پوپ کے جواب میں
Al-Risala, September 1996, pp. 17–21
By Maulana Wahiduddin Khan
پوپ جان پال دوم کی ایک کتاب سن ۱۹۹ میں چھپی ہے۔ اس کا ترجمہ بہت سی عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان محمد (Muhammad) ہے۔ اس مختصر باب میں اسلام پر اظہار رائے کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
جو شخص بھی پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کو جانتا ہے، اور پھر وہ قر آن کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر اس عمل کو دیکھتا ہے جس کے ذریعہ وہ مکمل طور پر خدائی اظہار کو گھٹاتا ہے، یہ نا ممکن ہے کہ آدمی اس کو نوٹ نہ کرے کہ قرآن کا بیان اس سے الگ ہے جو خدا نے اپنے بارہ میں کہا ہے، سب سے پہلے پرانے عہد نامہ میں پیغمبروں کے ذریعہ، اور پھر آخری طور پر نئے عہد نامہ میں اپنے بیٹے کے خدا کے خود ظاہر ہونے کا قیمتی پہلو، جو کہ پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کا حصہ ہے، وہ قطعی طور پر اسلام میں بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ انسانی زبان کے کچھ بہت ہی خوب صورت نام قرآن میں خدا کو دیے گئے ہیں لیکن آخری طور پر وہ دنیا سے باہر کا ایک خدا ہے۔ ایک ایسا خدا جو صرف عظیم ہے، وہ ایسا خدا نہیں جو ہمارے ساتھ ہو۔ اسلام ہر گز نجات کا مذہب نہیں (اصل عبارت نیچے ملاحظہ فرمائیں) پوپ کی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں خدا کو ایک غیبی حقیقت کے طور پر مانا گیا ہے۔ وہ ایک محسوس وجود کی صورت میں انسان کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس مسیحی مذہب میں تجسیم (incarnation) کا تصور ہے۔ یعنی خدا کا بیٹا) انسان جیسے گوشت اور خون کی صورت میں انسان Whoever knows the Old and New Testaments, and then reads the Koran, clearly sees the process by which it completely reduces Divine Revelation. It is impossible not to note the movement away from what God said about Himself, first in the Old Testament through the prophets, and then finally with New Testament through His Son. In Islam all the richness of God's self- revelation, which constitutes his heritage of the Old and New Testaments, has definitely been set aside. Some of the most beautiful names in the human language are given to the God of the Koran, but He is ultimately a God outside
کے پاس آیا۔ اس بنا پر پوپ کا دعویٰ ہے کہ مسیحی تصورِ خدا میں قربت کا پہلو پوری طرح موجود ہے، جب کہ اسلام میں یہ ناممکن ہے کہ انسان اپنے اور خدا کے درمیان حقیقی قربت کا تجربہ کر سکے۔ پوپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام نجات کا مذہب نہیں ہو سکتا کیوں کہ جو مذہب آدمی کو خدا سے نہ ملاتا ہو وہ اس کی نجات کا ذریعہ کیسے بنے گا۔
ا- پوپ کی اس بات کو زیرِ بحث لانے کے لیے سب سے پہلے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ بائبل کا بیان زیادہ مستند ہے، مگر یہ کسی طرح ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ بائبل (پرانا عہد نامہ، نیا عہد نامہ) کی تاریخی تحقیق کرنے والے تمام علما یہ کہتے ہیں کہ بائبل اپنی اوریجنل صورت میں موجود ہی نہیں۔ کی تبدیلی اور الحاق نے اس کو تاریخی طور پر ایک غیر مستند کتاب بنا دیا ہے۔ ایسی حالت میں پوپ کا مذکورہ دعویٰ اپنے پہلے مرحلہ ہی میں رد ہو جاتا ہے جب بائبل قابلِ اعتبار کتاب نہیں تو اس کے کسی بیان پر استدلال کی عمارت کیسے کھڑی کی جا سکتی ہے۔ ۲- اس سے قطع نظر، پوپ کی یہ بات ایک غلط مفروضہ پر اپنی عمارت کھڑی کرنے کے ہم معنی ہے جس کو منطق کی اصطلاح میں بنا ر فاسد علی الفاسد کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ ابتدائی مفروضہ ہی درست نہیں کہ خدا اور انسان کے درمیان قربت کے لیے ضروری ہے کہ خدا خود انسان کے روپ میں ظاہر ہو۔ خدا اور انسان کی قربت کسی لمسِ جسمانی کا نام نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی قربت ہے جو مکمل طور پر نفسیات کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بالفرض اگر خدا ہمارے سامنے موجود ہو تب بھی نفسیات کی سطح پر بھی اس سے ہماری قربت قائم ہوگی نہ کہ ظاہری جسم کی سطح پر۔
اتصال نام ہی ہے روحانی اتصال کا۔ خود انسانوں کے درمیان بھی تمام اعلیٰ اتصال روحانی اتصال مثلاً دوست کا دوست سے ملنا حقیقتاً دو جسموں کا ملنا نہیں ہوتا بلکہ دو روحوں کا ملنا ہوتا اسی لیے دو مُردہ دوست اگر پاس پاس رکھ دیے جائیں، تو اگرچہ ان کے جسم ایک دوسرے سے متصل ہوں گے، مگر روح نہ ہونے کی وجہ سے دونوں اتصال کے تجربہ سے محروم ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور بندے کا اتصال دو اِسٹوچو کا اتصال نہیں ہے، بلکہ وہ روح اکبر کے ساتھ روح اصغر کا اتصال ہے۔ اسی بنا پر اس کی اہمیت ہے۔ اگر وہ محض دو جسموں کا اتصال ہوتا تو سرے سے اس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوتی۔
۳- پوپ جان پال دوم نے قربتِ خداوندی کی جو نوعیت بتائی ہے وہ مذہبی طور پر قطعا غیر ثابت وہ تحریفات کے بعد بھی پرانے عہد نامہ یا نئے عہد نامہ (تورات واینجيل) میں موجود نہیں ہے۔ قدیم و جدید عہد نامہ کے پورے دفتر میں کوئی بھی عبارت ایسی نہیں ہے جو صراحت اور قطعیت کے ساتھ پوپ کے مذکورہ بیان کی تصدیق کرتی ہو۔ گویا کہ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی کھلی دلیل خود کتب قدیمہ میں بھی موجود نہیں۔
اس سلسلہ میں کتب قدیمہ سے اگر کوئی حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ استنباطی نوعیت کا ہے مثلاً اس سلسلہ میں اکثر یوحنا کی انجیل کا یہ فقرہ نقل کیا جاتا ہے کہ اور کلام مجسم ہوا : The Word became flesh. (John 1:14)
مگر اس عبارت میں پوپ کا مذکورہ نظریہ ہرگز موجود نہیں۔ وہ صرف استنباطی طور پر اس سے نکالا جاتا ہے۔ اور ایک ایسا نظریہ جس کو مسیحیت کا مرکزی اصول (central doctrine) کہا جاتا ہے، اگر وہ استنباط کے ذریعہ ثابت کیا جائے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ثابت ہی نہیں ہوا۔ کوئی شخص انجیل کی مذکورہ آیت یا اسی قسم کی کسی اور آیت سے استنباطی طریقہ پر اس کی تائید نکالے تو وہ تائید ہرگز کافی نہیں ہوگی۔ اتنا زیادہ بنیادی عقیدہ صرف اس وقت کسی کتاب سے ماخوذ قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ وہ براہِ راست طور پر اس کے متن سے نکل رہا ہو۔ اگر اس کو تشریح و تعبیر کر کے نکالا جائے تو یقینی طور پر وہ نکلا ہی نہیں۔ اس طرح کے امور میں صرف براہ راست استدلال کارآمد ہوتا ہے، بالواسطہ استدلال اس طرح کے امور میں کار آمد نہیں۔
۴- اگر اس بے بنیاد عقیدہ کو برائے بحث مان لیا جائے کہ خدا (یا خدا کا بیٹا) حضرت مسیح کے روپ میں دنیا میں آیا تب بھی قربتِ خداوندی کا یہ عقیدہ نا قابلِ عمل قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ مسیح کی زندگی میں بھی چند ہی لوگ اور وہ بھی محض کچھ لمحہ کے لیے جسمانی اعتبار سے مسیح کے قریب ہو سکے۔ اور اب حضرت مسیح کی غیر موجودگی میں تو تمام ہی لوگ مستقل طور پر قربت کے اس تجربہ سے محروم ہیں۔ آج اگر کسی کو مسیح کی قربت حاصل ہوگی تو وہ نفسیاتی سطح پر ہی حاصل ہوگی۔ پھر دونوں مذہبوں کے تصورِ قربت میں کیا فرق باقی رہا۔ ۵- اسلام میں خدا کا جو تصور دیا گیا ہے وہ کوئی دور کا خدا نہیں ہے، بلکہ وہ ایسا خدا ہے جو انسان سے بالکل قریب ہے (البقرہ ۱۸۶) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب ایک سجدہ کرتا
ہے تو وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہو جاتا ہے (العلق ۱۹) اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ( تعبد اللہ کا نك تراہ) اور یہ کہ آدمی جب دعا کرتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے (مناجی ربہ)
اس طرح کی آتیں اور حدیثیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں خدا کا جو تصور دیا گیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان قربت کا تعلق نہیں ہے بلکہ صرف دوری کا تعلق ہے۔ اصل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو اہل ایمان ہیں وہ خدا سے بہت زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں (البقرہ ۱۶۵) یہی واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو خدا سے ملانے کیوں کہ آدمی جب تک قربت کا احساس نہ کرے، اس کو کبھی خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق نہیں ہو سکتا۔
قرآن کے مطابق (حتی کہ خود کتب قدیمہ کے مطابق) خدا سے قربت و اتصال غیر مادی سطح پر ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں ذکر اور دعا اور غور وفکر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے یہ ذہنی یا قلبی اعمال دراصل اپنے اندر اعلیٰ روحانیت کو جگانے کے لیے ہیں۔ یہ اعلیٰ روحانیت جب کسی کے اندر جاگ اٹھے تو کسی تاخیر کے بغیر فورا ہی اس کا اتصال خدا کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے۔ نہ وقت اور مقام کی کوئی شرط ہے اور نہ کسی قسم کے درمیانی واسط کی ضرورت۔ بندہ جب خدا کی یاد میں غرق ہوتا ہے۔ وہ اس کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ پکارتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو پوری طرح اپنے رب کی طرف مرکوز کر دیتا ہے تو فورا ہی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خداوند ذوالجلال کے ساتھ روحانی سطح پر انسان کا اتصال ہے ۔
اس اتصال کی علامت کے طور پر انسان کا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سینہ میں ایک آفاقی سکون اتر آیا ہے۔
یہی خدا اور بندے کا اتصال ہے۔ یہ اتصال سب سے زیادہ اسلام میں حاصل ہوتا کیوں کہ اسلام انسان کو کسی ظاہری یا غیر متعلق چیز پر نہیں اٹکاتا، بلکہ وہ اس کو براہ راست ۲۰ الرسائل ستمبر ۱۹۶۹
خداوند عالم سے مربوط کرتا ہے ۔ وہ انسان کی لامحدود اندرونی شخصیت کو بیدار کرتا ہے۔ انسان کی اندرونی شخصیت پوری طرح بیدار ہو جائے اس کا خدا سے اتصال اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا کہ کنکشن درست ہونے کے بعد بلب اور پاور ہاؤس کے درمیان رشتہ نور کا قائم ہو جاتا۔ از مولانا وحید الدین خان فکر اسلامی قیمت : ۵۰/ روپے قیادت نامه ۵ ۳۰/ کتاب زندگی „ „ ۵۵/- ڈائری „ „ ۸۰/- دفتر میں ماہنامہ الرسالہ کے پرانے متفرق شمارے (اردو، ہندی اور انگش تینوں زبانوں میں بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں ، جس کو افادہ عام کی غرض سے نہایت ارزاں قیمت پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک شمارہ کی قیمت ۲ روپے ہوگی۔ جب کہ ۱۰۰ یا اس سے زائد شمارے منگوانے کی صورت میں مزید ایک روپے کی تخفیف کر دی جائے گی۔ یعنی ۱۰۰ روپے میں ۱۰۰ شمارے۔ ڈاک خرچ بھی کتبہ کے ذمہ ہوگا۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ بطور خود اور مقامی اصحاب خیر کو ترغیب دے کر اس پروگرام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔ تاکہ الرسالہ کے دعوتی اور تعمیری مشن سے وہ لوگ بھی آشنا ہو جائیں جو اب تک کسی وجہ سے آشنا نہ ہو سکے۔