Al-Risala · July 1996

Don't try to understand me. Just love me.

Al-Risala, July 1996, pp. 36–41

By Maulana Wahiduddin Khan

۴ اگست کی صبح کو حسب معمول ہوٹل سے جلسہ گاہ (راونڈ وڈ پارک) کے لئے روانہ ہوا ۔ ہماری کار میں دو پروفیسر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک ڈاکٹر مشیشا گری راؤ اور دوسرے صاحب جو کار کو چلا رہے تھے۔ صاحب کار نے کہا کہ آجکل میں ایک مغربی مصنف کی کتاب پڑھ رہا ہوں۔ اس کا نام ہے مسرت کا شہر (City of Joy) ۔ انڈیا کے تذکرہ کے تحت اس میں بہت بتایا گیا ہے کہ دیوالی ہندوؤں کے لئے جوئے کا تیوہار ہے۔ دیوالی میں ہندو بڑے پیمانے پر گیمبلنگ کرتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے تنقیدی انداز میں کہی۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے ڈاکٹر راؤ نے کہا کہ گیمبلنگ تو زندگی کا حصہ ہے۔ آپ کی میریج بھی تو گیمبلنگ ہے۔ میں نے کہا کہ میریج گیمبلنگ نہیں ہے، البتہ وہ رسک ہے، اور رسک بلاشبہ زندگی کا ایک حصہ ہے۔ صاحب کار نے میری بات سے اتفاق کیا۔ ڈاکٹر راؤ جو زیر ترتیب انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم کے چیف ایڈیٹر ہیں، انھوں نے کہا کہ ہندوازم اتنا پیچیدہ ہے

کہ کوئی بھی بات جو آپ ہندو ازم کی طرف منسوب کریں اس کی فوراً کوئی تردید کی جا سکتی ہے: روایتی طریقہ کے مطابق آج بھی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے تین صاحبان نے تقریر کی: پنڈت وتج رنگایا (بدھسٹ)، سرسگمٹڈ اسٹمبرگ (یہودی)، ریورنڈ مارکس (عیسائی)۔ کے بعد بھارتیہ ویدیا بھون کے چیئرمین کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ تینوں مقررین نے جو بات کہی عین وہی ہندوا سکرپچر میں بھی ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں:

اس کے بعد حسب معمول مراری با پو کی کتھا شروع ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ رامائن کے قصیدوں کی خوبصورت توجیہہ میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ اس کی مثالیں ان کے ہر بیان میں کثرت سے ملتی ہیں۔ مثلاً رامائن کے مطابق، سیتا کو راون چرا کر لنکا لے گیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھلا سیتا کو کوئی چرا سکتا ہے ۔ سیتا چرانی نہیں گئیں۔ وہ رام کی رضا مندی سے لنکا کو پوتر کرنے کے لئے ماں کے روپ میں لنکا گئی تھیں۔ انھوں نے لنکا کو پا ترتا دیا۔ اسی طرح رام چرت مانس میں ہے کہ ہنو مان جی لنکا گئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہاں ہر مکان مندر ہے۔ انھوں نے اس کی توجیہہ یہ کی کہ ہنو مان جس گھر میں جائیں وہ تو مندر ہی ہو جائے گا۔ اگر چہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ان کی یہ توجیہات فی الواقع توجیہہ ہیں یا لطیفہ۔

درمیان میں وہ طرح طرح کے نکتے بیان کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک قصہ کے ذیل میں انھوں نے کہا: نہ بھوگ گناہ ہے، اور نہ بھاگنا ہے، کیول پر بھو (کرشن) میں بھگینا ہے۔ ایک قصہ کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ ایک سجn نے مجھ سے پوچھا کہ با پو، آپ سورگ میں جائیں گے یا نرک میں۔ میں نے کہا کہ نہ ہم کو سورگ میں جانا ہے اور نہ ہم کو نرک میں جانا ہے۔ ہم کو بار بار سنسار (بھارت) میں جنم لینا ہے اور یہی رام کتھا کرنا ہے۔ اگر بھگوان نے ہم کو نرک میں ڈال دیا تو ہم بھگوان سے کہیں گے کہ ہم کو دوستا کہ دو کہ ہم یہاں بھی اپنی رام کتھا کرتے رہیں۔ رام کتھا وہ نہایت جوش اور مستی کے ساتھ کرتے ہیں۔ آج وہ چار گھنٹہ تک مسلسل کتھا کرتے رہے۔ مگر نہ وہ تھکے اور نہ ۲۵ ہزار کا مجمع اکتایا۔

گھنٹوں تک جاری رہنے والی پوری کتھا قصے کہانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ بال شنکر کی ماں کو کسی سخت ضرورت سے باہر جانا تھا اور اگلے دن درگا پوجا کا دن آنے والا تھا ماں نے اپنے بچہ سے کہا کہ مجھ کو جانا ضروری ہے۔ تم ایسا کرنا کہ درگا پوجا کے دن ایک پیالہ میں گائے کا تازہ دودھ لے کر درگا دیوی کو بھوگ لگا دینا۔ بال شنکر نے ماں کے کہنے کے مطابق، اگلے دن ایک صاف پیالہ میں دودھ بھرا اور گھر میں درگا دیوی کی جو مورتی تھی اس کے سامنے اسے رکھ دیا۔ اس کے بعد بال شنکر ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ بچہ یہ سمجھتا تھا کہ ماں درگا پیالہ کا دودھ پئے گی۔ لیکن ایک گھنٹہ، دو گھنٹہ گزرا۔ کئی گھنٹے گزر گئے مگر دودھ ویسا کا ویسا پڑا رہا۔ اب بال شنکر رو پڑا۔ اس نے کہا کہ ماں، تم دودھ کیوں نہیں پیتی ہو ۔ کیا اس لئے کہ میں چھوٹا سا لڑکا ہوں۔ وہ روتا رہا۔ یہاں تک کہ درگا دیوی نے پیالہ کا سارا دودھ پی لیا۔ یہ دیکھ کر بال شنکر دوبارہ رونے لگا۔ اس نے کہا کہ میری ماں تو پیالہ کا آدھا دودھ پیتی تھی اور آدھا میرے لئے چھوڑ دیتی تھی اور تم سارا ہی دودھ جب اس نے ایسا کہا تو درگا دیوی نے بچہ کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور اپنی چھاتی سے اس کو دودھ پلایا۔

یہ عجیب و غریب قصہ انھوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے سنایا کہ انسان اگر بھگوان سے سچے دل سے مانگے تو وہ ضرور اس کو دیتا ہے۔ چنانچہ ماں جب بھوگ لگاتی تھی تو درگا دیوی نے کبھی اس کو نہیں پیا۔ مگر جب بال شنکر رو پڑا تو اس نے دودھ کو نہ صرف پیا بلکہ بچہ کو بھی پلایا۔ اس قسم کی انوکھی کہانیوں اور توجیحات سے ان کی کتھا بھری ہوئی ہے۔ عین یہی بات مسلمانوں میں بھی پوری طرح داخل ہو چکی ہے۔ مسلمانوں کے یہاں لاکھوں بے اصل کہانیاں پھیلی ہیں اور بزرگوں کے بیانات زیادہ تر انھیں سے بھرے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج دونوں ہی فرقے قصہ کہانیوں کی ایک طلسم ہوشربا میں گم ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی خدا کی اصل ہدایت کا پتہ نہیں۔ ۴ اگست کی شام کی ورکشاپ صرف سوال و جواب کے لئے تھی۔ اس میں چارہ لوگوں کو سوالات کا جواب دینا تھا ۔ چیف جتھے دار پروفیسر منجیت سنگھ، سنت شری ریش بھائی او زا ، شریتی جیجا جی ، اور راقم الحروف۔

شریتی جیجا جی نے ایک سوال کے جواب کے تحت کہا کہ ہندو کا لفظ ہمارے شاستروں میں نہیں

اس لئے ہم کو اس لفظ کا استعمال چھوڑ دینا چاہئے۔ اس کے بجائے ہم کو بھارتیہ (بھارتی) کا لفظ استعمال کرنا چاہئے۔ یہ زیادہ صحیح لفظ ہے اور ہندوستان میں کسی کو بھی اس لفظ کے استعمال پر اختلاف نہیں ہوگا۔ ایک سوال یہ تھا کہ جب پو جا صرف بھگوان کی ہے تو گر و کے سامنے پو جا کیوں۔ شریمتی جیجا جی نے اس کے جواب میں کہا کہ گرو ہم کو بھگوان سے ملاتا ہے اس لئے اس کا اعتراف تو کرنا ضروری ہے۔ ہمیں گیان دینے والے کا سامان کرنا ہے۔ پھر اس کو کیسے کریں۔ میں "تھینک یو" نہیں ہے۔ بلکہ پو جا چہے۔ جس اعتراف کے لئے یورپ کے لوگ تھینک یو کہتے ہیں، اس کے لئے ہمارے یہاں پو جا کا طریقہ ہے۔

اسلام کے بارہ میں کئی سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام اتنا زیادہ بے برداشت (intolerant) مذہب کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ آجکل کے کچھ مسلمان بے برداشت ہو گئے ہیں تو میں صد فی صد اس سے اتفاق کروں گا ۔ لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ اسلام بے برداشت مذہب ہے تو میں اس سے صد فی صد اختلاف کروں گا۔ ڈاکٹر سیتا گری راؤ نے بتایا کہ انہیں یہ جواب بہت پسند آیا۔ ایک ہندو نوجوان نے عین جلسہ کے درمیان کھڑے ہو کر کہا ؛ آج سے پہلے میں مسلم سے ہیٹ کرتا تھا ، آج میری ہیٹ ختم ہوگئی۔ اسی قسم کی بات کئی اور ہندو نوجوانوں نے مجھ سے کہی۔ بہت سے ہندو میرے کمرہ میں آئے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ میری باتیں سن کر اسلام کے بارہ میں ان کی غلط فہمی دور ہو گئی ۔ جلسہ کے بعد بہت سے ہندو ، خاص طور پر نوجوان ، مجھ سے ملے اور کہا کہ ہمارے دل میں اسلام کے خلاف بہت سی باتیں بھری ہوئی تھیں ۔ ہم اسلام کو ایک بر اند ہب سمجھتے تھے۔ آپ کی باتیں سننے کے بعد ہمارا ذہن صاف ہو گیا اور اسلام کے خلاف ہمارے جو خیالات تھے وہ ختم ہو گئے ۔ کئی ہندو ایسا کہتے ہوئے روپڑے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کتنی گہرائی کے ساتھ باتوں کا اثر قبول کیا تھا۔

کئی انگریز نومسلموں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک عبد العظیم صاحب (عمر۴۶ ان کا قدیم نام پیٹر سینڈرس (Peter Sanders) ہے۔ انھوں نے ۱۹۷۰ میں اسلام وہ اپنی دس سال کی بچی فردوس کے ساتھ آئے۔ بچی نے بتایا کہ وہ جس اسکول میں پڑھتی

ہے اس میں کچھ پاکستانی بچے بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم آدھی مسلم (half-Muslim) ہو ۔ کیوں کہ تمہاری پیدائش انگلینڈ میں ہوئی۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے لوگ پورے مسلمان ہیں۔ ۴ اگست کی دوپہر کو جب لندن کے راونڈ وڈ پارک میں مرارسی باپو کی کتھا ہو رہی تھی، ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ کتھا کے درمیان جوش میں آکر ایک ہند و خاتون کھڑی ہو گئی۔ اس کے ہاتھ میں ترنگا ہندوستانی جھنڈا تھا۔ وہ اس جھنڈے کو اٹھا کر فضا میں ہلانے لگی۔ یہ دیکھ کر باپو جی نے کہا: جھنڈا اونچا رہے ہماراا۔ اور پھر حاضرین تالیاں بجا کر ہندوستان کا قومی ترانہ جن من گن بلند آواز سے گانے لگے۔ وسیع شامیانہ میں کچھ دیر کے لئے یہ منظر تھا کہ فضا میں ہندوستانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔ اور دوسری طرف وسیع پنڈال میں جن من گن کا ترانہ گونج رہا ہے۔

اس وقت اسٹیج پر دو انگریز یہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ پھیلی ہوئی جلسہ گاہ میں کئی انگریز نوجوان تھے جو ویڈیو ریکارڈنگ کے نظام کی نگرانی کر رہے تھے۔ ممکن ہے کہ حاضرین میں بھی کچھ انگریز لیکن انگریز یہ منظر دیکھ کر صرف مسکراتے رہے۔ کسی نے بھی ناراضگی یا احتجاج کا کوئی مظاہرہ حالاں کہ اگر ہندوستان یا پاکستان کے کسی جلسہ میں اس نوعیت کا واقعہ ہو تو اسی وقت ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ اور عجب نہیں کہ وہ خونیں فساد کے مرحلہ تک پہنچ جائے قوموں کی ترقی کا راز صبر ہے اور قوموں کی ناکامی کا راز بے صبری۔

ڈاکٹر میثا گرمی راؤس سے میں نے پوچھا کہ انگریزوں اور ہندوستانیوں میں مزاج کے اعتبار سے کیا فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی لوگ ایموشنل (جذباتى) ہوتے ہیں اور انگریز حقیقت پسند۔ میں نے کہا کہ اسی فرق نے دونوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر رکھا ہے جو موجودہ زمانہ میں پایا جاتا ہے ۔ انگریزوں نے ایک عالمی ایمپائر بنایا۔ مگر اتنے بڑے ایمپائر میں کسی بھی مقام پر کسی انگریز نے روولت (revolt) نہیں کیا۔ دوسری طرف اورنگ زیب نے ملکی سطح پر ایک چھوٹا سا ایمپائر بنایا اور اس کا حال یہ ہوا کہ ہر حاکم اور گورنر جس کو موقع ملا وہ مرکز سے بغاوت کرکے اپنی الگ سلطنت بنا کر آج آزاد ہندوستان میں ہر سر حدی ریاست میں سیاسی لیڈر یہ تحریک چلا رہے ہیں کہ کس طرح وہ اس کو نئی دہلی سے کاٹ لیں اور وہاں اپنی ایک الگ ریاست قائم کر دیں۔ مرارسی باپو اکثر کتھا کے آخر میں کہتے تھے : بھگوان سے ایک ہی چیز مانگو۔

کسی سچے سادھو سے کرا دے جو تمہارے اندر کو خالی کر کے اس کو گیان سے بھر دے۔ میں گرودو کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ عجیب بات ہے کہ عین یہی تصور اب مسلمانوں میں بھی پوری طرح مسلمانوں نے بھی کچھ ”بڑے“ فرض کر لئے ہیں۔ ان کا سارا مذہب انہیں انسانی بڑوں کے گر د گھومتا ہے۔ خدا مرکزی مذہب نہ ہندوئوں کے یہاں پایا جاتا ہے اور نہ موجودہ مسلمانوں

مراری با پو کی کتھا خوبصورت انداز میں ہند و ازم کا پرچار ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال لیجئے۔ اگست کی کتھا کے دوران انھوں نے کہا کہ آجکل کے بچے بہت ہوشیار ہیں۔ ایک باپ نے اپنے چھوٹے بچہ کو بتایا کہ کوئی چیز نا ممکن نہیں۔ نپولین نے کہا ہے کہ نامن کا لفظ صرف بیو قوفوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ بیٹا یہ سن کر باتھ روم میں گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ٹوتھ پیسٹ کا اس نے ٹیوب دبا کر پیسٹ نکالا اور پھر باپ سے کہا کہ اگر ہر چیز ممکن ہے تو آپ اس پیسٹ کو دوبارہ ٹیوب میں ڈال دو۔ باپ نے ہار مان لی۔

انھوں نے بتایا کہ مجھ سے یہاں کے ایک بچہ نے کہا کہ با پو یہ بتائیے کہ بی (B) ٹھنڈا کیوں ہوتا مراری با پو نے بہت سوچا گر بی کے ٹھنڈا ہونے کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ بچہ نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا کہ بی اس لئے ٹھنڈا ہوتا ہے کہ وہ اے اور سی کے درمیان ہوتا ہے:

Printed page