Al-Risala · August 1996

مشترک ذمہ داری

Al-Risala, August 1996, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن ماجہ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے بھلائی کا دروازہ کھولنے والا اور برائی کا دروازہ بند کرنے والا بنایا یا زطوبی لعبد جعلہ اللہ مفتا حا للخير مغلا قا للشر)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچے اسلامی معاشرہ میں لوگ کس احساس کو لے کر جیتے ہیں۔ ایسے معاشرہ میں ہر آدمی اس احساس کے تحت جی رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ کے احوال میں اسے غیر جانب دار نہیں رہنا ہے بلکہ ہر موقع پر اپنا اصلاحی کردار ادا کرنا ہے۔ جہاں اس کو نظر آئے کہ وہ ایک بھلائی کی روایت قائم کر سکتا ہے تو فوراً وہ اس کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔ طرح جہاں اس کو دکھائی دے کہ ایک شر جنم لے رہا ہے تو فوراً وہ اس کو رو کنے کے لیے کمر بستہ ہو جائے گا۔ خیر کا راستہ کھولنا اور شر کا دروازہ بند کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ایک اہم

اسلام کا یہ مطلوب اصلاحی عمل کسی ایسے معاشرہ ہی میں انجام دیا جاسکتا ہے جہاں تنقید کو برا نہ سمجھا جاتا ہو۔ جہاں باتوں کو اس لحاظ سے نہ دیکھا جائے کہ وہ کس کے موافق ہے اور کس کے خلاف۔ اس کی وجہ سے کس کی شخصیت اونچی ہوتی ہے اور کس کی شخصیت نیچی۔ حتی کہ کلام کے اس پہلو کو بھی نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ نرم الفاظ میں ہے یا سخت الفاظ میں۔ معاشرہ میں جب تک اس قسم کا آزادانہ ماحول نہ ہو، کسی کے لیے مذکورہ مومنانہ عمل انجام دینا ممکن ہی نہیں۔

کسی معاشرہ میں اس روح کا پایا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس معاشرہ کے افراد صرف اپنے لیے نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اور اخلاقی احساسات وہ اپنے ماحول کے بارہ میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ وہ حق کے لیے کسی اور کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے دل میں ہر ایک کے لیے خیر خواہی کا جذ بہ موجود ہے۔ وہ مجموعی انسانیت کا فائدہ چاہتے ہیں نہ کہ صرف اپنا یا اپنی ذات کا فائدہ۔ تاہم یہ نیکی صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو اظہار حق کے ساتھ قبولیت حق کا مادہ بھی اپنے اندر رکھتے ہوں۔

بھلائی کا دروازہ کھولنا اور برائی کا دروازہ بند کرنا، یہ کوئی ایک طرفہ عمل نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو خدائی لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کا احتساب کریں اور دوسروں کو ان کا احتساب کرنے کا حق نہ ہو۔ بلکہ یہ دو طرفہ عمل ہے، اور معاشرہ کے سبھی لوگوں کی طرف سے سبھی لوگوں کے اوپر جاری رہتا ہے۔

اسی لیے قرآن وحدیث میں اس کے لیے وہ صیغے استعمال کیے گئے ہیں جن میں دو طرفہ مشارکت کا مفہوم ہے۔ مثلاً فرمایا کہ وتواصوابالحق (العصر) یعنی ایک دوسرے کو باہم حق کی نصیحت اسی طرح فرمایا کہ کا نوالا یتنا هون عن منكر فعلوه (المائدہ، ۷۹) یعنی وہ بگاڑ کے وقت ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہیں تھے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ بل آمروا بالمعروف و تناهوا عن المنکر (سنن ابی داؤد) یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو برائی سے روکو۔

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بہت سے واقعات اس سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں مثلاً متعدد بار ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک حکم جاری کیا۔ ایک شخص نے شرعی دلیل کے ساتھ بتایا کہ آپ کا حکم کا درست نہیں۔ اس کے بعد فوراً انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ لو لا فلان تهلك عمر (اگر فلان شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا) ایک مرتبہ حضرت عمر رات کے گشت پر نکلے۔ دیکھا کہ ایک آدمی شہر کے باہر کھڑا ہوا ایک عورت سے بات کر رہا ہے۔ انھوں نے اس کو کوڑا مار اس نے کہا کہ آپ نے کیوں مجھے کوڑا مارا۔ حضرت عمر نے کہا کہ تم رات کے وقت ایک اجنبی عورت سے بات کر رہے ہو۔ اس نے بتایا کہ یہ اجنبی عورت نہیں ہے، یہ میری بیوی ہے۔ ہم دونوں باہر سے اگر ابھی یہاں پہنچے ہیں۔ ہم مشورہ کر رہے تھے کہ اس وقت شہر میں کس کے گھر جائیں حضرت عمر نے فوراً کوڑا مذکورہ آدمی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ اب تم مجھے کوڑا مارو، کیوں کہ اس معاملہ میں اصل غلطی میری تھی۔

یہی ہمیشہ تمام صالحین کا معاملہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسروں کے اوپر تنقید کرے۔ اسلام میں اختلاف اور محاسبہ کا حق ایک مشترک حق ہے نہ کہ کسی ایک کا مخصوص حق۔

Printed page