Al-Risala · August 1996

علی مرتضیٰ کی مثال

Al-Risala, August 1996, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

شورش پسند مسلمانوں کی ایک بھیڑ ۳۵ھ میں مدینہ میں داخل ہوئی اور اس نے خلیفہ سوم حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد اتنا خلفشار برپا ہوا کہ مدینہ پانچ روز تک خلیفہ سے خالی پھر حضرت علی بن ابی طالب کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ تاہم مسلمانوں کا ایک بہت بڑا گروہ اس بیعت پر متفق نہ تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ پہلے عثمان کا خون کرنے والوں کو سزا دی جائے، اس کے بعد وہ خلیفہ چہارم کی اطاعت کریں گے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت علی یہ کہتے تھے کہ پہلے خلافت کے معاملہ کو مستحکم ہونے دو، اس کے بعد قاتلین کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ اس طرح مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے۔ ایک حضرت علی کے ساتھیوں کا، اور دوسرا آپ کے مخالفوں کا۔ دونوں میں سخت اختلاف تھا، یہ اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کی نوبت آگئی۔

حضرت علی اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ سے بصرہ کے لیے روانہ ہوئے۔ پوچھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کا اشتعال ختم ہو اور امت میں اتفاق پیدا ہو جائے ۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر بصرہ والے آپ کی بات نہ مانیں تو آپ کیا کریں گے۔ حضرت علی نے کہا کہ ہم ان کو چھوڑنے رہیں گے جب تک وہ ہم کو چھوڑے رہیں (تركناهم ما تركونا) کہنے والے نے کہا کہ اگر وہ لوگ آپ کو نہ چھوڑیں اور جنگ پر آمادہ ہو جائیں تو پھر آپ کیا کریں گے۔ حضرت علی نے کہا کہ ہم مدافعت میں لڑیں گے۔ ابو سلام الدالانی نے کہا کہ ہمارا حال اور ان کا حال کیا ہو گا اگر کل کے دن ان سے ہمارا ٹکراؤ ہو جائے ۔ حضرت علی نے جواب دیا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا یا ان کا جو آدمی بھی قتل ہو گا اور اس کا دل پاک ہو گا تو اللہ اس کو ضرور جنت میں داخل کرے گا (الاجلار جو ان لا يقتل منا ومنهم احد تقى قلبه لله إلا ادخله الله الجنة) البدایہ والنہایہ ۷/۲۴۱ خلیفہ چہارم کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اختلاف اتنا بڑھے کہ باہمی طور پر جنگ کی نوبت آ جائے تب بھی مومن فریق ثانی کے بارہ میں اچھا ہی گمان رکھتا ہے۔ رائے کا اختلاف کسی بھی حال میں دل کے اختلاف یا بگاڑ کا سبب نہیں بنتا۔

Printed page