اظہار خیال کی آزادی
Al-Risala, August 1996, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں انسان کو مکمل فکری آزادی دی گئی ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ہی نے پہلی بار انسانی تاریخ میں یہ انقلاب برپا کیا کہ ہر آدمی کو فکر و خیال کی آزادی ہو۔ اسلام سے پہلے تاریخ کے تمام زمانوں میں جبر کا نظام قائم تھا اور انسان فکری آزادی سے محروم تھا۔ فکری آزادی کوئی سادہ بات نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانی ترقیوں کا راز اسی فکری آزادی میں چھپا ہوا ہے۔ فکری آزادی کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس اعلیٰ نیکی کو حاصل کرتا ہے جس کو قرآن میں خوف بالغیب کہا گیا ہے (المائدہ ٩) یعنی خدا کی طرف سے ظاہری دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ کے تحت آزادانہ طور پر خدا کا اعتراف کرنا اور اس سے ڈر کر دنیا میں رہنا۔ جب تک مکمل آزادی کا ماحول نہ ہو کسی کو اس ناقابل بیان لذت روحانی کا تجربہ نہیں ہو سکتا جس کو غیب میں خدا سے ڈرنا کہا گیا ہے۔ یہی ممکن ہے کہ کسی کو اس اعلیٰ انسانی عمل کا کریڈٹ دیا جا سکے۔
آزادی فکر وہ چیز ہے جو آدمی کو منافقت سے بچاتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق اس کا ذہن لازمی طور پر سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر آزادانہ اظہار رائے پر پابندی لگادی جائے تو لوگوں کی سوچ تو بند نہیں ہوگی البتہ ان کی سوچ زبان و قلم پر نہیں جو ادارہ یا جو قوم یا جو ریاست اظہار خیال کی آزادی پر پابندی لگائے وہ آخر کار منافتوں سے بھر جائے گا۔ ایسے ماحول کے اندر مخلص انسان کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔
اسی طرح فکری آزادی کا براہ راست تعلق تخلیقیت سے ہے۔ جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی ہو وہاں تخلیقی انسان جنم لیں گے۔ اور جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی پر روک لگادی جائے وہاں لازمی طور پر ذہنی جمود طاری ہو جائے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے سماج میں تخلیقی ذہن کی پرورش اور اس کا ارتقاء ہمیشہ کے لیے رک جائے گا۔
اظہار اختلاف یا تنقید کے معاملہ میں صحیح مسلک یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں اپنی غیر ضروری حساسیت کو ختم کر دیں نہ یہ کہ خود تنقید و اختلاف کے عمل کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے اور یہی فطرت کا تقاضا بھی۔
حدیث میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ : (الذین اذا اعطوا الحق قبلوی (مسند احمد یعنی کہ جب انھیں کوئی حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کر لیں۔ یہاں حق سے مراد امر حق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مومن وہ ہے جس کے اندر اعتراف حق کا مادہ کامل طور پر موجود ہو۔ جب بھی کوئی امن کے سامنے لائی جائے ، جب بھی اس کی کسی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو کوئی بھی احساس کے لیے قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے ۔
اس صفت کا کامل درجہ یہ ہے کہ آدمی خود ہی پیشگی طور پر اس انتظار میں رہے کہ کب کوئی نے والا اس کو اس قسم کی کوئی بات بتائے اور وہ خوش دلی کے ساتھ فوراً اسے اپنا لے ۔ وح اور اپنی درستگی کا حریص بن جائے ۔ یہی مومنانہ کیفیت حضرت عمر فاروق رضی کی زبان سے ان میں ظاہر ہوئی کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اس انسان پر رحم کرے جو میرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے دے رحم الله امرأ اهدى إلى عيوبي)
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف حق ایک عبادت ہے ، بلکہ وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ نا ہے جس کے لیے آدمی کو سب سے بڑی قربانی دینا ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی قربانی اس کو سے بڑی عبادت بنا دیتی ہے۔ یہ قربانی اپنے وقار کی قربانی ہے۔ یہ اپنی بڑائی کو کھونے کی یہ حق کے لیے اپنے آپ کو بے قیمت کرنے کی قربانی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ آدمی کی قیمت دے کر جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔
اس عظیم عبادت اور اس عظیم خوش قسمتی کا موقع کسی کو کب ملتا ہے۔ یہ موقع صرف اس ملتا ہے جب کہ لوگوں کو اظہار خیال کی پوری آزادی ہو ۔ جب کسی رکاوٹ کے بغیر ایک آدمی سے آدمی پر تنقید کر سکے۔ جب معاشرہ میں یہ ماحول ہو کہ کہنے والا بے تکلف اپنی بات کو اور سننے والا کھلے طور پر اس کو سنے۔
جس طرح مسجد نماز با جماعت کی ادائیگی کا مقام ہے ، اسی طرح اظہار خیال کی آزادی گویا وہ نار ماحول ہے جس کے اندر حق کو کہنے اور حق کو قبول کرنے والی عظیم نیکیاں جنم لیتی ہیں۔ رح کے ماحول میں وہ معاملات پیش آتے ہیں جب کہ ایک شخص کو اعلان حق کا کریڈٹ دیا جائے اور وے شخص کو قبول حق کا انعام ۔