Al-Risala · July 1996

Because it is between A/C.

Al-Risala, July 1996, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

مراری با پو نے اس قصہ کو بتانے کے بعد کہا کہ آجکل کے بچے جو اتنے زیادہ ہوشیار ہو گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بار بار جنم لیا۔ بار بار وہ اس دنیا میں آکر اپنا گیان بڑھاتے رہے۔ با پو نے اس طرح مذکورہ قصہ سے ہندو ازم کا آو آگمن کا نظریہ ثابت کیا۔ مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ خود مراری با پو نے کیا بار بار جنم نہیں لیا ہے۔ بار بار جنم لینے والی ہوشیاری صرف برطانیہ کے لوگوں میں کیوں آئی ہے، جب کہ وہ اس عقیدہ کو مانتے ہی نہیں۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کا آشیرواد لینے کے لئے خاتون نے بتایا کہ ان کے گرو دہرہ دون کے پاس رہتے ہیں۔ انھوں نے برسوں تک جھاڑی میں رہ کر تپسیا کی ہے۔ اب ۱۲ برس سے وہ گئون میں ہیں۔ بہت پہنے ہوئے فقیر ہیں۔ ہندو قوم میں راورشاید الرسلہ جولائی ۱۹۹۶

انھیں کے اثر سے مسلمانوں میں بھی "فقیر" کا لفظ اپنے اندر ایک طلسماتی اثر رکھتا ہے۔ میں چوں کہ بہت سادہ رہتا ہوں، میرے دبلے پتلے جسم اور میرے الجھے ہوئے بال میں انھیں فقیر کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ مجھ کو دیکھ کر بہت زیادہ تاثر کا اظہار کرتے ہیں۔

صوفیوں کی طرف ہندوؤں کا کھنچاؤ اسی لیے ہوا کہ صوفی کی ترک دنیا کی زندگی میں ہندو کو فقیری کا رنگ دکھائی دیا۔ اسی قسم کے ایک صوفی سے احمد آباد کے قریب بہت سے ہندو متاثر ہوئے۔ لوگ اس وقت تقریباً ۱۰ لاکھ کی تعداد میں ہیں۔ مگر وہ آدھے ہندو آدھے سلمان بن کر رہ گئے۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ صوفی کے یہاں صرف شخصیت کا وسیلہ کام کر رہا تھا۔ شخصیت کے ہٹنے کے بعد کوئی اور چیز (مثلاً لٹریچر موجود نہ تھا جو ان متاثرین کی مزید ترقی کا ذریعہ بن سکے۔ خبر ہے کہ اب وہ لوگ دوبارہ اپنے قدیم مذہب کی طرف لوٹا دئے گئے ہیں۔

لندن میں مختلف اجتماعات میں میری کئی تقریریں ہوئیں۔ اسلام کے بارہ میں سوالات کا جواب دینے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ہندو مجھ سے اس طرح ملنے لگے جیسے کہ میں ان کا روحانی گرو ہوں۔ سے ہندو مرداور عورت میرے پاس آتے اور اپنے غیر معمولی تاثر کا اظہار کرتے۔ ان میں سے اکثر کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے رونے لگے۔ حتی کہ کئی ہندوؤں نے کہا کہ رام کتھا سے زیادہ ہم کو آپ کے ذریعہ ملا ہے۔

میں دنیا کے اکثر ملکوں میں گیا ہوں۔ ہر قوم کے لوگوں سے میرا سابقہ پیش آیا ہے۔ افریقہ، یورپ، امریکہ، غرض ہر جگہ کے لوگوں کے بارہ میں مجھے براہ راست طور پر جاننے کا موقع ملا ہے۔ مگر یہ بات میں نے صرف ہندوؤں میں پائی۔ ہر قوم میں مجھے ایسے لوگ ملے جنھوں نے میری تقریر یا تقریر پر غیر معمولی پسندیگی کا اظہار کیا۔ مگر دوسری کسی بھی قوم میں مجھ کو ایسے لوگ نہیں ملے جو اپنے تاثرات کو ظاہر کرتے ہوئے رونے لگیں۔ یہ تاثر پذیری (receptivity) کم از کم میرے تجربہ میں ، صرف ہندوؤں میں پائی ان کی اس صفت کو سوچ کر میں بے اختیار رونے لگتا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلتی ہے کہ خدایا ، تو اس قوم کی ہدایت کا سامان کر ۔ خدایا ، تو اس قوم کے لئے اپنی معرفت کے دروازے کھول دے ۔ خدایا ، تو اس قوم کو اپنے دین کے لئے قبول فرما۔

۵ اگست کو صبح نو بجے کا وقت ہے۔ دروازہ کھولتا ہوں تو ایک ہندو نو جوان کھڑے ہوئے ملتے

وہ لیسٹر میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا نام اجاری بتایا۔ ہند و طریقہ سے مجھے پر نام" کیا۔ اور پھر کہا : ہم لوگوں کو بہت غلط امپریشن تھی اسلام کی۔ اب آپ کو سننے اور دیکھنے کے بعد ہماری ساری درشتی بدل گئی۔

اس طرح کی بات یہاں بہت سے ہندوؤں نے کہی۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ نے غیر معمولی تاثر کا اس سے اندازہ ہوا کہ ہند و نوجوانوں میں کچھ فرقہ پرست لیڈروں نے جو نہر اسلام کے خلاف پیدا کیا ہے، اس کو ختم کرنا بہت آسان ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلم رہنما رد عمل کا انداز اختیار نہ کریں بلکہ مثبت انداز میں دین رحمت اور پیغمبر رحمت کا تعارف لوگوں کے سامنے لایا جائے اور ان کے لئے خدا سے دعا بھی کی جائے ۔

مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کے سابق لیڈر مسٹر الطاف حسین آجکل لندن میں رہتے ہیں۔ کیوں کہ پاکستان میں وہ غدار وطن قرار دے دیئے گئے ہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کرنا چاہا مگر ان سے ربط قائم نہ ہوسکا۔ الطاف حسین پاکستان کی پر اسرار شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ لاہور کے ماہنامہ میثاق (جون ۱۹۹۴) میں ان کی بابت حسب ذیل الفاظ چھپے ہوئے تھے۔

افواہ گرم ہے اور بہت وثوق سے بتایا جاتا ہے کہ الطاف حسین نے لندن میں اپنی رہائش کے لئے بیالیس لاکھ پونڈ اسٹرلنگ کا مکان خریدار کھا ہے۔ نیو یارک میں پانچ کروڑ ڈالر میں خریدا ہوا ان کا ہوٹل شب و روز مال بنار ہا ہے۔ اور یہ کہ ان کے پاس نقد موجود رقم کی مالیت دس ارب ایم کیو ایم کا سازشی عنصر نیو ورلڈ آرڈر کے لئے ہانگ کانگ کا متبادل تیار کرنے کے لئے کراچی کو سندھ سے کاٹنا چاہتا ہے۔ " صفحہ ۶ لندن سے ایک ہفت روزہ انگریزی اور گجراتی زبان میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام گراوی گجرات (Garavi Gujrat) ہے ۔ اس نے اپنی دو اشاعتوں میں میرے مضامین شائع کئے اور ان کو جلسہ میں تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے انٹر ویو بھی لیا۔ لندن کے فیسٹول میں ندا سب کے جو ذمہ دار افراد شریک ہوئے، ان میں سے ایک اکال تخت دامتر ) کے چیف جتھے دار پر وفیسر منجیت سنگھ بھی تھے۔ وہ چوں کہ معتدل اور امن پسند آدمی ہیں، ان کے خلاف انتہا پسند سکھوں کی طرف سے یہ خبر پھیلائی گئی کہ ان کو لندن کی

کانفرنس میں ایک سازش کے تحت بلایا گیا تھا تا کہ لندن میں مقیم سکھ انتہا پسندوں کو مین اسٹریم میں لایا جائے اور خالصہ تحریک کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے را (RAW) نے ان کو بیرونی کرنسی میں ایک کروڑ روپیہ سے زیادہ (Rs. 1.5 crore) کی رقم ادا کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) کی ایک رپورٹ کے مطابق ، چیف جھتے دار نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ سفر سکھ ازم کے پر چارہ کے لئے تھا :

He clarified that his visit was to propagate Sikhism. پر وفیسر منجیت سنگھ کے سفر کو دورخ سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ایک یہ کہ وہ دوسروں سے لینے کے لئے گئے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ دوسروں کو دینے کے لئے وہاں گئے ہیں۔ سکھ نوجوانوں نے ان کے سفر کو پہلے رخ سے دیکھا اس لئے وہ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ اگر وہ ان کے سفر کو دوسرے رخ سے دیکھتے تو وہ خوش ہوتے اور ان کی مذمت کرنے کے بجائے ان کو مبارک باد کا ٹیلیگرام بھیجتے۔ برطانیہ کے ایک عام آدمی سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران اس نے ایک لطیفہ سنایا۔ اس نے بتایا کہ مسٹرونسٹن چرچل جب پرائم منسٹر نہیں ہوئے تھے، اس وقت ان کا بی بی سی پر ریگولر پروگرام ہوا کرتا تھا۔ ایک روز چرچل کا پروگرام تھا۔ وہ گھر سے نکلے تو کچھ دیر ہو گئی تھی۔ بی بی سی کے آفس میں پہنچنا تھا۔ انھوں نے ایک ٹیکسی والے کو آواز دی۔ اس نے منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس وقت مجھے فوراً گھر پہنچنا ہے اور وہاں چرچل کو سننا ہے۔ چرچل نے اپنا نام نہیں بتایا۔ نے کہا کہ مجھ کو بی بی سی کے دفتر پہنچا دو، میں تم کو ستر پونڈ دوں گا۔ ستر پونڈ اصل کرایہ سے دس گنا زیادہ تھا۔ ٹیکسی والے نے جب ستر پونڈ کا لفظ سنا تو بولا: چرچل بھاڑ میں جائے۔ آؤ میں تم کو لے چلتا ہوں :

Printed page