۲۶ الرسلہ ستمبر ۱۹۶۷
Al-Risala, September 1996, pp. 335–339
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے درمیان باہمی جھگڑے اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ آپ کسی بھی دن اور کسی بھی مقام پر اس کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک خبر پڑھیئے: نئی دہلی، ۲۲ جون ۱۹۹۳۔ حوض قاضی کے علاقہ کی گلی شاہ تار میں ایک ہی گھر میں رہنے والے رشتہ داروں میں جھگڑا ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ رشتہ داروں نے چاقو چلائے جس کے نتیجہ میں اشفاق نامی نوجوان کا قتل ہو گیا جب کہ اس کا بھائی شدید زخمی حالت میں ہے پر کاش نرائن اسپتال میں داخل ہے۔
پولیس اطلاع کے مطابق گھرشتہ شب گلی شاہ تار میں ایک ہی خاندان کے دوکنبوں کے درمیان پرانے تنازع نے انتہائی بھیانک رخ اختیار کر لیا۔ اخلاق (۲۸) اور اشفاق (۲۵) سگے بھائی ہیں جن کے کنبے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ دوسری منزل پر ان کے چا محمد یاسین کا کنبہ کل یاسین کے گھر سے سیڑھیوں پر گندہ پانی پھینکا گیا جس پر اخلاق کے گھر والوں نے اعتراض پر غلطی تسلیم کرنے کے بجائے بینہ طور پر مزید کوڑا اور پانی پھینکا گیا جس پر بات بڑھ گئی۔ محمد یاسین نے اخلاق کو دلوچ لیا اور فاضل اور اس کے بھائی عامل نے مبینہ طور پر چاقو سے اس پر حملہ کر دیا۔ اخلاق کو شدید زخمی حالت میں جے پر کاش نرائن اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ زاہد، ذاکر، صابر اور محمد یاسین اور عاشق بھی جھگڑے میں شامل تھے۔ مار پیٹ کے دوران زاہد اور عاشق نے اشفاق کو پکڑ لیا اور صابر اور ذاکر نے اس پر حملہ اس بار بھی چاقو کا استعمال کیا گیا جس سے اشفاق شدید طور پر زخمی ہو کر لہو لہان ہو گیا۔ اسے بھی جے پر کاش نرائن اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ پولیس نے بلوہ کرنے، اقدام قتل، قتل اور اسلم ایکٹ کے تحت کیس درج کر لئے ہیں۔ پولیس نے محمد عامل کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ بقیہ ملزموں کی بڑے پیمانے پر تلاش کی جارہی ہے۔ (قومی آواز ۲۳ جون ۱۹۹۳)
یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت کی ایک مثال تھی۔ اب اس معاملہ میں پاکستان کے مسلمانوں
کی ایک مثال لیجئے، وہاں کی ایک مطبوعہ خبر یہ ہے :
لاہور ، ۲۶ اپریل ۱۹۹۳ ـــــ اسلام پورہ کے علاقہ میں چار مسلح افراد نے شادی کے موقع پر پکنے والی دیگوں کا دھواں اپنے گھر آنے کی پاداش میں اندھا دھند فائرنگ کرکے اپنے ہمسایہ میں مقیم دولہا کے ۵۵ سالہ والد نذیر احمد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جس سے شادی کی تقریب میں شریک ہنستا بستا گھرانہ ماتم کدہ بن گیا اور جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ نذیر احمد کے بیٹے گلزار احمد کی شادی کے موقع پر اسلام پورہ میں ان کے گھر کے باہر دیگیں پکائی جارہی تھیں جن کا دھواں ساتھ والے گھر میں جارہا تھا جہاں رہائش پذیر عارف ڈوگر باہر آیا اور نذیر احمد سے کہا کہ یہ سلسلہ بند کرو کیوں کہ میرے اہل خانہ پریشان ہورہے ہیں۔ اس بات پر دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی۔ تاہم محلہ داروں نے بیچ بچاؤ عارف ڈوگر چلا گیا لیکن دل میں رنجش رکھی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے ساتھیوں، جاوید اقبال اور ظفر اقبال ڈوگر وغیرہ کے ساتھ مسلح ہو کر آیا اور گھر کے باہر کھڑے نذیر احمد پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے میو اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ اسلام پورہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ (نوائے وقت ، لاہور ، ۲۷ اپریل ۱۹۹۳ )
ایک معمولی بات پر اتنا بڑا جھگڑا کیسے پیدا ہوتا ہے کہ خون اور قتل اور پولیس اور عدالت تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ تحمل اور بردداشت کی کمی ہے۔ ایک مقام پر جب دو خاندان یا دو گروہ رہتے ہوں تو ضرور مسائل پیدا ہوں گے۔ کبھی نہ کبھی ضرور ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچ جائے گی۔ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ مگر اس مسئلہ کا حل مسئلہ سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ مسئلہ کو بردداشت کرنا ہے۔
یہاں آدمی کے لئے جو چوائس ہے وہ بے مسئلہ زندگی اور با مسئلہ زندگی کے درمیان بلکہ با مسئلہ زندگی اور بربادی کے درمیان ہے۔ آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ چھوٹے مسئلہ کو بردداشت کر لے تاکہ وہ بڑے مسئلہ میں پھنسنے سے بچ جائے۔ ایک صحابی کا قول اس معاملہ میں ساری باتوں کا خلاصہ ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو چند نصیحتیں کیں۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ تم چھوٹی برائی کو بردداشت کرو تا کہ تم بڑی برائی
سے اپنے آپ کو بچاسکو۔ انھوں نے کہا:
من لا يرضى بالتثيل مماياتى به السفيه جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہو گا اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔
یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر انسان کو آزادی عطا کی ہے۔ ہم کسی سے اس کی آزادی کو چھین نہیں سکتے۔ اس لئے یہاں پر امن زندگی کے حصول کی عملی تدبیر صرف یہ ہے کہ ناخوشگوار معاملات میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس دنیا میں آپ کو اپنی کو برداشت نہ کرویں تو خوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اگر آپ دھوئیں کو برداشت نہ کریں تو آگ کو برداشت کرنا ہوگا۔ اگر آپ کڑوے بول کو برداشت نہ کریں تو جان و مال کی ہلاکت کو برداشت
یہی دنیا ہے اور یہ دنیا خود خدا کی تخلیقی اسکیم کے تحت بنی ہے۔ جو آدمی دنیا کے اس نقشہ پر راضی نہ ہو اس کو ایک اور کائنات تخلیق کرنی چاہئے کیوں کہ خدا کی بنائی ہوئی کائنات میں تو اس کے سوا کوئی اور چیز ممکن نہیں۔
زندگی نام ہے برداشت کا۔ برداشت سے کام لینے والا اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ اور جو لوگ آپس کے تعلقات میں بے برداشت ہو جائیں، ان کے لئے اس دنیا میں نہ ترقی ہے اور نہ زندگی۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے نااہل رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں برداشت کی صفت کھودی ہے۔ وہ ہر معاملہ کو بس جہاد اور ٹکراؤ کا مسئلہ کوئی بھی اشتعال انگیز بات ان کو بھڑکا دینے کے لئے کافی ہے۔ حالاں کہ اشتعال انگیزی پر مشتمل نہ ہونے ہی کا نام انسانیت ہے اور یہی دین کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ جو جھگڑے ہوتے ہیں، اس سے بہت زیادہ تعداد ان جھگڑوں کی ہے جو مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو رہے ہیں۔ جھگڑے اخباروں میں بہت کم چھپتے ہیں۔ جب کہ ہندو اور مسلم کے درمیان جھگڑا ہو تو وہ تمام اخبارات کے صفحہ اول پر چھپ جاتا ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ مسلمان اور مسلمان کا جھگڑا دو آدمی یا
دو خاندان تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، اس لئے وہ بڑی خبر نہیں بنتا۔ جب کہ ہندو اور مسلمان کا جھگڑا فوراً دو فرقوں کا جھگڑا بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ بڑی خبر کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ 1947ء سے پہلے جن مسلم لیڈروں نے تقسیم ملک کی تحریک چلائی ان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے برداشت کے مسئلہ کو بٹوارہ کا مسئلہ سمجھا۔ کسی ہندو اور کسی مسلمان میں کبھی کسی بات پر نزاع ہو گئی۔ تو وہ فوراً دو قومی نظریہ کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ ان مسلم لیڈروں نے کہا کہ یہ جھگڑے اور دنگے اس لئے ہوتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دو قوم ہیں، وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مگر جب ملک بٹ کر علیحدہ پاکستان بن گیا تو وہاں بھی جھگڑے اور فساد بدستور پوری شدت کے ساتھ موجود تھے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ جھگڑے ہندو اور مسلمان کے درمیان ہوتے تھے، اب وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہونے لگے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کچھ لوگ مل جل کر رہیں تو ان کے درمیان بار بار کچھ ناخوشگوار باتیں پیش آ جاتی ہیں۔ ان باتوں کا حل علیحدگی نہیں ہے بلکہ برداشت اور نظر انداز کرنا ہے۔ برداشت کیا جائے تو تقسیم کے بعد جب مسلمان اپنا علیحدہ ملک یا علیحدہ پاکٹ بنا لیں گے تو اصل حالت میں اس کے سوا کوئی اور فرق نہ ہوگا کہ پہلے جو مکروہ دو فرقوں کے افراد کے درمیان ہو رہا تھا وہ اب خود ایک فرقہ کے افراد کے درمیان ہونے لگے گا۔ آج یہی سب کچھ پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔
1947ء سے پہلے علیحدگی پسند لیڈروں نے مسلمانوں کو جو ذہن دیا تھا، بدقسمتی سے وہی ذہن آج بھی مسلمانوں کے درمیان موجود ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد رہنما اسی سابقہ ذہن کے تحت مسلمانوں کو فکری رہنمائی دینے میں مصروف ہیں۔ تقسیم کا نا کام تجربہ بھی ان کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی نہیں ہوا۔
1947ء سے پہلے تقسیم پسند لیڈروں نے جغرافیائی علیحدگی کو ہند و مسلم مسئلہ کا حل بتایا تھا۔ آج کے مقلد لیڈر بھی کسی نہ کسی طور پر اسی علیحدگی کے طریقہ کو اس ملک میں مسلمانوں کے مسئلہ کا حل بتا رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنا کچمپلیٹ تشخص الگ قائم کریں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنی آبادیاں الگ کر کے اپنا علیحدہ پاکٹ بنائیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان ہو دفاعی کے اصول پر
چل کر ہندوؤں کو سبق سکھائیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنا کر اپنا
اس قسم کی تمام باتیں سراسر نادانی کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسئلہ کا حل ۱۹۴۷ سے پہلے بھی یہی تھا کہ وہ مل جل کر رہنا سیکھیں۔ اور آج بھی یہی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ حتی کہ مسلمان اپنا الگ ملک بنوالیں تو وہاں بھی مسئلہ کا حل مل جل کر رہنا ہی ہوگا۔ اور اگر وہ اس ملک میں جگہ جگہ اپنی آبادیاں علیحدہ کرلیں تو اس علیحدہ آبادی میں بھی یہی اصول اختیار کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ ایک برباد انسانی گروہ بن کر رہ جائیں گے۔ اور کبھی ترقی نہ کر سکیں گے۔
اس سلسلہ میں ایک نہایت عجیب حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند کے مسلمان جو اپنے وطن میں آپس میں بھی لڑتے ہیں اور اپنے غیر مسلم پڑوسیوں سے بھی لڑتے ہیں، یہی مسلمان جب عرب ملکوں میں یا یورپ اور امریکہ میں جاتے ہیں تو وہاں وہ خوب صلح و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے علماء بھی جو اپنے ملک میں ایک نہ ایک اشتعال انگیز جلسہ جلوس کے ہنگامے برپا کرتے ہیں ہیں۔ عرب ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں اختلافی معاملات میں وہ بالکل خاموش رہتے ہیں۔ حالاں کہ عرب ملکوں میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود ہیں جو برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے عوام و خواص اگر اس دو عملی کو ختم کر دیں۔ وہ صرف اتنا کریں کہ عرب ملکوں میں اور یورپ اور امریکہ میں وہ جس طرح صلح و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں، اسی طرح وہ اپنے ملک میں بھی رہنے لگیں تو اچانک ان کا اپنا ملک بھی ان کے لئے اتنا ہی اچھا ہو جائے گا جتنا کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک انھیں اچھا نظر آتا ہے۔