Al-Risala · August 1996

When all think alike, no one thinks very much.

Al-Risala, August 1996, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ حقائق کی دنیا ایک لامحدود دنیا ہے۔ مگر ایک شخص کا تنہا ذہن صرف محدود طور پر سوچ پاتا ہے۔ اس لیے اگر جبر اور تقلید کا ماحول ہو تو ہر آدمی صرف محدود واقفیت کا حامل اس کے برعکس اگر لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی آزادی حاصل ہو تو لوگوں کے درمیان خیالات کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔ اب ہر آدمی دوسرے سے سیکھنا شروع کر دے گا۔ طرح مجموعی طور پر لوگ بہت زیادہ باتوں کو جان لیں گے۔ اس کے برعکس جہاں ایسا ماحول ہو جس میں تمام لوگ اپنے ہی دائرہ میں سوچیں تو ایسے ماحول میں لوگوں کی مجموعی واقفیت بھی بہت کم ہوگی۔ جب لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی کھلی آزادی ہوگی تو لازماً اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر تنقید کریں گے۔ یہ تنقیدی عمل ذہنی ارتقاء کا لازمی جزء ہے۔ خاتمہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے انتخاب (چوائس) تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو بند کر دیں تو عملاً جو چیز باقی رہے گی وہ ذہنی جود ہو گا نہ کہ صرف بے تنقید صورت حال۔

فکری آزادی فطرت کے نظام میں معاونت ہے اور فکری پابندی فطرت کے نظام میں رکاوٹ۔

Printed page