Al-Risala · August 1996

فرقہ بندی

Al-Risala, August 1996, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کے لوگ بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت کے لوگ تہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ سب آگ میں جائیں گے سوا ایک کے (کلھم فی النار الا واحدة) پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول! یہ ایک کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ طریقہ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (ما انا علیہ و اصحابی) علما را سلام نے ۷۲ء گمراہ فرقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً سید عبد القادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور نام بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ شیعہ معتزلہ، مرجیہ، مشبیہ، جہمیہ، ضراریہ، کلابیہ، وغیرہ۔ پھر ہر فرقے کے ذیلی فرقے۔ اس طرح انھوں نے اس تعداد کو بہتر اور تہتر تک پہنچادیا ہے۔ اگر چہ ان میں سے بیشتر فرقے اب صرف کتابوں میں ہیں، عملی دنیا میں ان کا کہیں وجود نہیں۔

تا ہم ان تاریخی فرقوں کی اہمیت با عتبار حصر نہیں ہے بلکہ با عتبار علامت ہے یعنی وہ علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ امت میں جب گمراہی آئے گی تو وہ کس طرح اور کس راستہ سے آئے گی ۔ فرقوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام گمراہ فرقے اعتقادیات میں غیر ضروری خوض کے نتیجہ میں پیدا ہوۓ۔ اور یہی ان کی اصل گمراہی تھی۔ غور و فکر اسلام میں مطلوب ہے۔ حتی کہ قرآن کے نزول کا مقصد ہی تدبر بتایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح تد بر آدمی کی معرفت حق میں اضافہ کرتا ہے۔ کے برعکس منحرفانہ تد بر ذہنی انتشار پیدا کرتا ہے، اور آخر کار گمراہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ عقائد کا تعلق امور غیب سے ہے۔ غیب کے بارہ میں آدمی براہ راست علم حاصل نہیں کر سکتا تھا، اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں اتنے ہی پر قناعت کیا جائے جو بتا دیا گیا ہے (بہمومآ ابھمہ اللہ) اور نا معلوم کے دائرہ میں خیال آرائی کی کوشش نہ کی جائے ۔ اس معاملہ میں اصحاب رسول کا طریقہ تھا۔

جو آدمی اپنی غور و فکر کو معلوم کے دائرہ میں استعمال کرے وہ (ما انا علیہ و اصحابی) کا مصداق ہے، اور جو آدمی غیر معلوم یا ممنوعہ دائرہ میں خوض کرنے لگے وہ ہدایت کے دائرہ سے نکل گیا۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ اللہ ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں کچھ بنتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں، فتنہ کی تلاش میں اور اس کی تاویل کی تلاش میں۔ الّاں کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نا پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (آل عمران۷)

یہ آیت بتاتی ہے کہ غلط قسم کا غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ کون سا غور و فکر ہے جو آدمی کو ہدایت ، طرف لے جانے والا ہے۔ اس آیت میں متشابہات سے مراد متماثلات ہے۔ یعنی تمثیل اسلوب وہ باتیں جن کا تعلق غیبی حقیقتوں سے ہے ان کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا مثلاً خدا کا ہاتھ تمثیل کی زبان ہے نہ کہ حقیقت کی زبان۔ اس طرح کی باتوں کو آدمی تعیین و تحدید کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ان معاملات میں صحیح یہ ہے کہ مجمل علم پر قناعت کی جائے۔ ہ جانے کی کوشش آدمی کو صرف فکری انتشار (confusion) تک پہنچائے گی۔ اور فکری انتشار ی کے اگلے نتیجہ کا نام گمراہی ہے۔

محکم سے مراد وہ آیتیں ہیں جو براہ راست زبان میں ہیں اور جن سے قطعی دلالت حاصل یہ معلوم انسانی دائرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سنجیدہ غور و فکر سے آدمی کے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہدایت کے راستہ پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جبر و قدر کا جو مسئلہ ہے وہ پورا کا پورا تمابہات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بارہ میں مجمل علم پر قانع رہنا ہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور شریعت کا تقاضا بھی۔ اور یہی عین سائنسی نقطۂ نظر ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جو عالم فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر یہ غور و فکر عین مطلوب ہے۔ اس قسم کا غور و فکر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے۔ اس کی روحانیت کو غذا فراہم کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کو ربانی شخصیت بناتا ہے۔ اس کو وہ اعلیٰ انسان بنا دیتا ہے جس کو عام زبان میں حقیقت شناس اور مذہبی زبان میں خدا شناس کہا جاتا ہے ۔

Printed page