Al-Risala · January 1996

تقلید کے نقصانات

Al-Risala, January 1996, pp. 38–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد کا بدل تقلید ہے۔ جہاں اجتہاد کا عمل بند ہو گا وہاں تقلید کا عمل جاری ہو جائے گا، اور تقلید انسانی صلاحیتوں کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جس الم ناک صورتِ حال سے دوچار ہیں اس کی کوئی ایک وجہ بتا نا ہو تو بلا شبہ وہ یہی ہو گی کہ اجتہاد کا دروازہ بند کر کے امت کو تقلید کے اندھیرے میں ڈال دیا گیا۔

اجتہاد کا عمل رکنے سے جو خرابیاں آتی ہیں ان میں سے ایک ہلاکت خیز خرابی یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے دین کے نئے امکانات کو دریافت کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو جو دین دیا گیا ہے وہ ایک ابدی دین ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہے کہ وہ ہر آنے والے دور کی امکانات کو سموئے ہوئے ہے۔ ان مخفی امکانات کو مجتہدانہ بصیرت ہی کے ذریعہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اجتہاد کو ممنوع ٹھہراکر تقلید کو رائج کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واحد دروازہ ہی کو بند کر دیا گیا جس کے ذریعہ مسلمان اپنے دین کے نئے نئے امکانات تک پہنچ سکتے تھے۔

قرآن میں بہت سی آیتیں استقبال کے صیغہ میں ہیں۔ مثال کے طور پر تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم (آئندہ) ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حم السجدہ ۵۳) اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے اور یہ خبر دی کہ آئندہ فتنے اٹھیں گے ۔ آپ نے جبریل سے پوچھا کہ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ خدا کی کتاب۔ اس میں آپ سے پہلے کی خبریں ہیں اور آپ کے بعد جو کچھ پیش آئے گا اس کی بھی خبریں ہیں (فيه نبأما قبلكم ونبأ ما هو كائن بعدكم)، اور یہ کہ قرآن کے عجائب ختم نہ ہوں گے ( ولا تنقضى عجائبه )

حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں اللہ نے اولین اور آخرین کے علم کو جمع کر دیا ہے اور جو ہوا اور جو ہو گا ان سب کا علم بھی (جمع الله في هذا الكتاب علم الاولين والآخرين وعلم ماكان وعلم مايكون) جامع الاصول فی احادیث الرسول ۴۱۴/۸

جب خدا کے بھیجے ہوئے دین میں قیامت تک کی باتیں چھپا دی گئی ہیں تو لازم ہے کہ وہ ہر دور میں ظاہر ہوتی رہیں ۔ مگر یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ پچھلے چھ سو سال سے مسلم دنیا کوئی بھی ایسی کتاب پیش نہ کر سکی جس کو تخلیقی عمل (creative works) کہا جا سکے کیسی عجیب بات ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کے مسئلہ پر کتاب لکھتے ہیں اور اس کا نام خالص تقلیدی انداز میں عقد الجید في احکام الاجتهاد والتقلید رکھتے ہیں۔ غالباً آخری تخلیقی کتاب جو مسلم دنیا پیش کر سکی وہ مقدمہ ابن خلدون ہے ۔ اس کے بعد پچھلے چھ سو سال کے اندر جو کتابیں لکھی یا چھاپی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب روایتی اور تقلیدی انداز میں ہیں ۔ نہ کہ تخلیقی اور اجتہادی انداز میں ۔ مثال سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، موسیٰ کا ہم زمانہ مصری بادشاہ سمندر میں غرق کر دیا گیا تھا ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اس فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا _________ : "پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے ، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں ۔ " (یونس ۹۲) اس آیت میں ایک حتمی اعلان تھا کہ فرعون کا جسم معجزاتی طور پر محفوظ رکھا جائے گا، تا کہ اہل اسلام اس کو استعمال کر کے بعد کی انسانی نسلوں کے سامنے کتاب الہی کی صداقت کا اظہار کر سکیں ۔ علمی خزانہ مصر کے اہرام میں محفوظ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مصری علماء صرف اتنا ہی جان سکے کہ یہ بلند اہرام لعنة الفراعنۃ کے حامل ہیں ۔ صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں اور کسی بھی مسلم عالم کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خدا کی اس چھپی ہوئی نشانی سے پردہ اٹھائے اور قرآن کی ایک ناقابل انکار صداقت کے طور پر اس کو دنیا کے سامنے پیش کرے ۔

سب سے پہلے ایک فرانسیسی اسکالر پروفیسر (Loret) نے ۱۸۹۸ میں فرعون کے اس محفوظ جسم کو اہرام کے اندر سے نکالا ۔ پھر اس ممی کیے ہوئے جسم کو لا کر قاہرہ کے میوزیم میں اس کے بعد پہلی بار ۸ جولائی ۱۹۰۷ء کو پروفیسر اسمتھ (Elliot Smith) نے اس جسم کے غلاف کو کھول کر اس کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور پھر وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے مشہور ہے :

The Royal Mummies (1912)

یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پہلا شخص جس نے اس دریافت شدہ مواد کو صداقت اسلام کے لیے استعمال کیا وہ صرف ایک فرانسیسی عالم ڈاکٹر موریس بکائی تھا ۔ وہ جون ۱۹۰۵ میں وہاں اس نے براہ راست طور پر میوزیم میں اس کا مطالعہ کیا۔ حتیٰ کہ اس معاملے کی کامل تحقیق کے لیے اس نے عربی زبان سیکھی، تاکہ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کے قصہ کو براہ راست مطالعہ سے سمجھ ان سب کے بعد اس نے اپنی شاہکار تصنیف فرانسیسی زبان میں لکھی۔ جس کا ترجمہ اب مختلف عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کو واقعاتی طور پر ثابت کرنے والا صرف ایک فرانسیسی عالم اسی کو یہ توفیق ملی کہ وہ اس کی بابت یہ پر اہتزاز بیان (thrilling statement) تاریخ میں ثبت کر سکے کہ وہ لوگ جو مقدس کتاب کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں ۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جوکہ فرعون کے جسم سے متعلق ہیں :

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo (p. 241)

موجودہ زمانہ میں جب مہلک جنگی ہتھیار وجود میں آئے تو ساری دنیا میں جنگ کو برا سمجھا جانے لگا ۔ تمام سنجیدہ لوگوں کی نظر میں جنگ ایک ناپسندیدہ چیز بن گئی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے بعد جنگ اب صرف تباہی کی چیز بن چکی تھی ۔

ایسے ماحول میں یہ کہا جانے لگا کہ اسلام اب نئے دور کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہو چکا ہے ۔ دور جدید میں وہ کوئی تعمیری رول ادا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اسلام کا انحصار جنگی طاقت پر ہے، اور جنگی طاقت میں اب سرے سے کوئی تعمیری رول ادا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ اس نئے ماحول میں ضرورت تھی کہ اسلام کی امن کی طاقت کو دلائل و شواہد سے واضح کیا جائے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم ذہن صرف مدافعت کرنے میں مشغول انھوں نے اسلامی جنگ کے قوانین پر موٹی موٹی کتابیں لکھ ڈالیں۔ پہلا شخص جس نے

اسلام کی امن کی طاقت، یا دوسرے لفظوں میں، اسلام کی دعوتی طاقت کو منظم اور مدلل انداز میں پیش کیا، وہ ایک عیسائی اسکالر ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ انھوں نے لمبی محنت کے بعد ۱۸۹۶ء میں اپنی کتاب دعوت اسلام (The Preaching of Islam) چھاپی۔ اس کتاب میں انھوں نے نہایت مسکت انداز میں دکھایا کہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی نظریاتی طاقت ہے، اور یہ نظریاتی طاقت خود اپنے آپ میں یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ انسانوں کو مسخر کر سکے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں جب سائنسی حقائق ظاہر ہوئے اور سائنس کی عظمت لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تو اس کی ضرورت پیدا ہوئی کہ خدا کے دین کی صداقت کو سائنس کی سطح پر از سر نو مدلل کیا جائے۔ یہاں بھی کوئی مسلم اسکالر اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہ بن سکا۔ پہلی بار جس نے اس کام کو وقت کے علمی معیار پر انجام دیا، وہ فرانسیسی اسکالر موریس بوکائی تھا۔ جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس کی اس کتاب کا نام یہ ہے :

Maurice Bucaille, The Bible, The Quran, and Science (1976)

اسی طرح جدید ذوق کے مطابق ضرورت تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو خالص تاریخی معیار پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہاں بھی مسلم علماء اور دانشور اس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم سیرت نگاروں نے سیرت پر جو کتابیں لکھی ہیں وہ تقریباً سب کی سب اعتقادی انداز میں ہیں نہ کہ جدید مفہوم کے مطابق، علمی انداز میں۔ اس ضرورت کو بھی پہلی بار جس شخص نے پورا کیا وہ ایک مسیحی ڈاکٹر مائیکل ہارٹ تھا جس نے تاریخ کے سو بڑے انسانوں پر ایک ضخیم کتاب لکھی۔ اور اس میں دکھایا کہ پوری بشری تاریخ میں جو سب سے زیادہ کامیاب انسان پیدا ہوا وہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے : Michael H. Hart, The 100 (1978)

صحیح البخاری (کتاب الجھاد) میں یہ روایت ہے کہ اللہ فاجر شخص کے ذریعہ بھی اس دین کی مدد کرے گا (ان الله ليوئيد هذ الدين بالرجل الفاجر) فتح الباری ۲۰۸/۶ مذکورہ تائیدی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جب میں اس حدیث پر غور کرتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ رجل فاجر کے اندر اگر اجتہادی اسپرٹ ہو تو وہ بڑے بڑے تخلیقی کام انجام

دے گا ۔ اور رجل مومن اگر اجتہادی اسپرٹ سے خالی ہو جائے تو اس دنیا میں وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا، خواہ بطورِ خود وہ اپنے آپ کو سُر تاج انسانیت اور امامِ ِقافلۂ بشری ہی کیوں نہ سمجھ رہا ہو ۔

Printed page