Al-Risala · January 1996

اجتہادی کوتاہی کے نتائج

Al-Risala, January 1996, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

مجتہدانہ بصیرت سے خالی ہونے کا نقصان سب سے پہلے ملت کو نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑائی میں بھگتنا پڑا ۔ اصل صورت حال سے عدم واقفیت کے نتیجہ میں عرصہ تک ایک طرفہ قربانی دی جاتی رہی ، جب کہ ان قربانیوں کا کوئی بھی فائدہ ملت کے حصہ میں آنے والا نہ تھا ۔ جس وقت مغربی استعمار کا مسئلہ پیدا ہوا ، ساری دنیا کے مسلم علماء پر روایتی اور تقلیدی ذہن چھایا ہوا تھا ۔ چنانچہ جب مغربی قو میں مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اس کو انھوں نے ویسا ہی ایک سیاسی

داخلہ سمجھا جیسا سیاسی داخلہ اس سے پہلے بار بار مسلم دنیا میں پیش آیا تھا۔ وہ اپنے روایتی ذہن کے تحت اس کے سوا کچھ اور نہ سوچ سکے کہ ماضی کے مماثل واقعات کی طرح اس کو بھی محض سیاسی جارحیت کا ایک واقعہ سمجھیں، اور دوبارہ اسی انداز کی دفاعی تدبیر کریں جو اس سے پہلے اس طرح کے مواقع پر اختیار کی گئی تھی۔

ہمارے علماء اگر زمانہ کی تبدیلیوں سے واقف ہوتے اور مجتہدانہ بصیرت سے کام لے سکتے تو وہ کہتے کہ مغربی قوموں کا پیدا کردہ مسئلہ سادہ معنوں میں صرف سیاسی جارحیت (political aggression) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک علمی اقدام (scientific advancement) کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ بروقت اس راز کو جان لیتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ وقتی طور پر تم ان کی سیاسی بالادستی کو گوارہ کرلو، اور جن علوم کی طاقت سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرو۔

یہ ٹھیک وہی تدبیر ہوتی جس کو اس سے پہلے خود ہمارے مقابلے میں یورپ کی صلیبی قوموں نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو قبول کر کے ان کے علوم کو سیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں اضافہ کر کے خود تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی قوموں کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹکرانے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سیکھنے اور تیاری کرنے کا مسئلہ تھا۔ صلاحیت سے محرومی کی بنا پر ہمارے علماء مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ اگر ہمارے رہنما بروقت اس اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیتے تو آج مسلم دنیا کی تاریخ اسی طرح عظمت کی تاریخ ہوتی جس طرح ماضی میں صلیبیوں کی تاریخ دوبارہ عظمت کی تاریخ بنی۔ اور جس کا ایک جدید نمونہ ہمیں جاپان کی صورت میں نظر آتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945 میں جاپان پر امریکہ کی سیاسی اور فوجی برتری قائم ہو گئی۔ جاپان کے دانشور طبقہ نے فوری طور پر یہ جان لیا کہ امریکہ کی فوجی اور سیاسی بالادستی کسی "سازش" کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جاپان کے مقابلہ میں امریکہ نے سائنس اور ٹکنالوجی میں برتری حاصل کرلی ہے اور جاپان اس اعتبار سے امریکہ سے پیچھے چلا گیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ جاپان کو شکست دے کر اس پر قابض ہو جائے ۔ جاپان نے اس فکری رہنمائی کی روشنی

میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالا دستی کو نظر انداز کیا اور اپنی ساری توجہ سائنسی تعلیم پر لگا دی۔ نتیجہ حیرت ناک طور پر جاپان کی موافقت میں نکلا ـــــــــ نصف صدی سے بھی کم مدت میں مفتوح نے فاتح کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔

انیسویں صدی کے علماء اگر مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ اپنے لحاظ سے اسی قسم کا کام کرتے جو صلیبیوں اور جاپانیوں نے اپنے لحاظ سے کیا۔ وہ جہاد کا فتویٰ دینے کے بجائے علم کا فتویٰ دیتے ۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے قوم کو علمی تیاریوں کی طرف متوجہ کرتے ۔ وہ دین کے ضروری تحفظ کے ساتھ تمام مسلم قوموں کو علوم جدیدہ کے حصول میں لگا دیتے ۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلتا اس کے بارے میں کسی فرضی قیاس کی ضرورت نہیں ۔ اولاً یورپ اور پھر جاپان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملہ میں واضح تاریخی مثال قائم کر دی ہے اور کوئی بھی صاحب نظر آدمی اس تاریخ کا مطالعہ کرکے اس معاملہ کو بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے۔

اجتہاد کے سلسلہ میں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کسی مخصوص صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی ایسی عملی تجویز پیش کی جائے جو ایک طرف مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو اور دوسری طرف اسلام کے روح و مزاج سے بھی ہم آہنگ یا غیر متصادم ہو تو اسے ایک مجتہدانہ رائے قرار دیا خواہ اس کو پیش کرنے والا کافر اور اسلام کا منکر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز ایسی رائے کو قبول کرنا اہل اسلام کے لیے درست بلکہ وقت کا عین مطلوب ہوگا۔ یہی بات شاطبی نے ان لفظوں میں لکھی ہے : "وقد ‌أَجَاز النظار وقوع الاجتهاد في الشريعة من الكافر لمنكر لوجود الصانع والرسالة والشريعة ، اذ كان الاجتهاد انما ينبنى على مقدمات تفرض صحتها كانت كذلك في نفس الأمر أولاً " ( الموافقات ، ۴/ ۵۸ )

اسی لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہندوستان کے اکابر علماء اور مسلم دنیا کے علماء کی اکثریت نے خلافت تحریک کے زمانے میں تشدد کے مقابلہ عدم تشدد کی پالیسی کو عملاً اختیار کیا جو ایک غیر مسلم کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔

یہ بات عین فطری ہے۔ کیوں کہ اجتہاد کا تعلق امورِ آخرت سے نہیں ہے بلکہ امورِ دنیا سے اور امورِ دنیا میں کسی بھی شخص سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

Printed page