اجتہاد کی اہمیت
Al-Risala, January 1996, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
فکر اسلامی کی تشکیل جدید کامسئلہ حقیقۃً مسائل حاضرہ کے مقابلہ میں اجتہاد جدید کا مسئلہ ہے ۔ چوں کہ موجودہ زمانہ کے علماء اجتہاد کے لیے تیار نہیں ، اس لیے وہ ابھی تک فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا کام بھی نہ کر سکے ۔ حالاں کہ اسلام میں اجتہاد کو جاری رکھنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا اور اس کے سلسلہ میں مسلمانوں کی غیر معمولی ہمت افزائی کی گئی ہے ۔
صحیح البخاری (کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة) اور صحیح مسلم (کتاب الاقضیة) میں حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے، اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے (إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم اصاب فله أَجْرَانِ، - وإذا حكم فاجتهد، ثم اخطأ فله اجر)
ابن حجر العسقلانی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے شخص کے لیے دو اجر ہے، کوشش کا اور درستگی کا۔ اور دوسرے شخص کے لیے صرف کوشش کا اجر ہے (فالاولي له اجران، اجر الاجتهاد واجر الاصابة والآخر له اجر الاجتهاد فقط) فتح الباری ۳۳۱/۱۳ اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد اسلام میں اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس میں غلطی کرنے پر بھی ثواب رکھ دیا گیا ہے، بشرطیکہ اجتہاد کرنے والے کی نیت درست ہو۔ اس حدیث کے مطابق، اجتہاد کا عمل کسی حال میں روکا نہیں جائے گا، خواہ اس کے لیے رسک لینا پڑے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ چوتھی صدی، ہجری کے بعد لوگوں نے اس اندیشہ کی بنا پر اجتہاد کو ترک کر دیا کہ کہیں ہم سے غلطی نہ ہو جائے، جب کہ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا تھا کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی تم اجتہاد کا عمل جاری رکھنا۔ اس کا سبب اجتہاد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جہاں اجتہاد نہیں ہوگا وہاں جمود ہوگا۔ اور ذہنی جمود در حقیقت ذہنی موت ہے جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان نہیں۔