افکار کا ٹکراؤ
Al-Risala, August 1996, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو زمین پر بسایا تو پیشگی طور پر ان کو بتا دیا کہ نسل انسانی ایک دوسرے کی دشمن ہوگی (بعککم لبعض عدو) یہ گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان جیسی اک مخلوق جب دنیا میں آباد ہوگی تو اس کا یہاں آباد ہونا کوئی سادہ بات نہیں ہوگی۔ یہاں انسانوں کے درمیان اختلاف و نزاع کی صورتیں پیدا ہوں گی جو بعض اوقات شدید ہو کر عداوت تک جاپہنچیں گی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق نے ترقی کا کیا کورس مقرر کیا ہے۔ وہ کورس یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان خیالات کا ٹکراؤ ہو۔ اس سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں جاگیں گی اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں وہ نئی نئی دریافتیں کرتا چلا جائے گا۔ افکار کا ٹکراؤ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن جائے گا۔
اس پہلو سے دیکھیے تو اظہار رائے کی آزادی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر آزادانہ اظہار رائے نہیں ہوگا تو خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ اور جب خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا تو ذہنی جمود نہیں ٹوٹے گا۔ انسان نئی حقیقتوں تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔
مثلاً اسلام کے دور اول میں جب قرات کے اختلاف کی بنا پر لوگ قرآن کی تلاوت مختلف انداز سے کرنے لگے تو لوگوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کون سی قرأت صحیح ہے اور کون سی قرأت اس کے نتیجہ میں کتابت کے فن نے ترقی کی۔ پھر ایسا ہوا کہ لوگ قرآن کے معانی میں اختلاف اس نے بھی ایک لسانی بحث کا آغاز کیا جو یہاں تک پہنچا کہ مسلمانوں میں عربی زبان کے ماہرین پیدا ہوئے، اور عربی کی ڈکشنریاں تیار کی گئیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ اسی طرح لوگ شرعی امور میں طرح طرح کے اختلافات کرنے لگے۔ اس کی وجہ سے زبردست بحثیں شروع ہوئیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام میں علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم عقائد اور دوسرے علوم باقاعدہ صورت میں مدون ہو گئے ۔ دور اول میں اگر یہ اختلافات پیش نہ آتے تو نہ ذہنوں میں بیداری پیدا ہوتی اور نہ علوم و فنون کا ارتقاء ممکن ہوتا۔
پھر یہ عمل یہیں نہیں رہا۔ عباسی خلافت کے زمانہ تک پہنچ کر یہ ہوا کہ مسلمان ایشیا اور افریقہ کے پورے علاقہ میں پھیل گئے حتیٰ کہ وہ یورپ کے اندر داخل ہو گئے۔ اب ان کا فکری ٹکراؤ مصر، ایران، یونان، وغیرہ ملکوں کے خیالات و افکار سے ہوا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان عقلی بحثیں شروع ہو گئیں۔ یہ فکری ٹکراؤ آخر کار یہاں تک پہنچا کہ ایک نہایت طاقت ور علم کلام مدون یہ کام زیادہ تر عباسی خلیفہ المامون کے زمانہ میں ہوا۔ المامون نہایت فراخ دل تھا۔ اس زمانہ کے اہل علم کو اظہارِ خیال کی پوری آزادی دے رکھی تھی؛ و (طلق حریۃ الکلام للباحثین و هل الجدل والفلاسفة (الاعلام (۱۴۲/۴)
پھر یہ سیلاب یہیں نہیں رہا۔ علم و تحقیق کا یہ عمل مزید آگے بڑھ کر دوسرے علمی و فنی شعبوں تک پہنچ گیا۔ مسلمانوں میں فلسفہ، طب، ریاضی، بحریات، فلکیات، ارضیات کے ماہرین پیدا انھوں نے وقت کے تمام سیکولر علوم میں امامت کا درجہ حاصل کر لیا۔
پہلے مسلمانوں کا فکری ٹکراؤ دوسری قوموں سے ہوا تھا۔ جب مسلمان علمی ترقی میں آگے بڑھ گئے تو اب دوسری قوموں کا فکری ٹکراؤ مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے لگا۔ اس ٹکراؤ کے دوران مسلمانوں کے پیدا کردہ علوم اٹلی، اسپین، سسلی اور فرانس تک پہنچ گئے۔ اس کے نتیجہ میں یورپ میں نیا سائنسی دور شروع ہوا جو آخر کار موجودہ صنعتی انقلاب تک جا پہنچا۔ مغرب کا سائنسی اور صنعتی انقلاب براہِ راست طور پر دورِ اول کی مسلم بیداری سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ وہی عرب جب تک اپنے ملک کے حدود میں بند تھے وہ کوئی علمی کارنامہ انجام نہ دے مگر جب وہ اپنے ملک سے باہر نکلے اور بیرونی قوموں سے ان کا فکری و ذہنی ٹکراؤ پیش آیا تو انھیں لوگوں نے اتنی ترقی کی کہ وہ علم و فن کے عالمی امام بن گئے۔ یہ سارا معجزاتی واقعہ آزادانہ فکری تبادل کے نتیجہ میں پیش آیا۔
تنقید یا اظہار اختلاف دراصل تبادلۂ افکار ہی کا دوسرا نام ہے۔ کسی معاشرہ میں جتنا زیادہ فکری آزادی ہوگی، اتنا ہی زیادہ وہاں فکری تبادلہ ہوگا، اور اس فکری تبادلہ کے دوران تنقید اور اظہار اختلاف کی صورتیں بھی پیدا ہوں گی۔ فطرت کا مقرر کردہ یہی واحد ترقیاتی کورس ہے، افراد کے لیے بھی اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے بھی۔