Al-Risala · July 1996

It is a far cry to London.

Al-Risala, July 1996, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے یاد آیا کہ یہ ” ہنوز دلی دور است “ کا انگریزی استعمال ہے۔ زبانوں میں یہ یکسانیت

غالباً دو وجہ سے آتی ہے۔ ایک یہ کہ تمام تصورات یکساں طور پر ہر آدمی کی فطرت میں پیوست ہیں ۔ اور وہ اندرونی زور پر لفظ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ انسانی اختلاط کے دوران زبانوں میں برابر لین دین کا عمل جاری رہتا ہے ۔ پہلی چیز عالمی لسانی یکسانیت کی داخلی توجیہہ ہے اور دوسری چیز لسانی یکسانیت کی خارجی توجیہہ۔

دہلی کے اردو ہفت روزہ الجمعتہ (۴ - ۱۰ فروری) میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ عنوان تھا : ہندوستانی فرقہ پرستی کی ہوا دیار فرنگ تک پہنچی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لندن کے علاقہ ساؤتھ آل میں قدیم ٹاؤن ہال کو نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مسلمانوں نے اس کو مسجد کے لئے لینا چاہا۔ مگر فرقہ پرستی کا زہر ہندوستان سے سفر کرکے لندن تک پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی ضد میں ہندوؤں نے اعلان کر دیا کہ وہ ٹاؤن ہال کو خرید کر وہاں شاندار مندر تعمیر کریں گے۔ کے دن دونوں فرقوں کی طرف سے بڑھ بڑھ کر بولیاں لگائی گئیں۔ کونسل نے مزید رقم کی امید میں تاریخ بڑھا دی جو کہ ضابطہ کے خلاف تھی۔ اس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ گیا ۔ ہندوؤں کا مقصد مندر کی تعمیر نہیں ہے بلکہ صرف مسجد کی تعمیر کی مخالفت کرنا ہے۔ اسی طرح کونسل کا مقصد یہ ہے کہ اپنی جائداد کو اونچی سے اونچی قیمت پر فروخت کرے۔

یہ ایک عجیب رپورٹ تھی۔ لندن میں میں نے چاہا کہ اس کی تحقیق کروں۔ معلوم ہوا کہ یہ محض ایک سادہ سا مسئلہ تھا جس کو دہلی کے اردو اخبار نے مبالغہ آرائی کر کے اشتعال انگیز بنا دیا۔ اس وقت یہ عمارت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے ۔ وہاں باقاعدہ نماز ہوتی ہے اور اس کی تعمیر جدید کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اس مسئلہ پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان یہاں کوئی

انگلینڈ میں تعلیم کی نہایت آسانی ہے۔ پہلی جماعت سے لے کر ایم اے ، پی ایچ ڈی تک ساری تعلیم ذاتی خرچ کے بغیر حکومت کی مدد سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ مگر بیشتر لوگ صرف ۱۶ سال کی عمر تک پڑھ پاتے ہیں، کیوں کہ اس عمر تک کے لوگوں کے لئے پڑھنا قانونی طور پر لازمی ہے۔ ا فیصد تعداد ہی یونیورسٹی تک پہنچ پاتی ہے۔ انگریزوں میں یونیورسٹی تک پہنچنے والے بچوں کی تعداد صرف سات فیصد ہے۔

Printed page