Trees are green because they are green.
Al-Risala, July 1996, pp. 43–36
By Maulana Wahiduddin Khan
۳ اگست کی شام کو مسٹر رجنی کانت مہاتما ملاقات کے لئے آئے ۔ وہ لندن میں رہتے ہیں اور بمبئی کے ایک گجراتی اخبار (بمبئی سماچار) میں "ٹیمز کے ساحل سے" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہتے ہیں۔ نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ تخریب کاری کبھی لامحدود طور پر جاری نہیں رہ سکتی۔ تخریب کاری کی ایک حد ہوتی ہے اور اپنی حد پر پہنچ کر ہمیشہ تخریب کاری ختم ہو جاتی ہے ۔ اس دنیا میں تعمیر ابدی ہے اور تخریب صرف وقتی۔
شری مراری با پو نے اپنی ایک کتاب میں کہا کہ ہم لندن میں گھومنے کے لئے نہیں آئے بلکہ تمہارا دماغ گھمانے کے لئے آئے ہیں۔ تمہارا راجن تن بدل جائے اس کے لئے آئے ہیں۔ یہاں بسے ہوئے ہندوستانی جو اس طرح کی مجلسوں کا انتظام کرتے ہیں اس کا زیادہ بڑا محرک یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو اپنے آبائی مذہب پر باقی رکھ سکیں ۔ مگر ان کوششوں کا انجام کیا ہے، اس کو خود مراری با پونے ایک واقعہ کی صورت میں بیان کیا۔
انھوں نے کہا کہ بھارت سے ایک مہاتما یہاں آئے۔ یہاں روزانہ ان کا بیان ہوتا تھا۔ ایک ہندو نے ان سے مل کر کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے۔ اس کو بہت کہتا ہوں کہ وہ آپ کی مجلسوں میں مگر وہ آتا نہیں۔ گھر پا کر کے آپ میرے یہاں چلیں اور میرے بیٹے کو آشیرواد دیں۔ سرل آدمی تھے، مان گئے۔ فرصت ملنے کے بعد وہ اس ہندو کے گھر گئے۔ اس وقت رات کے ۱۲ بجے تھے اور لڑکا اپنے کمرہ میں سو چکا تھا۔ ماں باپ بڑی سر دھا سے مہاتما جی کو لڑکے کے کمرہ میں لے گئے۔ اس کو اٹھایا اور کہا کہ دیکھو یہ مہاتما جی آئے ہیں، اٹھو اور ان کا آشیرواد لو۔ لڑکا اٹھا اور مہاتما جی کے سر پر اپنا ہا تھ رکھ دیا۔ یہ قصہ بتا کر مراری با پونے کہا : اس نوجوان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ مہاتما کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا جاتا بلکہ جھک کر ان کے چرنوں کو چھوا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں ٹھیک یہی کہا فی مسلمانوں کی بھی ہے۔ مگر اس قسم کا تہذیبی جزیرہ (cultural island) بنا نا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ یہاں ایک تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ کے ہندوؤں کو یہ پسند نہیں کہ وہاں کے مسلمان ہندوستان میں اپنا الگ تہذیبی شخص ت قائم کریں۔
طرح پاکستان کے ہندو اگر پاکستان میں اپنا علیحدہ تشخص قائم کرنے کی کوشش کریں تو وہاں کے مسلمان اس کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ مگر یہی ہندو اور مسلمان جب باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں ان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہاں اپنے علیحدہ تشخص کو باقی رکھ سکیں اس تضاد کے ساتھ کسی کام میں کامیابی حاصل کرنا نا ممکن نہیں۔
ورک شاپ میں ایک ہندو نے یہ سوال کیا کہ کیا کی گر و کو بھگوان کہا جا سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ گرو کو خود نہیں بولنا چاہئے کہ میں بھگوان ہوں۔ مگر مشتیوں کو یہی سمجھنا چاہئے کہ گرو وہو ہے وہی بھگوان ہے، بلکہ گرو و بھگوان سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیوں کہ گرو کے بغیر بھگوان کو پانا ممکن نہیں اس پر بعد کو شری رام پاپانے مجھ سے سوال کیا کہ کیا منش بھگوان ہو سکتا ہے۔ بھگوان والی یا واکیا منش میں میں نے کہا کہ اسلام میں ایسا نہیں مانا گیا ہے۔ اسلام میں خدا خدا ہے، اور انسان مزید یہ کہ اسلام کے مطابق، خدا کو پانے کے لئے کسی درمیانی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ ۳ اگست کی شام کو حسب معمول ورک شاپ تھی۔ یہ ایک مشترک ورک شاپ تھی جس میں پانچ "سنت" سوالات کا جواب دینے کے لئے بٹھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ کے بارہ میں جو سوالات آئے ان کا جواب میں نے دیا۔ مگر یہ سوالات زیادہ تر غلط فہمی کی نوعیت کے مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ مکہ کے کعبہ میں جب شیولنگ موجود ہے تو ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ گائے کی پو جا کرو۔ میں نے کہا کہ یہ سب بالکل بے بنیاد باتیں ہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال عید الاضحیٰ کے تیوہار کے بارہ میں تھا، اس کی میں نے وضاحت کی اور بتایا کہ عید الاضحیٰ کا مقصد کیا ہے۔
یہ ورک شاپ ہوٹل کے وسیع لان میں رکھی گئی تھی۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو چھوٹے بچے مل کر گیت گار ہے تھے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا :
ہند دیش کے نواسی سبھی جان ایک ہے رنگ روپ دیش بھاشا چاہے ایک ہے ہند و دھرم سے متعلق سوال کا جواب دینے کے لئے کئی لوگ موجود تھے ۔ شری رمیش بھائی اوزا، سوامی چیدانند، ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی، ڈاکٹر کے ایل بیشاگہری راؤ۔ ۳۵ الرسائل جولائی ۱۹۹۶
لندن میں مقیم ایک ہندو نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہندو لوگ ہندو دھرم کو چھوڑ کر مسلمان یا عیسائی بن جاتے ہیں۔ کیا ہمارے دھرم میں کوئی خرابی ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہندو دھرم میں اتنے زیادہ خدا کیوں ہیں، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سچائی صرف ایک ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ گرو کا درجہ بھگوان سے بھی زیادہ ہے، ایسا کیوں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے سوال کیا کہ ہندوازم کی تعریف کیا ہے۔ ڈاکٹر سیتا گری راؤ (ایڈیٹر انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم) نے مہاتما گاندھی کی زبان میں جواب دیا کہ ہندوازم پر امن طور پر سچائی کی تلاش ہے:
Hinduism is a search for truth through non-violent means. شری رتیش بھائی اور ان نے ایک سوال کے جواب میں جو بات کہی وہ شاید ان مذاہب سے متعلق تمام سوالات پر چسپاں ہوتی ہے۔ ایک ہندو نوجوان نے سوال کیا کہ مہابھارت کے اندر بھگوان کرشن دھوکا دیتے ہیں۔ اور دوسری غیر اخلاقی باتیں کرتے ہیں۔ پھر وہ کیسے بھگوان ہیں۔ بھائی اور ان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عقل سے اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ نے شری کرشن کی طرف سے کہا ہے، اسی کو یہاں میں دہراؤں گا_ مجھ کو سمجھنے کی کوشش نہ کرو، بس مجھ سے پریم کرو: