۔ ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت کر سکتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (اوکھلا) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۸ جنوری ۱۹۹۶ کو اس کے تربیتی کیمپ میں شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ موضوع تھا: دعوت کے ضمن میں تاریخی اور نفسیاتی مسائل۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ مسٹر لو گندر سکیند (جے این یو) تبلیغی جماعت پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ۲۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ تبلیغی جماعت مکمل پیغمبرانہ کام کر رہی ہے۔ صحیح ہے کہ تبلیغی جماعت ایک نہایت مفید کام کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں کو لڑائی جھگڑے سے ہٹا کر انھیں دینی کاموں میں مشغول کر رہی ہے۔
بھوپال کے سالانہ تبلیغی اجتماع (۱۶ - ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۵) میں ہر سال کی طرح اس بار بھی مکتبہ الرسالہ کا اسٹال لگایا گیا۔ ہر طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد نے الرسالہ مشن سے دلچسپی کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں کتابیں حاصل کیں۔
۱۱ نومبر ۱۹۹۵ کوکانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع مذہب، سیاست اور جرائم تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ مذہب بذات خود محبت اور انسانیت کی تعلیم دیتا مگر کچھ لوگ مذہب کا غلط استعمال کرکے اس کو بدنام کرتے ہیں۔ تاہم مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے مذہب کی اصولی تعلیمات کو دیکھنا چاہئے نہ کہ کچھ لوگوں کی طرف سے مذہب کے غلط استعمال کو۔
۱۳ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز نے میوات (ہریانہ) کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ اور علاقہ کے حالات کا جائزہ لیا۔ اس دورہ کی تفصیل ان شاء اللہ "نیا میوات" کے عنوان سے الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ جاپان ایمبیسی (نئی دہلی) میں ۲۲ دسمبر ۱۹۹۵ کو ایک علمی میٹنگ ہوئی۔ اس میں جاپان کے سفیر کے علاوہ ٹوکیو یونیورسٹی کے دو جاپانی پروفیسر ڈاکٹر یاماکاجی (Yamakage) اور ڈاکٹر یموچی (Dr. M. Yamauchi) شریک ہوئے۔ دہلی کے کچھ سنیئر پروفیسر بھی اس میں صدر اسلامی مرکز نے سفیر جاپان کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ نے وہاں اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔ اور یہاں مسلمانوں کے لئے دوسرے مسلم ملکوں سے زیادہ مواقع حاصل ہیں۔
فاؤنڈیشن آف ایمیٹی اینڈ نیشنل سالیڈیریٹی (دہلی) کی طرف سے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۵ کو پارلیمنٹ انکسی میں ایک فنکشن بڑے پیمانہ پر کیا گیا۔ یہ فاؤنڈیشن کی گیارہویں سالگرہ پر کیا گیا تھا۔ اس میں پرائم منسٹر نرسمہا راؤ بھی شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا مسلمانوں کے لئے پرابلم نظری نہیں ہے۔ یہاں ان کے لئے ہر قسم کی ترقی کے امکانات موجود ہیں۔
سری نگر کی ٹی وی ٹیم نے ۲۴ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کے پانچ لکچر ریکارڈ کئے۔ تقریروں کامشترک موضوع تھا: جدید دور میں اسلامی فکر ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ہماری زندگی کے ہر مرحلہ میں کامیاب رہنمائی دیتا ہے ۔ تاہم ہر زمانہ میں ضرورت ہوتی ہے کہ نئے حالات کو سمجھا جائے اور اسلام کو از سر نو وقت کے حالات پر منطبق کیا جائے ۔
میڈیا اسٹار ( نئی دہلی ) کے نمائندہ مسٹر نقوی نے ۴ اپریل ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر شخصی تجربات اور الرسالہ مشن کے بارے آنے والے ملکی انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ حالت میں ہندوستانی ووٹر کے لیے جو چوائس ہے وہ مسٹر کرپٹ اور مسٹر کلین کے درمیان نہیں ہے ۔ بلکہ اصل چوائس مسٹر کرپٹ اور شری بھر شٹ کے درمیان ایسی حالت میں ملک کے سیاسی مستقبل کی تعمیر کے لیے الیکشن کا رول بہت کم ہو جاتا ہے۔ ارن کول پروڈکشن (نئی دہلی) نے دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرو ۲۶ دسمبر ۱۹۹۵ کو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کشمیر کے مسلمان اقبال کے مگر وہ اقبال کے اس شعر کا مصداق بن رہے ہیں:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے انگریزی روز نامہ انڈین ایکسپریس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر پارسا و نکیٹشور راؤ نے ۲۶ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے تازہ مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمان اب مایوسی کے دور سے نکل کر امید اور اعتماد کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ اب کوئی بھی چیز ان کی ترقی کو روکنے والی نہیں۔
کیتھڈرل چرچ آف ریڈیمپشن (نئی دہلی) میں کرسمس کے موقع پر ۲۷ دسمبر ۱۹۹۵ کو ایک اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختلف فرقوں او مذہبوں کے درمیان میل ملاپ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کی نمائندہ مسز پنچنا نے ۲۹ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ۱۹۹۶ ملک کے لئے کیسا سال ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خدا نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر نراشا کے ساتھ ایک آشا کا پہلو موجود ہو۔ اس لئے یقینی ہے کہ آنے والا سال امیدوں کا سال ہوگا۔
۲۲| اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کے تحت چتر کوٹ (مدھیہ پردیش) میں ۳۰ - ۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ کو آل انڈیا سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ خطابات اور ملاقاتوں کا پروگرام رہا۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے ذیل میں شائع کر دی جائے گی۔
۲۳| ہندی روزنامہ ہنستتان (دہلی) کے نمائندہ مسٹر اودھیش کمار نے ۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مسائل سے ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے لئے بہترین انتخابی پالیسی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ کوئی آل انڈیا پالیسی نہ بنائیں بلکہ مقامی حالات کے لحاظ سے اپنی پالیسی وضع کریں۔
۲۴| آل انڈیا ریڈیونئی دہلی سے ۱۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ کا عنوان تھا: معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں مذاہب کا رول۔ اس میں بتایا گیا کہ معاشرہ کو بنانے میں مذہب کا رول نہایت بنیادی ہے۔ انسانی معاشرہ میں اسی وقت سے بگاڑ آملے جب کہ اس پر سے مذہب کا اثر کم ہو گیا۔
۲۵| سمواد پر پیکر ما ٹیلیوثرن کی ٹیم نے اے این آئی کے لئے ۵ جنوری ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ اگلے الیکشن میں مسلمانوں کی سیاست کا رخ کیا ہوگا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اب زیادہ حقیقت پسند ہو گئے امید ہے کہ اس بار ان کی بڑی تعداد منفی ووٹ نہ دے کر مثبت ووٹ