پیغمبر اسلام کی سنتیں
Al-Risala, January 1996, pp. 42–46
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کتابی صورت میں مدون کیے گئے تو اس وقت کے علماء نے کچھ چیزوں کو " سنن " کے ابواب کے تحت درج کیا اور کچھ چیزوں کو دوسرے دوسرے عنوانات کے تحت اپنی کتابوں میں جمع کر دیا۔ قدرتی طور پر یہی کتابیں بعد کو دین کا ماخذ بن گئیں ۔ لوگوں نے ان کتابوں میں جن چیزوں کو سنت کے نام سے پڑھا ان کو سنت سمجھا۔ اور جن چیزوں کو ان کتابوں میں بطورِ سنت درج نہیں کیا گیا تھا ان کو شعوری طور پر فہرست سنت سے خارج سمجھ لیا۔ اس طرح داڑھی اور ازار اور مسواک جیسی چیزوں کو تو سنت سمجھا جانے لگا۔ اور دوسری بہت سی چیزیں ان کے ذہن میں سنت کی حیثیت سے جگہ نہ پاسکیں ، حالاں کہ وہ بھی بلاشبہ سنتِ رسول تھیں ۔ بعد کو جب کھلے ذہن سے سوچنے کا ذوق ختم ہو گیا اور تقلیدی ذہن ہی تمام لوگوں کے اوپر چھا گیا تو یہ غلطی مزید پختہ ہو کر عوام و خواص کے ذہنوں پر چھا گئی ۔
یہاں اس نوعیت کی چند سنتیں بطورِ مثال درج کی جاتی ہیں ۔ جو اگر چہ سنت ہیں اور نہایت اہم سنت ہیں ۔ مگر قدیم کتابوں میں بطورِ سنت درج نہ ہونے کی بنا پر عملاً وہ ہماری فہرست سنت سے خارج ہو گئی ہیں ۔
۱- صحیح البخاری میں ایک باب ہے جس کے الفاظ ہیں " باب فضل مكة وبنیانھا‘‘ " ، یعنی مکہ کی فضیلت کا اور اس کی تعمیر کا باب ۔ اس باب کے تحت حضرت عائشہ کی روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک بار کعبہ کی دیواریں گر گئیں ۔ اس کے بعد مشرکین نے کعبہ کی عمارت کو دوبارہ بنایا۔ حضرت ابراہیم کا بنایا ہوا کعبہ لمبا تھا۔ مگر مشرکین کے پاس چونکہ سامان کم تھا، انھوں نے نئی تعمیر میں کعبہ کو چو کور کر دیا ۔ اور اس کا ایک حصہ خالی چھوڑ دیا جو اب حطیم کہا جاتا ہے ۔
روایت بتاتی ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (فتح مکہ کے بعد) کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ کیوں نہیں اس کو دوبارہ ابراہیمی اساس کی طرف لوٹا دیتے۔ تمہاری قوم ابھی جلد ہی جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ ان کے دلوں میں ناگواری پیدا کرے گی (فخاناقت ان تنكر قلوبھم) فتح الباری ۳ / ۵۱۳ - موجودہ فہرست بندی میں ایک قاری اس روایت کو پڑھے گا تو وہ اس کو فضیلت کے یا قصہ' کعبہ کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جائے گا ۔ اس سے وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی رہنمائی نہیں لے سکے گا ۔ حالانکہ اس روایت میں ایک عظیم حکمت اور عظیم رہنمائی موجود ہے ۔ اس پیغمبرانہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں آدمی کو آئیڈیل کے بجائے پریکٹیکل کو دیکھنا چاہیے ، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ وہ سچے اہل ایمان کے ساتھ معاملہ کر رہا ہو جیسا کہ اصحاب رسول تھے ۔ اجتماعی زندگی میں معاملہ کرتے ہوئے بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک صورت وہ ہوتی ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل صورت ہوتی ہے ۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگر آئیڈیل یا معیاری حل پر اصرار کیا گیا تو بات مزید بگڑ جائے گی ۔ ایسی حالت میں پیغمبرانہ سنت یہ ہے کہ معیاری حل پر اصرار نہ کیا جائے ، بلکہ عملی حل کو قبول کر لیا جائے ۔
آزادانہ غور وفکر کا ماحول ہو تو آدمی اس سنت رسول کو دریافت کرے گا جس میں بیشمار فوائد چھپے ہوئے ہیں ۔ اور اگر قدیم ذخیرہ پر آزادانہ غور وفکر کا ماحول نہ ہو تو وہ اس عظیم سنت سے آگاہ نہ ہو سکے گا ۔ اور نتیجہ' اس کے دور رس فائدوں سے بھی محروم رہے گا ۔ ۲ - انھیں ” نامعلوم “ سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے جس کو سنت حدیبیہ کہا جا سکتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس عظیم سنت رسول سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ اگر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے تو عوام سے لے کر خواص تک یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ تو بزدلی اور پسپائی ہے :
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی ایک ثابت شدہ سنت رسول سے یہ اجنبیت کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سنت کو سیرت
کی کتابوں میں غزوہ الحدبیہ کے تحت درج کیا گیا ہے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ۳/ ۳۱۲) حدیبیہ کا واقعہ مختصر طور پر یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کا مقصد عمرہ کرنا تھا۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔
یہ ایک بڑی نازک صورت حال تھی۔ یقینی معلوم ہوتا تھا کہ اگر آپ نے مکہ میں داخلہ پر اصرار کیا تو جنگ کی نوبت آجائے گی اور پھر جان و مال کی ہلاکت کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔ آپ نے قریش مکہ سے گفت و شنید جاری کر دی۔ اس کا نتیجہ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ یہ دراصل ایک نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا جس کی بیشتر دفعات بظاہر قریش کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ اس کے باوجود آپ اس صلح نامہ پر دستخط کر کے مدینہ واپس آگئے۔ یہ معاہدہ چودہ سو سال سے کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر تمام عوام و خواص اس کو بس "غزوہ الحدبیہ" کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں، کیونکہ کتابوں میں وہ اسی عنوان کے تحت لکھا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک امن کا معاہدہ تھا اور امن کی طاقت کو استعمال کرنے کی ایک عظیم تدبیر۔ اس معاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عمل (Islamic activism) ایک پرامن عمل ہے۔ اسلامی عمل تشدد کی طاقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ امن کی طاقت پر مبنی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اگر جنگ اور ٹکراؤ کی حالت قائم ہو جائے تو اسلام کی طاقت امن کا ظہور رک اس لیے اہل ایمان کو ایسا کرنا چاہیے کہ جب دونوں فریقوں میں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جائے تو وہ فریقِ ثانی کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان کر اس سے صلح کر لیں۔ تاکہ وہ فضا پیدا ہو جس میں اسلام کی امن کی طاقت کو بروئے کار آنے کا موقع مل جائے۔ یہ ایک عظیم حکمت ہے۔ اس حکیمانہ عمل میں، قرآن کی شہادت کے مطابق، فتح مبین کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان اس تسخیری سنت کو اختیار کرنے سے محروم ہیں، اور اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تقلیدی ذہن کی وجہ سے اس کو سنتِ رسول کے طور پر جانتے ہی نہیں۔
اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ہے جس کو غزوہ خندق یا غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ یہ غزوہ شوال ۵ھ میں پیش آیا۔ اس میں بارہ ہزار کی نہایت مسلح فوج نے مدینہ کو گھیر لیا تھا۔ نہایت سخت معاملہ تھا۔ قرآن میں اس کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے کہ جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔ جب خوف سے آنکھیں پتھر اگئیں۔ کلیجے منہ کو آگئے ۔ اور تم لوگ اللہ کے بارہ میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے خوب آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلامارے گئے (الاحزاب ۱۰-۱۱)
اس وقت مسلمان مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ چنانچہ شہر کے باہر خندق کھود کر ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ شدید محاصرہ کی یہ حالت تقریباً ۲۵ دن تک اس انتہائی مشکل موقع پر ایک مسلمان نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اس کا نام نعیم بن مسعود نعیم بن مسعود نے رات کے وقت آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو دونوں طرف کا اعتماد حاصل ہے۔ ایک طرف میں سچے دل سے مسلمان ہو چکا دوسری طرف سابقہ تعلق کی بنا پر ابھی تک قریش اور یہود میری عزت کرتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ بھاگ جاؤ، تم ہمارے دشمن کے ایجنٹ بلکہ آپ نے خوش ہو کر فرمایا : (انما انت في نارجل واحد (سیرۃ ابن ہشام ۲۴۷/۳) یعنی تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو۔ چنانچہ آپ نے اس آدمی کو استعمال کیا، اور اس نے ایک ایسی حکیمانہ تدبیر کی کہ دشمن محاصرہ ختم کر کے واپس چلے گئے۔ اس معاملہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
نعیم بن مسعود نے اس موقع پر وہی رول ادا کیا جس کو درمیانی (intermediary) شخص کا رول کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ "درمیانی شخص" کی عزت کی جائے۔ اس کے اوپر بھروسہ کیا جائے۔ اور اس کو باہمی معاملات کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان چونکہ "سنت رسول کی کتابوں میں اس سنت کو لکھا ہوا نہیں پاتے ، اس لیے وہ اس سنت سے واقف بھی نہیں ہیں ۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اس کا زبردست نقصان بھگتنا پڑا ہے۔ سرسید احمد خان گویا مسلمانوں اور انگریزوں کے بیچ میں درمیانی شخص تھے۔ مگر ہمارے علماء ان کی قدر نہیں کر سکے بلکہ ان کی تکفیر و تفسیق کر کے انھیں مسلم معاشرہ سے کاٹنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مولانا ابو الکلام آزاد مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ میں درمیانی شخص بن گئے تھے۔ مگر سنت نبوی سے اس ناواقفیت کی بنا پر ان کو بھی مسلمانوں نے مشتبہ سمجھا اور انھیں "شوبوا ہے" کا لقب دے کر ذلیل کیا۔ مسلمان ان فوائد سے محروم ہو گئے جو مولانا آزاد کے ذریعہ انھیں اس ملک میں پہنچ سکتے تھے۔ اسی طرح ساری مسلم دنیا میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغربی قوموں اور مسلمانوں کے بیچ میں درمیانی گروہ بن گیا تھا۔ ان کے ذریعہ مسلمان بہت سی مضرتوں سے بچ سکتے تھے اور بہت سے فوائد حاصل کر سکتے تھے۔ مگر ساری دنیا کے مذہبی طبقہ نے ان کو شبہ کی نظر سے دیکھا۔ اور انھیں مغرب زدہ قرار دے کر ان کو دشمنوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔