نصیحت یا تعییب
Al-Risala, August 1996, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں حق کے داعیوں کے لیے نصح اور ناصح کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہو ہے کہ داعی کا کلام نصیحت کا کلام ہوتا ہے۔ یعنی اس کے لکھنے یا بولنے کا محرک صرف اصلاح اور خیر خواہی ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا محرک نہیں ہوتا جس کے تحت وہ دوسروں کے بارہ میں بولے یا دوسروں کے اوپر قلم اٹھائے۔
ناصح کا کلام ذمہ داری کے احساس کے تحت نکلتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور لکھنے سے پہلے تحقیق کرتا ہے۔ اس کا جذبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر میں خاموش رہا تو میں خدا کے یہاں پکڑا جاؤں گا وہ شہرت یا اظہار خویش یا کسی دنیوی فائدے کے لیے نہیں بولتا۔ وہ صرف اس لیے بولتا ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ بولنا اس کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ وہ جس کے بارہ میں بولتا ہے، اس کے حق میں عین اسی وقت وہ دل سے دعا بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس لکھنے اور بولنے کی دوسری صورت وہ ہے جس کو عیب جوئی یا تنقیص کہا جا سکتا قرآن میں ہے کہ : وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه لعلكم تغلبون (حم السجدة (۲۶) اس آیت میں والغوافیہ کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے یہ کی ہے کہ عیبوہ (تفسیر ابن کثیر ۷/ ۹۸) یعنی اس پر عیب لگاؤ، اس کو دوسروں کی نظر میں برا بتاؤ تاکہ لوگ بھڑک کر اس سے دور ہو جائیں۔
نصیحت اگر خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلتی ہے تو تعییب اس کے برعکس بد خواہی کے جذبہ کے تحت۔ عیب جوئی اور الزام تراشی کرنے والے کے پیچھے نفرت، حسد، انانیت جیسے منفی محرکات ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد دوسرے کی اصلاح کرنا نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے کو گرانا اور بے وقعت کرنا ہوتا ہے۔
نصیحت نہ صرف جائز ہے بلکہ وہ کا رثواب ہے۔ اس کے مقابلہ میں تعییب تنقیص یقیناً طور پر حرام ہے، وہ صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرنے والی ہے۔ نصیحت صحت مند معاشرہ علامت ہے اور تعییب صرف بیمار معاشرہ کی علامت۔
جس معاشرہ میں نصیحت کی فضا ہو وہاں لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ درمیان اعتماد کی فضا ہوگی۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے عزت و محبت کے جذبات کوئی کسی کو غیر نہیں سمجھے گا۔ کوئی کسی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ کوئی کسی کا استحصال کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
مزید یہ کہ ایسے ماحول میں جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے خلاف کوئی تنقیدی بات کہے گا تو سننے والا اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ نہیں بنائے گا۔ بلکہ اس کو ایک سادہ بات کے طور پر اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ دونوں کے درمیان کھلی گفتگو ہو۔ دونوں اپنی ذات کو الگ کرکے خالص حق تک پہنچنے کی کوشش کریں، اور پھر جو بات درست ہو اس کو بخوشی قبول کرلیں۔ اس کے برعکس تعییب (عیب جوئی) کے انداز میں صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ کرنے والے کی بات کو سن کر اگر دوسرا آدمی بھڑک اٹھے تو دونوں میں لڑائی شروع ہو جائے گی جو تمام برائیوں میں سب سے زیادہ سنگین برائی ہے۔ اور اگر بالفرض سننے والا تحمل مزاج ہے اور وہ اپنے خلاف عیب جوئی کو سن کر خاموش رہ جاتا ہے تب بھی وہ نقصان سے خالی نہیں۔ اول یہ کہ عیب لگانے والے نے اپنا وقت ضائع کیا۔ وہ اپنے اس وقت کو کسی صحت مند کام میں استعمال کر سکتا دوسرے یہ کہ معاشرہ کے اندر یہ بری روایت قائم ہوئی کہ ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی جاسکتی ہے ۔
اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم اس حدیث میں ملتی ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت)
قول خیر وہ ہے جو ثابت شدہ حقیقت پر مبنی ہو، جس سے کوئی تعمیری فائدہ مقصود ہو۔ تمام تر اظہار حق کے جذبہ کے تحت نکلا ہو۔ جو اصلاً خدا کے لیے ہو نہ کہ کسی انسان کے لیے۔ جو آدمی سنجیدہ ہو، جو اللہ سے ڈرتا ہو، اس کے دماغ میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات فی الواقع کسی مثبت قدر کی حامل ہے تو وہ بولتا ہے، ورنہ وہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے ۔