بے جا غلو
Al-Risala, August 1996, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ــ امید ہے کہ تمہارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے (عسی ان يبعثك ربك مقاما محمودا) (الاسراء، ۹ بغداد میں ۳۱۷ھ میں اس آیت پر دو مسلم گروہوں کے درمیان بحث ہوئی۔ ابو بکر المروذی کے اصحاب تھے، اور دوسری طرف عوام کا ایک طبقہ۔ حنابلہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ قیامت کے دن آپ کو عرش کے اوپر بٹھائے گا۔ گروہ کا کہنا تھا کہ اس سے مراد شفاعت عظمیٰ ہے۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ دونوں گروہوں میں باقاعدہ جنگ ہو گئی جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے (البدايه والنهايه ١٦٢/١١)
اس قسم کے واقعات پہلے بھی بار بار پیش آئے اور آج بھی ایسے واقعات کثرت سے پیش آ رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ بحث و اختلاف بذاتِ خود غلط ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ صرف مقلد بن کر رہیں۔ کسی بھی قسم کی اختلافی بحث میں نہ پڑیں۔ یہ شورہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ مشورہ دینے والوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اختلاف کا صحیح طریقہ بتائیں نہ کہ خود اختلاف کو بند کرنے کا مطالبہ کریں۔
مذکورہ افسوس ناک واقعہ اس لیے ہوا کہ انھوں نے علمی اختلاف اور جنگی ٹکراؤ کے فرق کو علمی اختلاف کا اول و آخر ہتھیار دلیل ہے، اور جنگی ٹکراؤ کا ہتھیار تلوار اور بندوق ہے۔ جنگی ٹکراؤ پیش آجائے تو تشدد دانہ اسلحہ کا استعمال ایک ناگزیر ضرورت ہو گا۔ کیوں کہ جنگی ٹکراؤ میں فیصلہ کن چیز ہمیشہ ہتھیار ہی رہا ہے۔
مگر علمی اختلاف کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ اس میں ہتھیاروں کا استعمال صرف ایک قسم کا پاگل پن ہے۔ کیوں کہ علمی اختلاف میں اصل اہمیت کی چیز دلیل ہوتی ہے نہ کہ تشدد۔ فریقِ ثانی اگر ایک دلیل کو نہیں مانتا تو اس کے سامنے دوسری دلیل پیش کیجیے۔ دوسری دلیل سے بھی مطمئن نہیں ہو تا تو تیسری اور چوتھی دلیل پیش کیجیے۔ علمی بحث میں ہمیشہ صرف دلیل پیش کی جائے گی، خواہ کوئی اسے مانے یا ماننے سے انکار کر دے۔
مذکورہ واقعہ سے جو چیز غلط یا قابل ترک قرار پاتی ہے وہ تنقید اور اختلاف نہیں ہے ۔ غلو اور شدت پسندی ہے ، اور غلو ہر معاملہ میں برا ہوتا ہے ۔
تنقید کو بند کرو ، اختلاف رائے کو ختم کرو ، تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے ۔ یہ جملہ قواعد کے اعتبار سے درست ہے ، گروہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے ، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو، اختلاف رائے کو برداشت کرو تا کہ امت میں اتحاد ہو سکے کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے ، اور امت مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہو گا ۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں ۔
صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے ، اسی طرح محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ حتی کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم کرلے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے ۔
تنقید و اختلاف کوئی برائی نہیں ۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہے ۔ مثال کے طور پر غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدان جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا ۔
اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالب خویش اور دوسرا طالب حق ۔ طالب خویش اپنی ذات میں جیتا ہے۔ اس کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔
طالب حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق ۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر بر حق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آئی جو پہلے سے اس کا مطلوب و مقصود تھی۔