Al-Risala · August 1996

خدا کا تخلیقی نقشہ

Al-Risala, August 1996, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں ہدایت کا نظام ایمان بالغیب (البقرہ ۳) کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی یہاں تم حقیقتوں کو غیر مرئی حالت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی فکری قوتوں کو میں لاکر ان پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت کرے اور پھر ان کی کامل مطابقت میں اپنی زندگی گزار انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو اپنا بڑا بنائے، حالانکہ خدا کی بڑائی اس کی آنکھوں سامنے موجود نہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے ڈر سے، حالانکہ خدا کی تغذیبی طات دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ داعیان حق کے ساتھ در مگر داعیان حق ہمیشہ عام انسان کے روپ میں سامنے آتے ہیں، ان کو پہچاننا صرف اس کے ممکن ہوتا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن کی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی عام دنیوی چیزوں کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بے شمار مادی امکانات تھے۔ مگر وہ ہ زمین کے اندر چھپا کر رکھ دیے گئے۔ ان مادی امکانات کو دریافت کرکے انہیں ایک ترغ تمدن کی صورت دینا، یہ انسان کا کام تھا جو موجودہ زمانہ میں بڑے پیمانہ پر انجام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فطرت کا طریقہ عین وہی ہے جس کو فن تعلیم میں اکتشافی ظ (discovery method) کہا جاتا ہے۔

اس اکتشافی طریقہ کو قابل عمل بنانے کے لیے انسان کو ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا جو ایک طور پر ہر قسم کی ضروری صلاحیتوں سے بھرا ہوا تھا۔ انسان کا ذہن اس قابل تھا کہ وہ غور وفکر کر کے اشیاء کی حقیقتوں کو جانے۔ ایک طرف وہ اپنے خالق کو پہچانے، اور دوسری طرف دنیا کے ا چھپی ہوئی مادی نعمتوں کو دریافت کرکے انہیں اپنی تعمیر حیات میں استعمال کرے۔ پیغمبر کی حیثیت اس عمل میں ایک مبتدرہ نما کی ہے۔ خدا کا پیغمبر وہ بنیادی اصول دے ہے جس کی رہ نمائی میں انسان اپنا اکتشافی سفر شروع کرے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا۔ اس طرح جو حقیقت ملتی ہے وہ آدمی کے لیے اس کی ذاتی دریافت ہوتی ہے۔ وہ اس کی پو شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اس کے لیے ابدی سرمایہ حیات بن جاتی ہے۔

مگر دنیا کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر انسانیت کے آغاز کے جلد ہی بعد اہت کی صورت میں جبر کا نظام قائم ہو گیا۔ تمام آباد دنیا کچھ بادشاہوں کے زیر قبضہ آگئی۔ بادشاہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لیے کامل جبر کا نظام اختیار کر لیا۔ اس طرح ساری دنیا آزادانہ فکر اور آزادانہ اظہارِ خیالی کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ چیز جس کو آزادی اظہار (freedom of speech) کہتا ہے وہ قدیم دنیا میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔

یہی جبر کا نظام ہے جس نے پچھلے زمانوں میں پیغمبروں کی بات کو چلنے نہیں دیا۔ پھر یہی جبر کا نظام جو سائنسی دریافتوں اور ترقیوں میں مسلسل رکاوٹ بنا رہا۔ کیوں کہ کوئی بھی تصور اپنے ارتقاء کے لیے آزادانہ سوچ اور آزادانہ بحث چاہتا ہے۔ قدیم نظام جبر میں اظہارِ خیال کی آزادی نہ تھی، اس لیے کھلا غور و فکر بھی اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عامہ کے علاوہ یہ خاص کام بھی سونپا گیا کہ وہ دنیا میں قائم شدہ جبر کے نظام کو توڑ دیں۔ اس کے لیے انھیں خصوصی طور پر تمام ضروری مدد فراہم کی گئی۔ چنانچہ آپ نے اپنے کے ساتھیوں نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں ساری دنیا میں یا تو شاہی جبر کے اداروں کو توڑ دیا اس کی بنیادیں اتنی کمزور کر دیں کہ اپنے وقت پر وہ خود ہی گر پڑے۔ اس سلسلہ میں رسول اور اصحاب رسول نے جو جہاد کیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جس کا مقصد تاکہ جبر کے مصنوعی نظام کو توڑ کر کہ آزادی فکر کے فطری نظام کو قائم کر دیا جائے، تاکہ انسان کے لیے علم کی دینی اور دنیوی ترقی کا در دروازہ کھل جائے۔

اسی نظام جبر کو قرآن میں فتنہ کہا گیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کے حاملین سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے (الانفال (۳۹) اس آیت میں دین سے مراد کوئی شرعی نہیں ہے بلکہ دین فطری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی اسکیم میں خلل ڈالنے والے ان ظالموں سے جنگ کر دو تاکہ فکری جبر کا غیر فطری نظام جو انھوں نے رائج کر رکھا ہے اس کا خاتمہ ہو اور فکری آزادی کی بنیاد پر خدا کا مطلوب نظام دنیا میں قائم ہو سکے مصنوعی حالت ختم ہو کر انسان کی فطری حالت زمین پر بححال ہو جائے۔ یہ کام اب مکمل طور پر ساری دنیا میں انجام پا چکا ہے۔ اب اس نے انسان کے اوپر ہر قسم کی سعادت کے دروازے کھول دیے ہیں۔

Printed page