Al-Risala · September 1996

مینیجر ماہنامہ الرساله

Al-Risala, September 1996, pp. 22–334

By Maulana Wahiduddin Khan

1920ء میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی وغیرہ نے ہجرت کا فتویٰ دیا تھا۔ اخبار اہلِ حدیث امرت سر کے شمارہ ۲۰ جولائی 1920ء میں یہ فتویٰ ان الفاظ میں چھپا تھا :

” تمام دلائل شرعیہ ، حالاتِ حاضرہ ، مصالحِ مہمہ امت اور مقتضیات ومصالح پر نظر ڈالنے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ اس اعتقاد پر مطمئن ہو گیا ہوں کہ مسلمانانِ ہند کے لئے بجز ہجرت کوئی چارہ شرعی نہیں ہے۔ ان تمام مسلمانوں کے لئے جو اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑا اسلامی عمل انجام دینا چاہیں ضروری ہے کہ وہ ہندوستان سے ہجرت “ (تحریک خلافت، از قاضی محمد عدیل عباسی، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۸۲ء، صفحہ ۱۳۲) اس فتوے کے مطابق بہت سے مسلمان ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے۔ یہ سفران کے لئے سفر ہجرت کے بجائے سفر بربادی بن گیا۔ بے پناہ تباہی کے بعد کچھ لوگ مرگئے، کچھ لوگ مایوسی اور دل شکستگی کے ساتھ واپس آگئے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ظفر حسن ایک کی آپ بیتی) مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے علما نے ہجرت کا یہ فتویٰ کیوں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ۱۸۵ء میں علما نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ ساٹھ سال سے زیادہ مدت کے تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ جہاد یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ حالت میں یہ سوال تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ ان علما نے سمجھا کہ اب انھیں ہجرت کر کے پڑوس کے مسلم ملک میں چلا جانا چاہئے اور وہاں سے مدد حاصل کر کے اور مزید تیاری کر کے دوبارہ ہندوستان پر حملہ کرنا چاہئے۔ اس طرح انگریزوں کو یہاں سے نکالنا چاہئے ۔ یہ ان علما کی اجتہادی غلطی تھی۔ یہ اجتہادی غلطی ان سے اس لئے ہوئی کہ انہیں 'ہجرت' کے لفظ سے صرف ایک ہی قسم کی ہجرت کا علم تھا۔ یعنی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ اور ہجرت کا پتہ نہیں تھا، صرف اس لئے کہ اس کا نام قدیم کتابوں میں ہجرت کے بجائے حد پیہ لکھا ہوا ہے۔

ہجرت بجائے خود ایک اہم اسلامی فریضہ ہے۔ مگر ہجرت کی دو صورتیں ہیں۔ ہجرت اور دوسرے تدبیری ہجرت۔ مکہ سے مدینہ جانا یہ مکانی ہجرت تھی اور حدیبیہ کا معاہدہ تدبیری ہجرت تھی۔ کیوں کہ اس معاہدہ میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اب تک دونوں فریقوں کے درمیان جو جنگ جاری تھی اس کو بند کر دیا جائے ۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہ کرے اس طرح حدیبیہ نے میدان عمل کو بدل دیا۔

گویا کہ صلح حدیبیہ تشدد آنہ عمل (violent activism) سے غیر تشدد آنہ عمل (non-violent activism) کی طرف ہجرت تھی۔ اس صلح کے ذریعہ فریق ثانی کو عدم جارحیت کا پابند کر دیا گیا اور اس طرح اہل اسلام کے لئے پر امن دعوت یا غیر تشدد آنہ عمل کار استہ کھل گیا۔

عجیب بات ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے علما کی سمجھ میں یہ دوسری ہجرت نہ البتہ مہاتما گاندھی نے اس راز کو پایا جنھوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۳۱ء میں جب کہ علماء مسلمانوں کو ہجرت مکانی کی دعوت دے رہے تھے، عین اس وقت مہاتما گاندھی نے اہل وطن کو ہجرت تدبیری کا پیغام دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب تک ہم تشدد کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد چلا رہے تھے۔ یہ طریقہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اب ہم کو تشدد کا طریقہ چھوڑ کر عدم تشدد کے طریقہ پر اپنی تحریک چلانا چاہئے۔

عدم تشدد کے ہتھیار سے مراد تھا دلیل کا ہتھیار ۔ یہ دوسرا ہتھیار ہندوستانیوں کے حق میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ تشدد کے طریقہ میں انگریزی حکومت زیادہ طاقت ور ثابت ہو رہی تھی۔ اور ہندوستانی لوگ اس کے مقابلہ میں کمزور فریق بنے ہوئے تھے۔ مگر جب عدم تشدد کا طریقہ اختیار کیا گیا تو اچانک ہندوستانیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ کیوں کہ اب مقابلہ ہتھیار کے میدان کے بجائے نظریات کے میدان میں منتقل ہو گیا۔

مشینی انقلاب نے انگریزوں کو زیادہ بہتر ہتھیار دئے تھے۔ مگر دلیل اور نظریہ کے میدان میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس دوسرے میدان میں انگریزوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا کہ وہ باہر کے دیش سے آکر کیوں ہندوستان میں حکومت کریں۔

ہندوستانی لیڈروں کے پاس یہ مضبوط دلیل تھی کہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں۔ اس لئے دنیا بھر کے مسلمہ اصول کے مطابق ہم کو حق ہے کہ ہم اپنے ملک میں اپنی مرضی کی حکومت بنالیں۔ پاس نظریہ استستمار تھا اور گاندھی کے پاس نظریہ خود اختیاری۔ پہلے کے مقابلے میں دوسرا نظریہ واضح طور پر بر تر ثابت ہوا۔ اور انگریز کو یہاں سے نکل جانا پڑا۔ یہ ہجرت تدبیری مہاتما گاندھی کی سمجھ میں آئی مگر وہ علماء اسلام کی سمجھ میں نہ آسکی۔ لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۲۰ سے پہلے کے دور میں آزادی ہند کی تحریک میں علا سیاسی امام کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ مگر ۱۹۲۰ کے بعد کے دور میں اچانک وہ مقتدی بن کر رہ چنانچہ مولانا محمود حسن صاحب سے لے کر مولانا آزاد تک تمام علماء نے مہاتما گاندھی کو اپنا سیاسی قائد تسلیم کر لیا۔

آج دوبارہ یہی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ مسلمانوں کے کچھ نادان دوست مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ "مسلک کش فسادات سے نجات کا راستہ ہجرت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کرایا جاتا ہے۔ مسلمان اگر ان فسادات میں دفاع کے اصول کے تحت مقابلہ کرتے ہیں تو عدد ہی فرق کی بنا پر مسلمانوں کا دفاع غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کے اصول ہجرت کے تحت مسلمانوں کو اپنے مقامات سے ہجرت کر جانا چاہئے۔ اس سے ان کی مراد داخلی ہجرت ہے۔ یعنی مسلمان ملک کے اندر اپنے علیحدہ پاکٹ بنائیں اور منتشر آبادیوں سے نکل کر ان مخصوص علاقوں میں آباد ہو جائیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں:

" ہندوستانی مسلمانوں کی بے وقتی کا راز، باوجود ۲۰ کروڑ کی آبادی کے یہ ہے کہ وہ گاؤں گاؤں اور شہر بہ شہر پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی عددی قوت بڑھانے اور اکثریت میں تبدیل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہجرت کر کے بعض پہلے سے طے شدہ علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔ یعنی مسلمان ملک کے اندر ہی نقل مکان کریں۔ جہاں مسلمانوں کا تناسب آبادی کم ہے، ان علاقوں کو غیر محفوظ قرار دے کر محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں (افکار ملی ۔ دہلی ، مارچ ۱۹۹۳ ، صفحہ ۶۲)

یہ اس نادانی کا اعادہ ہے جو دو ہزار سال پہلے کی گئی تھی۔ اس قسم کی ہجرت بلا شبہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ یہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ فکر کے اعتبار سے ابھی تک قبائلی دور میں جی رہے ہیں۔ قبائلی دور میں جب کوئی مقابلہ پیش آتا تھا تو وہ صرف دو فریقوں کے درمیان ہوتا تھا۔ مثلاً قدیم یثرب کی جنگ بعاث اوس اور خزرج کے درمیان تھی، مگر آج ہم منظم اسٹیٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ اب دو محارب فریقوں کے علاوہ یہاں ایک تیسرا فریق بھی ہے، اور وہ پولیس ہے۔ مذکورہ انداز میں سوچنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنا دیں گے تو ہم اس پوزیشن میں ہو جائیں گے کہ "ہند وسنہ آوروں" کا اجتماعی قوت سے دفاع کر سکیں۔ مگر یہ محض خام خیالی ہے۔ کیوں کہ تیسرا فریق (پولیس) ایسے موقع پر غیر جانبدار نہیں وہ فوراً آ جائے گا اور کرفیو کا قانون نافذ کر کے پورے علاقہ کو اپنے کنٹرول میں لے اس کے بعد یہ تیسرا فریق وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ کرے گا جس سے بچنے کے لئے مسلم دانشور مسلمانوں کو علیحدہ پاکٹ بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

اسلام کی رو سے وہ اس لئے غلط ہے کہ اسلام میں ہجرت صرف اس وقت ہے جب کہ ہجرت کے سوا کوئی اور چارہ کار سرے سے ممکن ہی نہ رہا ہو۔ ہندوستان میں ایسی صورت ہرگز پائی نہیں جاتی۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فساد کا بالکل یقینی حل یہ ہے کہ مسلمان اعراض کا اصول اختیار کریں، وہ اشتعال انگیزی کے مواقع پرشتعل نہ ہوں۔ سیکڑوں کی تعداد میں ایسے تجربات موجود ہیں کہ جب بھی مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا تو فساد نہیں ہوا ۔ ایسی حالت میں انتقال آبادی کی بات کرنا اصول اسلام کی خلاف ورزی ہے نہ کہ اصول اسلام کی تعمیل۔

امام بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک صورت کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان صورت کو اختیار فرماتے تھے ۔ (صحیح بخاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ)

اس سنت رسول کی روشنی میں دیکھتے تو، ہجرت کی مذکورہ تجویز سراسر سنت رسول کے کیوں کہ رسول اللہ کا طریقہ انتخاب ایسا کلام ہے۔ اور یہ نادان لوگ مسلمانوں کو انتخاب عصر کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس معاملہ میں اعتراض بلاشبہ آسان ہے اور ہجرت اس کے مقابلہ میں بلاشبہ مشکل۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کے لئے ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک اعتراض کا اور دوسرے ہجرت کا۔ عقل اور تجربہ دونوں بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کو اعتراض کے ذریعہ بخوبی طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ پھر جو مسئلہ اعتراض کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہو اس کے لئے ہجرت کی تجویز پیش کرنا کس قدر لغو اور کتنا زیادہ غیر اسلامی ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو بلاشبہ ایک ہجرت کرنا ہے۔ مگر یہ مکانی ہجرت نہیں ہے بلکہ تدبیری ہجرت ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد سے اب تک مسلمان، کچھ نا اہل لیڈروں کے مشورہ کے تحت جن اصول پر عمل رہے وہ تھا۔ احتجاج ، دفاع ، مظاہرہ ، تلکاؤ۔ چاہئے کہ اس طریقہ کو وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ اس کے بجائے وہ محبت، اخلاق، تحمل، اعتراض اور حکمت کا طریقہ اختیار کریں۔ یہ ان کے لئے تدبیری ہجرت یا طریق کار میں ہجرت کے ہم معنی ہے۔ اور اسی میں ان کی یقینی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

اسلام میں تیمم کی اجازت ہے۔ مگر تیمم کی اجازت اس وقت ہے جب کہ وضو کے لئے پانی موجود نہ ہو۔ اسی طرح اسلام کا ایک اصول ہجرت بھی ہے۔ مگر یہ اصول اسی وقت کے لئے ہے جب کہ دوسری کوئی ممکن صورت سرے سے موجود نہ رہے۔ ہندوستان میں ہرگز کوئی ایسی اپر جنسی کی صورت پائی نہیں جاتی۔ یہاں فرقہ دارانہ فساد کا جو مسئلہ ہے اس کو صبر و اعتراض کے ذریعہ یقینی طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ہندوستان میں آیت ہجرت مطلوب نہیں ہے۔ جو آیت مطلوب اور قابل انطبا ق ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے: وان تصبرو ا وتتقوا لا يضركم كيد هم شيئاً (آل عمران ۱۲۰)

Printed page