جارجیت نہیں
Al-Risala, August 1996, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان خود اپنی فطرت کے تحت یہ چاہتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر سوچے اور آزادانہ طور پر اظہار خیال کرے۔ انسانی فطرت کی یہ ایسی خصوصیت ہے جس کو کسی طرح بھی انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ایک منفرد وجود ہے۔ ہر انسان کا طرزِ فکر دوسرے تمام انسانوں سے جدا ہے۔ اس لیے یہ نا ممکن ہے کہ تمام لوگ ایک ڈھنگ پر سوچنے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اختلاف ایک تقاضائے فطرت ہے، ایسی حالت میں انسانوں کے درمیان اختلاف کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ انسان کے بارہ میں صحیح اور ممکن رویہ صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔ اس دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ متمل ہو گا اتنا ہی زیادہ وہ کامیاب ہو گا۔
مورخینِ اسلام اس پر متفق ہیں کہ عملی اعتبار سے حضرت امیر معاویہ ایک نہایت کامیاب ان کی کامیابی کا راز یہ نہیں تھا کہ انھوں نے اپنی زیرِ حکم دنیا میں اختلاف کو مٹا دیا تھا۔ اس کے بجائے ان کی کامیابی کا راز وہ تھا جس کو ایک مورخ نے ”الحلم السياسي“ کا نام دیا وہ انتہائی غیر موافق بات کو انتہائی تحمل کے ساتھ سن سکتے تھے۔ ابن قتیبہ نے ان کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
غلظ رجل لمعاوية فحلم عنه ایک شخص نے امیر معاویہ سے سخت کلامی کی۔ فقيل له ، تحلم عن هذا ۔ فقال إن انھوں نے اس سے درگزر کیا۔ ان سے کہا گیا لا احول بين الناس وبين السنتهم کہ آپ ایسے آدمی سے درگزر کا معاملہ کر رہے ہیں۔ مالم يحولوا بيننا وبين سلطاننا انھوں نے جواب دیا کہ میں لوگوں کے درمیان اور ان کی زبان کے درمیان حائل نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے درمیان اور ہماری سلطنت کے درمیان حائل نہ ہوں۔
(عیون الاخبار ۲۸۳/۱)
اس تحمل کا تعلق صرف سلطنت یا سیاسی اقتدار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، خواہ وہ سیاسی دائرہ میں ہو یا غیر سیاسی دائرہ میں، آپ انسان کی اس دنیا کو ٹھوکر نہ ماریں۔ بلکہ اپنا اختلاف تمام تر صرف دلائل پیش کرنے تک محدود رکھیں، اگر آپ ایسا کریں تو معاشرہ میں کوئی خلل واقع نہ ہوگا۔ البتہ اختلاف اس وقت خلل اندازی کے ہم معنی بن جاتا ہے جب آپ آدمی کی اپنی مخصوص دنیا کے ساتھ تصادم
اختلاف کا صحیح اور فطری اصول یہ ہے کہ اختلاف کو صرف اختلاف کے دائرہ میں رکھا جائے، اس کو تصادم یا عملی جارحیت کے درجہ تک ہرگز پہنچنے نہ دیا جائے۔
ایک حاکم کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ اختلاف کرنے والافکری اختلاف کی حد سے - گزر کر اس کے اقتدار سے ٹکرانا شروع کر دے۔ وہ اس کے قلب و دماغ کو مخاطب کرنے کے بجائے اس کے سیاسی وجود کو مٹانے پر تل جائے۔
ایک عام انسان کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ اختلاف کی حد پر نہ رکے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر اختلاف شخص کی ذات کو مطعون کرنے لگے۔ وہ اس کی تذلیل و تحقیر کرے۔ وہ اس کو بدنام کرنے کی مہم چلائے۔ اس کی حیثیت عرفی کو بگاڑنے کی کوشش کرے۔ اس کے خلاف نفرت پیدا کرے۔ اس کے اخلاقی قتل کی مہم چلائے۔ سازشی منصوبہ کے ذریعہ وہ اس کی تدبیر کرے کہ اس کے سماجی تعلقات ٹوٹ جائیں اور وہ اپنے ماحول میں اکیلا ہو کر
عملی جارحیت کیا ہے، اس کا تعین ہر آدمی کے اپنے حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ اصولی طور پر عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی کے دماغ سے اپیل کرنے کے بجائے خود اس کے وجود سے تصادم شروع کر دیا جائے۔ اس کو سنجیدہ دلائل سے قائل کرنے کے بجائے غیر سنجیدہ طریقوں سے اسے زیر کرنے کی کوشش کی جائے۔
آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ مگر اس حق کو استعمال کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو تشدد اور جارحیت تک نہ لے جائے ۔