Al-Risala · July 1996

Follow one and hate none.

Al-Risala, July 1996, pp. 21–24

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے آپ کی تجویز کے مطابق یہ نہیں کہا کہ : Follow one and believe in all یعنی ایک کی پیروی کرو اور سب کو سچ مانو ۔ گویا اصل چیز دوسرے مذہبوں کو سچا ماننا نہیں ہے بلکہ دوسرے مذہبوں کو ہیٹ نہ کرنا ہے ، اسی اصول پر ساری دنیا کا نظام چل رہا ہے اور اسی اصول پر ہندوستان کا نظام بھی چلے گا۔

لندن میں پاکستان کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ پاکستانی نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے قول کو دہرایا کہ " پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ " انھوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا اور پاکستان میں اسلام کا نظام ہی قائم ہو گا ۔ نظام کو یہاں چلنے نہیں دیا جائے گا۔

میں نے کہا کہ کوئی خطہ ارض اسلامی نظام نہیں بناتا بلکہ انسان اسلامی نظام بناتے ہیں۔ معاملہ میں پہلی غلطی اور نگ زیب نے کی۔ انھوں نے بڑا زمینی خطہ حاصل کرنے کے لئے لڑائیاں کیں تاکہ اس میں ایک عظیم اسلامی ایمپائر بنایا جا سکے ۔ مگر جب زمینی خطہ مل گیا تو معلوم ہوا کہ اسلامی ایمپائر بنانے کے لئے اصل ضرورت انسان کی ہے۔ چوں کہ اور نگ زیب کے پاس مطلوب انسان موجود نہ تھے اس لئے خطہ ارض مل جانے کے باوجود مطلوبہ اسلامی سلطنت نہ بن سکی۔ اس قسم کی بھیانک غلطی ایک بار کافی تھی۔ مگر پاکستان کے مفکرین نے یہی غلطی دوبارہ کی۔ انھوں نے ایک زمینی ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو تہ و بالا کر دیا۔ اور آخر میں معلوم ہوا کہ یہاں

اسلامی نظام نہیں بن سکتا، کیوں کہ اس کے لئے ضروری انسانی ٹیم موجود نہیں ہے۔ روزانہ میں کمرہ ہی میں صبح کا ناشتہ کرتا تھا۔ یکم اگست کو ناشتہ کے لئے میں ہوٹل کے مطعم میں چلا گیا۔ وہاں اتفاق سے منو بھائی مادھوانی اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ وہ بھی آکر میری میز پر بیٹھ گئے۔ ہم لوگوں نے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔

مادھوانی پریوار سب کا سب نہایت سادہ اور متواضع ہے۔ خاندان کے تمام افراد ہر وقت مشارکین کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ مسٹر مادھوانی یہاں کے ارب پتی افراد میں سے ہیں ۔ انھوں نے ہندوستانی معیار سے تین کروڑ روپیہ اس کانفرنس کے لئے دیا ہے۔ میں نے منو بھائی مادھوانی سے پوچھا کہ آپ بزنس کے میدان میں ہیں، یہ بتائیے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے باپ ہم لوگوں کو تین بات بتایا کرتے تھے :

1. Money is not your wealth. Your people are your wealth 2. When there is a will there is a way. 3. Be firm and kind, God will give you. میں نے پوچھا کہ "پیپل" کو آپ کس طرح تیار کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں صرف یہی کام کرتا ہوں ۔ میں نہ بنک جاتا اور نہ آفس میں بیٹھتا۔ میں مختلف دلیشوں میں گھومتا رہتا ہوں اور کام کے آدمی تلاش کرتا ہوں ۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ۔ جہاں کوئی نوجوان مجھے کام کا نظر آیا، میں اس کو فوراً اٹھا لیتا ہوں اور پھر اس کو پورا چانس دیتا ہوں ۔

میں نے پوچھا کہ آدمیوں کے انتخاب میں آپ کا اندازہ غلط بھی ثابت ہوتا ہوگا۔ پھر اس کی شرح اب تک کیا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مشکل سے تین فیصد ۔ انھوں نے کہا کہ میری کوشش سب سے زیادہ یہ ہوتی ہے کہ اچھا مینیجر تلاش کروں۔ میرا کام بہت سے دلیشوں میں پھیلا ہوا ہے۔ (سعودی عرب) میں بھی ہمارا آفس ہے، مگر یہ سارا کام میرے مینیجر چلا رہے ہیں۔ ایک بات انھوں نے یہ بتائی کہ میں اپنے رشتہ داروں کو کبھی نہیں لیتا۔ میں ہمیشہ خاندان سے باہر کے آدمی کا انتخاب کرتا یہ میرا مستقل اصول ہے۔

یکم اگست کو میری تقریر تھی۔ میں نے کہا کہ آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن ہے اور امن روحانی ترقی (spiritual uplift) کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔

ہمیں نے بتایا کہ انسان پیدائشی طور پر ایک روحانی مخلوق ہے۔ اس لئے انسان کو روحانی بنانا نہیں ہے، بلکہ اس کی روحانیت کو بچانا ہے۔ اس دنیا میں بار بار آدمی کے ساتھ نا خوشگوار واقعات پیش بار بار اس کو زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے واقعات آدمی کے اندر منفی جذبات ابھارتے ہیں جو روحانیت کو بھنگ کرنے والے ہیں۔

ایسی حالت میں اپنی پیدائشی روحانیت کو باقی رکھنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی منفی چیزوں کو مثبت چیزوں میں تبدیل کر سکے ۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہی فن سیکھنا ہے۔ عام طور پر میری تقریر کو پسند کیا گیا۔ گنگوتری کے سوامی جی نے کہا: ایسا لگتا تھا کہ ہر دلے کو بھاشا مل رہی ہو۔ میرے بعد چیف جتھیار پر و فیسر منجیت سنگھ کی تقریر ہوئی ۔ انھوں نے ایک قصہ سنایا کہ کچھ عیسائی بر نار ڈشا کے پاس آئے ۔ انھوں نے گیلیلیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ کہا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر چرچ نے اس کو سزا دی کیوں کہ یہ نظریہ چرچ کے عقیدے سے ٹکراتا تھا۔ بر نار ڈشانے کہا کہ گیلیلیو نے جھوٹ کہا۔ لوگوں نے پوچھا کیوں ، بر نار ڈشانے جواب دیا؛ جس سیارہ پر بر نار ڈشا پیدا ہوا ہو وہ بھلا کسی اور سیارہ کا سٹلائٹ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک طنز تھا۔ بر نار ڈشا کا مطلب یہ تھا کہ لوگ اپنی ذات سے سچائی کو ناپتے ہیں۔ وہ اس سچائی کا انکار کر دیتے ہیں جس میں ان کے خیال کے مطابق، ان کا اپنا قد چھوٹا ہو رہا ہو۔

جلسہ کے دوران مجھے ٹائیلٹ جانے کی ضرورت پیش آئی ۔ ایک صاحب نے رہنمائی کر کے یہاں پنڈال سے متصل خوبصورت کیبن کی صورت میں بہت سے باتھ روم کھڑے کے یہ سب جدید طرز کے نہایت صاف ستھرے باتھ روم تھے۔ اس میں بھی ہندوستان اور انگلینڈ کا فرق نمایاں طور پر دکھائی دیا۔

یکم اگست کی شام کو ہوٹل کے لان میں شامیانہ کے تحت ایک میٹنگ (ورک شاپ)

اس کا موضوع جین ازم تھا۔ منی جی چید اندر سرسوتی نیویارک سے آئے تھے ۔ انھوں نے جین ازم کے تعارف پر ایک تقریر کی ۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔

حاضرین میں سے ایک ہندو نے سوال کیا کہ آپ لوگ اہنسا کو مطلق (absolute) مانتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یدھ کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔ مگر ہندو ٹریڈیشن کے مطابق رام اور کرشن دونوں

نے بدھ کیا۔ پھر ان کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ مذہب کے نام پر میٹنگ کے بعد ایک نشست میں ایک ہندو بھائی نے اس پر سخت تنقید کی۔ گنگوتری سے آئے ہوئے سوامی جی نے کہا: وہ تو ایسا ہی کہیں گے۔ کیوں کہ ان کے گرنتھوں میں لکھا ہوا ہے کہ رام اور کرشن دونوں نرک میں گئے۔

ایک اور نوجوان نے سوال کیا کہ جین ازم کے مطابق ، ایک آدمی مر رہا ہو تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اس کو کھانا پانی کچھ نہیں دینا چاہئے۔ کیوں کہ وہ اپنے کرم کو بھوگ رہا ہے۔ کے جواب میں منی جی نے کہا کہ یہ ایک فرقہ (sect) کا نظریہ ہے ، وہ سارے جینیوں کا نظریہ نہیں۔ درمیان کچھ عورت اور مرد اٹھ کر جانے لگے تو انھوں نے مقرر کی طرف رخ کر کے دونوں ہاتھ جوڑے۔ اس طرح گویا جھک کر معافی مانگی۔ پھر باہر چلے گئے۔

میٹنگ کے بعد میں اپنے کمرہ میں آیا تو ایک ہندو نوجوان مجھ سے ملنے کے لئے اپنے ماں باپ کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ماں باپ کو شکایت تھی کہ وہ ایک مسلم لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ہندو دھرم کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ ماں باپ اس پر بہت دکھی تھے۔ اس لئے وہ نوجوان کو مجھ سے ملانے کے لئے لائے تھے۔

میں نے کہا کہ اسلام اگر آپ نے اس لئے قبول کیا ہے کہ وہ آپ کو صحیح نظر آیا تو بہت اچھی لیکن اگر آپ نے مسلم لڑکی سے شادی کے لئے اسلام قبول کیا ہے تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے تو میں نے شادی کی غرض سے اسلام کو اختیار کیا تھا۔ مگر اب میرا اس پر یقین ہو چکا ہے۔ حتی کہ اگر مسلم لڑکی میرا ساتھ چھوڑ دے تب بھی میں اسلام کو چھوڑنے والا نہیں۔ قرآن کی سورتیں ابھی یاد نہیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں انگریزی میں نماز پڑھتا ہوں۔ پانچوں وقت کی نماز کی پابندی ابھی وہ نہیں کر رہے ہیں۔

۲ اگست کی صبح کو ابھی میں بستر پر تھا کہ باہر سے کوے کے بولنے کی آواز آئی۔ آنکھ کھول کر کھڑکی سے دیکھا تو اجالا شروع ہو چکا تھا۔ اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی۔ دہلی میں بھی اسی طرح ہر روز صبح کو کوے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ چڑیوں کا جو طریقہ ہندوستان میں ہے وہی انگلینڈ میں ہے۔ چڑیاں ہر جگہ یکساں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انسان کو بھی فطرت کے اسی راستہ کو اختیار کرنا تھا۔ مگر انسان بار بار نفس

Printed page