کفرانِ نعمت
Al-Risala, July 1996, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پانی کے ایک گلاس سے لیکر حکومت اور سیاسی اقتدار تک جو کچھ اس دنیا میں کسی کو حاصل ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ہر چیز براہ راست اللہ تعالی کی نعمت ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی کسی کو ملتا ہے وہ اللہ کے چاہنے سے ملتا ہے ، اللہ نہ چاہے تو کچھ بھی کسی کو نہیں مل سکتا ، خواہ وہ بطور خود اس کے لئے کتنا ہی زور مارے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو قرآن و حدیث سے دو اور دو چار کی طرح ثابت ہے۔
دوسری چیز جو قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ خدائی عطیہ کی دو قسمیں ہیں۔ اور دوسرے عمومی عطیہ۔ خصوصی عطیہ کو آجکل کی زبان میں سیاسی اقتدار کہا جا سکتا ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی اقتدار ہر ایک کو نہیں دیا جاتا۔ اور نہ وہ پولٹیکل تحریک یا گن کلچر چلا کر کسی کو حاصل ہوتا۔ اس کا تعلق براہ راست سنت اللہ سے ہے۔ اس سنت اللہ میں سے ایک یہ ہے کہ جو گروہ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دے اس کے لئے سیاسی اقتدار کا فیصلہ کر دیا جائے (النور (۵۵) گویا اقتدار مطلوب ہو تب بھی اس کے لئے ایمان اور عمل صالح کی تحریک چلانا ہے نہ کہ سیاسی ہنگامہ آرائی کا معرکہ جاری کرنا۔
اس کے بعد خدا کا عمومی عطیہ وہ ہے جو کم و بیش ہر ایک کے حصہ میں آتا ہے ۔ اصولی طور پر دو قسم کی چیزوں پر مشتمل ہے۔ پر امن حالات اور حصول رزق کی آسانی۔ یہ بات قرآن کی مندرجہ ذیل آیت سے معلوم ہوتی ہے :
الضرب الله مثلا قرية كانت آمنة اور اللہ ایک بستی والوں کی مثال بیان کرتا ہے کہ مطمئنة يأتيها رزقها رغداً من كل وہ امن اور اطمینان میں تھے۔ ان کو ان کا رزق مكان فكفرت بانعم الله فاذاقها الله فراغت کے ساتھ ہر طرف سے پہنچ رہا تھا۔ لباس الجوع والخوف بما كانوا انہوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ يصنعون نے ان کو ان کے اعمال کے سبب سے بھوک اور (النحل (۱۱۲) خوف کا مزہ چکھایا۔
اس آیت میں دو چیزوں کو انعم اللہ (خدا کے انعامات) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ دو ہی چیزیں ہیں جو دنیوی اعتبار سے انسان کے لئے ضروری ہیں۔ ایک امن اور اگر یہ دو چیزیں کسی گروہ کو حاصل ہو جائیں تو اس کے بعد اس کو کسی اور چیز، مثلاً پولیٹیکل اقتدار کے لئے جنگ نہیں چھیڑنا چاہئے۔ بلکہ ان نعمتوں کو کافی سمجھتے ہوئے اللہ کی شکر گزاری میں لگ جانا چاہئے۔ تا آنکہ اللہ خود بقیہ چیزوں کے حصول کی راہ ہموار کر دے۔ اللہ کی شکر گزاری کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس کا دینی اور تعمیری استعمال۔ ملے ہوئے پر قانع رہ کر اللہ کی یاد میں لگ جانا شکر گزاری ہے، اور اگر ملے ہوئے کو نظر انداز کر کے نہ ملے ہوئے کے لئے دھوم مچائی جائے تو اسی کا نام ناشکری ہوگا۔
جس مسلم گروہ کو امن اور رزق کی نعمت مل جائے، اس کے بعد اس کو ربانی سرگرمیوں میں مصروف ہونا چاہئے نہ کہ پولیٹیکل سرگرمیوں میں۔ اب اس کو یہ کرنا ہے کہ اپنے اندر ایمانی حرارت پیدا کرے۔ اپنے درمیان اخلاقی اصلاح کی تحریکیں اٹھائے۔ اپنی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم شروع کرے ۔ اللہ کے پیغام کو تمام قوموں تک پہنچانے کا نظام بنائے ۔ وہ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کرے۔ وہ اپنے علمی اداروں کو ترقی دے۔ وہ اپنی بستیوں کو نمونہ کی بستی بنا دے۔ یہی سچی شکر گزاری ہے۔ یہ اللہ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا ہے۔ غیر مومن کی نگاہ اپنے حقوق پر ہوتی ہے۔ اور مومن کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں پر۔ اسی لئے غیر مومن ہمیشہ نہ ملے ہوئے کو پانے کی طرف دوڑتا ہے۔ اور مومن ہمیشہ ملے ہوئے کے اندر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جو لوگ شکر گزاری کے اس طریقہ پر نہ چلیں، اس کے بجائے وہ سیاسی تحریکوں کی دھوم مچائیں یا وہ مفسدہ دشمنوں کے خلاف گن کلچر کو زندہ کریں، وہ بلاشبہ سرکش لوگ ہیں۔ ان کا کیس سرکشی کا کیس ہے، خواہ وہ اپنی تحریک کو اسلام یا دین مصطفیٰ کے نام پر کیوں نہ چلا رہے ہوں۔ ایسے لوگوں کے بارہ میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی سیاسی منزل تک نہیں پہنچیں گے، بلکہ امن اور رزق کی جو نعمتیں ان کو ملی ہوئی تھیں ان سے بھی وہ محروم ہو جائیں گے۔ وہ ملے ہوئے کو بھی کھو دیں گے، اور نہ ملے ہوئے کو پانا تو ان کے لئے مقدر ہی یہی اس معاملہ میں سنت اللہ ہے۔