Al-Risala · September 1996

Andrew Roberts, Eminent Churchillians

Al-Risala, September 1996, pp. 32–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں ہندوستان کے آخری برٹش وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر سخت تنقید کی مثال کے طور پر مصنف نے لکھا ہے کہ آزادی کی تاریخ ابتدا یکم جولائی ۱۹۴۸ مقرر کی گئی مگر ماؤنٹ بیٹن نے اچانک تاریخ بدل کر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کر دی۔ اس جلد بازی کا نتیجہ پنجاب کے علاقہ کا خونی فساد آگست۔ اکتوبر ۱۹۴۷ تھا۔ کیوں کہ اس وقت پنجاب میں بہت کم کتاب میں سر جارج کٹنگھم کا قول نقل کیا گیا ہے :

The Punjab disturbances were the direct result of Mountbatten's unwisdom in accelerating the date of partition so suddenly. اس وقت پنجاب میں ۲۳ ہزار پولیس فورس موجود تھی جس کو اٹھارہ ہزار بستیوں میں چودہ ملین انسانوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ناکافی تھا اور وقت کی کمی کے باعث مزید فورس منگائی نہ جا سکی۔ مگر یہ ناگزیر تھا۔ کیونکہ جنگ کے نتیجہ میں برطانیہ کے پاس فورس باقی نہیں رہی تھی ۔ لندن سے نکلنے والے ماہنامہ صراط مستقیم (نمبر ۲ - ۱۹۹۴) میں ایک سرخی تھی : برطانوی مسلمان طلبہ کی مشکلات۔ اس کے تحت درج تھا کہ ہفت روزہ "کیونیوز" کی ایک رپورٹ کے مطابق سلاؤ شہر میں اسکول کے ایک ۱۳ سالہ طالب علم فیض شریف کو مخلوط رقص کی کلاس میں شرکت سے انکار پر دو ماہ کے لئے کلاس سے خارج کر دیا گیا۔ اسکول کی ہیڈ مسٹرس نے فیض شریف کو اسکول سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمان مقامی کلچر سے ہم آہنگ ہو نا نہیں چاہتے۔ صراط مستقیم نے لکھا تھا کہ اس خبر کا یہ روشن پہلو ہے کہ مغربی معاشرہ میں رہتے ہوئے بھی ایسے خاندان ہیں جو اپنے بچوں کو اسلامی بنیادوں پر تربیت دے رہے ہیں۔ مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے مسلمان بچوں

کا تعلیمی مستقبل اس ملک میں تاریک دکھائی دے رہا ہے۔

اس سے بھی زیادہ بڑا اندیشہ یہ ہے کہ ایسے بچے جب بڑے ہوں گے اور دیکھیں گے کہ ناقص تعلیم کی بنا پر وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہو گئے تو وہ نہ صرف اپنے سر پرستوں کو بلکہ شاید اسلام کو بھی اپنے پچھڑے پن کا ذمہ دار ٹھہر اکسی منفی رجحان میں مبتلا ہو جائیں۔

لندن سے ایک عربی مجلہ البیان شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ربیع الاول ۱۵۱۴ اگست۔ ستمبر ۱۹۹۳ء) میں ڈاکٹر نفیس احمد کے قلم سے ایک مضمون ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ کی جذباتی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی گئی تھی: « وا اسلاماہ، ردّة بين مسلمى الهند، فماذ ا نحن فاعلونا ؟

اس طرح کے مضامین اور بیانات ہر روز مسلمانوں کے عربی، انگریزی اور اردو اخبارات ورسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جن میں ہندوؤں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر ہوتا ہے۔ آج تک کسی بھی مسلم اخبار یا رسالے میں ایسا کوئی مضمون میری نظر سے نہیں گزرا جس میں ہندوؤں کی اس شدید تر مظلومیت کا ذکر ہو کہ وہ شرک اور الحاد اور غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ خدا کی پکڑ کی زد میں آنے والے ہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت اگر قومی ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتی ہے تو ہندوؤں کی موجودہ حالت سے ہمارے اندر دعوتی خیر خواہی کا شدید جذبہ ابھر نا چاہیئے۔ مگر میرے علم میں ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ اگر ان پر الشاذ کالمعدوم کا حکم عائد کیا جائے تو یقینا اس کی تکرار بے جا نہ ہو گا۔

برطانیہ میں مقیم ایک مسلمان سے گفتگو ہو رہی تھی۔ انھوں نے شکایت کے انداز میں کہا کہ آجکل برطانیہ کی مساجد کی تعمیر کے لئے پلاننگ کی اجازت (planning permission) حاصل کرنا سخت مشکل ہو گیا ہے۔ ان کی گفتگو کا تاثر بظاہر یہ تھا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جا رہا ہے۔ مگر جب میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام تر انتظام کا معاملہ ہے نہ کہ تعصب کا معاملہ۔ پندرہ سال پہلے یہ حال تھا کہ مسجد کی تعمیر کی اجازت یا اس کا نقشہ نہایت آسانی سے منظور ہو جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں جو مشکلات پیدا ہوئی ہیں وہ حال کی پیداوار ہیں نہ یہ کہ وہ پہلے سے اصل یہ ہے کہ برطانیہ کی مسجدوں میں نہایت لغو قسم کی سیاست داخل ہو گئی ہے۔

مثلاً حال ہی میں لیوٹن کی ایک مسجد میں دو مسلم گروپ آپس میں الجھ گئے اور زبردست مارپیٹ کی نوبت آگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس والے جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہو گئے۔ کے واقعات متعدد مسجدوں میں پیش آئے۔ اور ان سب کے پیچھے عہدے اور گدی کی سفلی سیاست کے سوا اور کچھ نہیں۔

انگریزوں کا احساس یہ ہے کہ مسجد میں برنش کلچر کی روایات کو بگاڑ رہی ہیں۔ جب کہ یہی شکایت ان کو ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے بارہ میں نہیں۔ وہ مسجدوں کو انتظامیہ کے لئے "پراblem" کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر وہ نئی مسجد کی تعمیر سے متوحش ہوں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

برطانیہ ایک انتہائی روایت پسند قوم ہے۔ اس کا ایک اندازہ برطانی مکانات سے یہاں کے مکانات عام طور پر اسی مخصوص طرز کے ہوتے ہیں جو سیکڑوں سال سے ان کے یہاں چلا آ رہا ہے۔ ذیل کی تصویر سے اس کا اندازہ ہوگا۔

لندن کا فیسٹول ۷ اگست تک چلنے والا تھا۔ ہندوستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ ۷ اگست کو وہ اپنی رہائش گاہ پر ڈنر کر رہے ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ میں اس میں شرکت کروں۔ مسٹر شوبھ سنگھ

کا خصوصی پیغام ملکہ اس ڈنر کے موقع پر میرا موجود رہنا ضروری ہے۔ مگر اس کے ساتھ مانچسٹر میں کچھ عرب نوجوان اکٹھا ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں کا اصرار تھا کہ میں ان کے ساتھ مانچسٹر میں کچھ وقت گزاروں چنانچہ فیسٹول کے منتظمین اور ڈاکٹر سنگھوی سے معذرت کرتے ہوئے ۵ اگست کی سہ پہر کو میں لندن سے مانچسٹر کے لئے روانہ ہوا۔

یہ سفر دو عرب نوجوانوں کے ساتھ انٹرسٹی (Intercity) کے ذریعہ طے ہوا۔ ڈھائی گھنٹہ میں ہم لوگ مانچسٹر پہنچ گئے۔ راستے میں مختلف قسم کے مناظر نگاہ کے سامنے سے گزرے ۔ ان کو دیکھ کر ایک خیال میرے ذہن میں آیا۔ اس کو میں نے عرب نوجوانوں سے حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا: من هو المؤمن ـ المؤمن هو الذى يرى الجنة فى كل جمال ويرى جهنم فى كل قبح (مومن کون ہے۔ مومن وہ ہے جو ہر حسن میں جنت کا مشاہدہ کرے اور ہر قبیح میں جہنم کو دیکھ لے) مانچسٹر میں میرا قیام ایک عرب نوجوان کی رہائش گاہ پر تھا۔ وہ یہاں تعلیم کی غرض سے مقیم یہیں پر مختلف عرب نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھیں میں سے ایک طارق الکردی تھے ۔ آئرلینڈ (ڈبلن) میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آئرلینڈ اور انگلینڈ میں دعوت کے زبردست مگر یہاں کے مسلمانوں کو دعوت کے کام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ بات انھوں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہی اور اس سلسلہ میں کئی واقعات بھی بیان کئے ۔ انھوں نے ڈبلن میں ایک چھوٹا سا دعوتی سنٹر بھی قائم کیا ہے۔

مانچسٹر سے ایک عربی ماہنامہ صوت الغرب شائع ہوتا ہے۔ اس کا شمارہ جمادی الثانیہ ۱۴۱۳ھ (دسمبر ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس کے نام کے نیچے یہ حدیث درج تھی : بدأ الاسلام غريبا وسيعود غريباً كما بدأ ـ فطوبى للغرباء . اس میں واشنگٹن میں مقیم ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس کا انٹرویو پڑھا۔ یہ المسلمون (۳۰ اکتوبر ۱۹۹۲) سے لیا گیا تھا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اشتراکی خطرہ کے زوال کے بعد مغرب کو ایک نئے دشمن کی ضرورت ہے۔ اس لئے اب وہ اسلام کو اپنے دشمن کے طور پر پروجیکٹ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ادریس نے کہا کہ یہ خیال درست نہیں (ان هذالیس صحيحاً) انھوں نے کہا کہ یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں امریکہ میں رہتا ہوں۔ میں روزانہ دو یا تین امریکی اخبار پڑھتا ہوں۔ مگر میں ان میں اسلام یا مسلمانوں کے خلاف کوئی چیز نہیں پاتا (انفی اقرأ)

انھوں نے کہا کہ مغرب کی سیاست کسی مذہب کے ساتھ دشمنی پر قائم نہیں ہے بلکہ خود اپنی مصلحت (interest) پر قائم ہے (ان سياسة الغرب لا تقوم على التعصب بل تقوم على المصلحة)، انھوں نے کہا کہ اہل مغرب اپنے مزاج کے تحت کھلے دل سے اسلام کا مطالعہ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر ان کے عقل معیار کے مطابق اسلامی لٹریچر ہمارے یہاں موجود ہی نہیں۔ نے کہا کہ مغربی تہذیب کے متعلق ہم جو کچھ لکھتے ہیں وہ بالکل سطحی ہوتا ہے جس پر یہ لوگ ہنستے ہیں۔ گہرائی کے ساتھ نہ ان کے بارہ میں لکھتے ہیں اور نہ اپنے بارہ میں۔ جب کہ ان میں بہت سے ارباب فہم ہیں جو کھلے ذہن کے ہیں۔ وہ ہم سے سننا چاہتے ہیں اور ہمارے بارہ میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ کہ خود اپنے خلاف تنقید کو بھی۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری کتابیں کسی بھی درجہ میں ان کے لئے چیلنج نہیں ہیں (ان ما كتبه عن هذه الحضارة شئى سطحي يثير ضحك هؤلاء الناس وربما سخر يتم فنحن لا نكتب بعمق عنهم او عن أنفسنا ابداً. مع ان كثير من مفكريعم ذوى عقل مفتح يريدون أن يسمعو ا منا ويقر أو لنا حتى في باب النقد لهم - ان كتاباتنا بصراحة لا تمثل تحديا فكريا للغرب على اى مستوى (صفحه ۱۳)

4 اگست کا دن مانچسٹر میں عرب نوجوانوں کے ساتھ گزارا۔ اگلے دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرہ میں دیر تک کچھ پڑھتا لکھتا رہا۔ جب بخوبی دن نکل آیا تو میں اس کمرہ میں گیا جس میں چند عرب نوجوان سو رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ابھی تک سو رہے ہیں۔ صبح کو سویرے نہ اٹھنا ہر روز اپنا کئی گھنٹہ ضائع کرنا ہے۔ اور وقت ایسی چیز ہے جس کو عربی مثل میں تلوار سے تشبیہ دی گئی ہے چنانچہ کہا گیا ہے کہ وقت تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو نہ کاٹو تو وہ تم کو کاٹ ڈالے گا (الوقت كالسيف ان لم تقطعه قطعك )

اگست ۴ ۱۹۹۴ کی تاریخ ہے اور ساڑھے بارہ بجے کا وقت۔ بادلوں کے درمیان ہلکی دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ موسم نہایت خوشگوار ہے۔ میں دو عرب نوجوانوں کے ساتھ مانچسٹر کے الگزینڈرا پارک میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میں نے کہا کہ انگریزوں نے دنیا میں وسیع ترین سلطنت قائم کی حتی کہ شاید سلم سلطنت سے بھی زیادہ بڑی۔ مگر اس وسیع سلطنت میں کبھی کسی انگریز نے رووٹ نہیں کیا، جبکہ

مسلمانوں کی پوری تاریخ ردولت سے بھری ہوئی ہے۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں یعنی قبائل نے مرکز سے رودوٹ کیا جس کو رة کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ساری تاریخ میں مسلسل ایسا ہوتا رہا ہے کہ جس شخص کو جہاں موقع ملا اس نے مرکز سے بغاوت کر دی اور اپنی چھوٹی سی حکومت الگ بنا کر بیٹھ گیا۔ موجودہ زمانہ میں پاکستان میں یہی ہوا جب کہ بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) نے مرکز سے بغاوت کر کے اپنی علیحدہ حکومت قائم کر لی۔

انھوں نے پوچھا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ میں اس سبب کو بیان کر رہا تھا اور عرب نوجوان ٹیپ ریکارڈر ہاتھ میں لئے ہوئے اس کو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص گزرا جو بظاہر افریقی تھا، اس نے پوچھا کہ کیا یہ کوئی اخباری انٹرویو ہے۔

کچھ دیر کے بعد دو سفید فام نوجوان آئے۔ وہ ۱۴-۱۵ سال کی عمر کے ہوں گے۔ وہ کسی قدر جھومنے کے انداز میں چل رہے تھے۔ ان کے جسم پر معمولی لباس تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کو دھوکا نہیں دے رہا ہوں، ہم لوگ بھوکے ہیں۔ کیا آپ ہمیں کچھ پیسہ دے سکتے ہیں: I am not cheating, but we are a bit hungary. Can you give us some ایک عرب نوجوان نے سوال کیا کہ ابھی یہاں آتے ہوئے میں اپنی گاڑی میں قرآن کی تلاوت سن رہا تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ قرآن کے مطابق ، انسان کو جب اختیار دیا جاتا ہے تو وہ فساد برپا کرتا ہے۔ پھر جو لوگ جنت میں جائیں گے کیا ان سے اختیار سلب کر لیا جائے گا تاکہ وہ وہاں فساد نہ کر سکیں، میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کون لوگ جنت میں جائیں گے۔ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جنھوں نے اس دنیا میں یہ ثابت کیا کہ وہ فساد کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ خواہ انھیں مکمل آزادی دیدی جائے۔ پھر جن لوگوں نے اس وقت فساد نہیں کیا جب کہ خدا حالت غیب میں تھا، وہ اس وقت کیسے فساد کریں گے جب کہ خدا حالت شہود میں آ جائے گا :

من هم الذين سيدخلون الجنة في الآخرة. الذين أثبتوا فى هذه الدنيا انهم سيفعلون يستعملوا حبية الان و ادولہ کانت عند هم حمدہ قدره كاملة

ایک اور عرب نوجوان نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت اذا تمنی القی الشیطان فی امنیته (الحج : ۵۲) کے حوالہ سے ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ رسول کے کلام میں کبھی کبھی شیطان اپنی بات ملا دیتا تھا۔ مفسرین نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ پھر اس کا کیا مطلب ہے۔ کیا رسول بھی شیطان کی مداخلت سے محفوظ نہ تھے۔ میں نے کہا کہ امنیة کا لفظ یہاں تلاوت کے معنی میں ہے۔ نے جب تلاوت کی تو شیطان نے اس کی تلاوت میں ملا دیا۔ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ تلاوت کے بارہ مگر لوگوں نے اس کو وحی (نص کلام) سے متعلق کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تو وہی بات نکلی تھی جو آپ پر وحی کی گئی ہے۔ مگر جب آپ اس کی تلاوت کرتے اور وہ لوگوں کے درمیان شائع ہو جاتی تو کچھ فتنہ پسند لوگ آپ کے کلام کی غلط تاویل کر کے اس کے بارہ میں الٹی باتیں مشہور کرنے کی کوشش کرتے۔ گویا کہ یہ الہامی تلاوت نہیں تھی بلکہ تفسیری تلاوت تھی۔ عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ایک نو مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھ سے بہت سے گناہ ہو گئے ہیں۔ کیا میری مغفرت ہو جائے گی۔ آپ نے فرمایا گیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے اعمال کو ختم کر دیتا ہے (الاسلام یہدم ما قبلہ) ایک طرف آپ نے یہ خبر دی ہے۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کو نیا کرتے رہو (جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ)

اس میں ہمارے لئے ایک تسلی ہے۔ جب ایمان سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور ایمان کی تجدید کا موقع بھی ساری عمر تک ہے، تو ہم کو چاہئیے کہ ہم بار بار کلمہ شہادت ادا کریں اور اللہ تعالی سے کہیں کہ خدایا، تیرے رسول کی خبر کے مطابق، میں اپنے ایمان کی تجدید کر کے پھر سے اسلام میں داخل ہوتا ہوں، تو میرے پچھلے تمام گناہوں کو میرے نامہ اعمال سے حذف کر دے۔ ۱۹۹۳ میں نیو یارک سے قرآن کا ایک نیا انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔ اس کے مترجم ٹامس کلیری (Thomas Cleary) ہیں۔ اس کا ایک نسخہ میں نے مانچسٹر میں دیکھا۔ یہ نہایت معیاری انداز میں چھپا ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ اس کے انٹروڈکشن میں مترجم لکھتے ہیں کہ قرآن بلا تردید عظیم اہمیت کی حتی کہ غیر مسلموں کے لئے بھی، شاید آج اس کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ ہے :

ان الفاظ میں مترجم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مذاہب کے مطالعہ کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے، اس بنا پر اسلام کا مطالعہ بھی آج زیادہ سے زیادہ لوگ کرنا چاہتے ہیں۔ غالباً اس تاریخی عمل کا ایک جزو ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ تاہم کسی غیر مسلم کا ترجمہ خواہ مترجم کتنا ہی سنجیدہ ہو، وہ غلطیوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس ترجمہ میں فالذين هاجروا (آل عمران ۱۹۵) کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: الجزائر کی سالویشن پارٹی (جبهة الانقاذ) سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سے مانچسٹر میں ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ عام طور پر اپنی پارٹی کوفس (FIS) کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنی حکومت کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے حکمران کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابات میں جیت رہے تھے۔ حکمرانوں نے انتخابات کو منسوخ کرکے زبردستی ملک میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ میں نے کہا کہ یہ تو لڑائی کے لئے وجہ جواز نہیں۔ کیوں کہ حدیث میں ہے کہ تم اپنے حکمران کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور خواہ وہ تمہارا مال چھین لے (و ان جلد ظهرك و اخذ مالك) پھر انتخابات کی منسوخی تو اس سے بہت چھوٹی زیادتی ہے۔ کیوں کہ انتخابات کی منسوخی کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے آپ کو سیاسی اقتدار تک پہنچنے کا راستہ روک دیا۔ مگر آپ کی پیٹھ اور آپ کا مال تو پھر بھی محفوظ تھا۔

انھوں نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ وہ الجزائر میں کس طرح ہم کو نار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو انصاف سے کام لینا چاہئے، کیوں کہ قرآن میں ہے کہ ولا يجر منكم شنآن قوم علیٰ ان لا آپ کے حکمرانوں نے آپ کو مارنے کا سلسلہ اس وقت شروع کیا جب کہ آپ نے ان کے خلاف سیاسی لڑائی چھیڑ دی۔ اگر شریعت کے مطابق آپ ان سے ٹکر اؤ چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ کو سیاست کے سوا دوسرے تمام میدانوں میں عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیں گے، جیسا کہ موجودہ

سیاسی ٹکراؤ سے پہلے وہ آپ کو آزاد چھوڑے ہوئے تھے۔

۷ اگست کو میں مانچسٹر میں تھا کہ ۱۰ بجے ایک عرب نوجوان (عادل الریانی) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ پریسٹن میں اپنی انگلش بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ کچھ دیر تک مجھ سے لپٹ کر روتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ یکم اگست ۲۰۰۳ء کو وہ پریسٹن کی مسجد قوت الاسلام میں گئے۔ اس وقت وہ اس کے منتظم سے انھوں نے کہا تو اس نے مسجد کا تالا کھول دیا۔ عادل الریانی نماز پڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ انھوں نے دیکھا تو ایک سفید فام نوجوان تقریباً ۳۰ سال، کھڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ معاف کیجئے، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں: Excuse me, I want to become a Muslim. عادل الریانی نے فوراً مسجد سے نکل کر ایک اور مسلمان کو بلایا اور پھر کلمہ پڑھا کر اس کو اسلام میں داخل اس کے بعد وہ بہت زیادہ خوش ہو گیا۔ اس کا اسلامی نام عمران ہے:

Imran Maynard, 42 Healthfield Drive, Brookfield, Preston. (Tel. 0772-651991)

مسلمان صدیوں سے اسلامی دعوت کو چھوڑے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر رحم آیا۔ اس نے لوگوں کے دلوں میں اسلام کی طلب پیدا کر دی۔ اب وہ خود اسلام قبول کر رہے ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ عرب جو کافی عرصہ سے انگلینڈ میں رہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ انگریز لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے امن پسند ہیں۔ ان کا خمیر آدمی بھی حد کے اندر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے کتے بھی تڑپ وہ لڑائی کو پسند نہیں کرتے، وہ کسی بھی جارحیت والی چیز کو پسند نہیں کرتے (ہم لا يحبون الحرب هم لا يحبون اي شئ عدواني)

میں نے خود اپنے تجربہ میں بھی کئی ایسی چیزیں دیکھیں جس سے محسوس ہوا کہ کم از کم فکری اعتبار سے یہاں کا پسندیدہ کلچر امن کلچر ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے دین کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ لوگوں سے لڑ کر ساری دنیا میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، سراسر غیر حکیمانہ ہے۔ ایسا مذہب ان لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس سے قطع نظر کہ اسلام کی یہ سیاسی تعبیر صحیح ہے یا غلط، یہ اس حدیث

کے خلاف ہے جس میں آپ نے فرمایا لوگوں کو خوش خبری دو، ان کو متنفر کرنے والی بات نہ کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے۔

اخوانی فکر کے ایک عرب نوجوان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ابن تیمیہ کا قول ہے کہ اللہ ظالم حکومت کو قیام عطا نہیں کرتا خواہ وہ مسلم ہو، اللہ عادل حکومت کو قیام عطا کرتا ہے خواہ وہ کافر ہو( ان اللہ لا يقيم الدولة الظالمة ولو كانت مؤمنة ويقيم الدولة العادلة ولو كانت كافرة)، میں نے کہا کہ اس قول کی روشنی میں آپ لوگوں کے سیاسی احتجاجات بالکل بے معنی آپ ہر جگہ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ فلاں لوگوں نے آپ کو سیاسی اقتدار سے محروم کر دیا۔ قرآن کے مطابق اقتدار خدا کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جب اس نے آپ کو اقتدار نہیں دیا تو اس کو اپنی کوتاہی پر محمول کرتے ہوئے آپ کو اپنی اصلاح میں لگ جانا چاہئے نہ کہ غیر ضروری طور پر آپ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے لگیں۔

ایک عرب نوجوان نے عبداللہ فہد النفیسی کی ایک عربی کتاب دی۔ اس کا نام تھا : عند ما يحکم الاسلام (صفحات ۱۶۳)، میں نے کہا کہ اس کتاب کا نام صحیح نہیں۔ وہ تعجب میں پڑ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کتاب کا نام کیسے غیر صحیح ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام حکومت نہیں کرتا بلکہ انسان حکومت کرتا ہے۔ اسلامی نظام کی موجودگی میں بھی حکمران حیثیت انسان کی ہوتی ہے۔ بنو امیہ کے دور میں اسلامی قانون لیکن نظام جب یزید کے ہاتھ میں تھا تو آپ جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ مگر نظام جب عمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ میں آگیا تو وہی نظام کچھ اور نظام بن گیا۔ اس لئے اصل مسئلہ اسلام کو حاکم بنانے کا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حاکم کو اسلامی بنایا جائے۔ حاکم کو اسلامی بنانے کے بعد ہی کوئی اسلامی نتیجہ بر آمد ہو سکتا ہے۔

پاکستان سے ایک پندرہ روزہ المنبر نکلتا ہے۔ ایک پاکستانی بزرگ کے یہاں اس کا شمارہ ۱۱ جون ۱۹۹۴ دیکھا۔ اس میں مولانا علی میاں کی ایک تقریر تھی جو انھوں نے اسلام آباد میں کی تھی۔ اس میں انھوں نے کہا : "دو تین سال کا واقعہ ہے کہ میں بیروت گیا۔ میرے ایک دوست مجھے اپنی گاڑی پر بیروت کی سیر کرا رہے تھے۔ انھوں نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا کہ مولانا، ممالک اسلامیہ میں آج جو ذہنی، فکری اور سیاسی بے چینی اور کش مکش پائی جاتی ہے یہ غیر اسلامی ممالک میں کیوں نہیں الم رسالہ ستمبر ۱۹۹۴

پائی جاتی ہے۔ یہ اسلامی ممالک کے ساتھ ہی کیوں مخصوص ہے (صفحہ ۴)، مولانا علی میاں اس سوال کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔

عجیب بات ہے کہ یہی سوال اس سے پہلے میں نے ایک مغربی پروفیسر سے کیا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے سوچا۔ اس کے بعد بولا ــــ اس فرق کا سبب شاید یہ ہے کہ ہم اختلاف کا استقبال کرتے ہیں جب کہ مسلم معاشرہ میں اختلاف کو امر ممنوع سمجھا جاتا ہے :

Perhaps the reason is that here we welcome dissent. Whereas in Muslim societies dissent is always seen as a taboo. میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواب نہایت درست ہے۔ مغربی دنیا میں اختلاف اور تنقید کو صحت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ مسلم دنیا کا حال یہ ہے کہ ہر شخصیت، ہر ادارہ، ہر جماعت، ہر سیاسی نظام تقریباً بلا استثناء، تنقید اور اختلاف کو ایک ناقابل برداشت برائی کا درجہ دئے ہوئے ہے۔ اب چوں کہ طبیعتوں کے تننوع کی بنا پر اختلاف رائے بالکل ناگزیر ہے، مغربی دنیا میں اختلاف پر کھلی آزادی ہونے کی وجہ سے لوگوں کے جذبات کو نکاس ملتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مسلم دنیا میں اختلاف پر روک کی وجہ سے مسلسل ذہنی خلشار موجود رہتا ہے جس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔

پاکستان کے مشہور اردو روزنامہ نوائے وقت ۲۴ اگست ۱۹۹۴ میں ایک ’تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ‘ کے قلم سے مضمون چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا : وحدت ملی کے لئے ناسور اس مضمون میں انھوں نے کہا تھا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے تحریک پاکستان کے زمانہ میں جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ : اصل مسئلہ اقتصادی ہے، مذہب نہیں ہے اور اس میں ہندو مسلم کی تفریق نہیں ہے۔ مگر مسلمان قوم نے اس بیان کو پر کاہ کے برابر وسعت نہ دی اور پوری طرح قائد اعظم کا ساتھ دیا :

مگر پاکستان بننے کے بعد ملینوں لوگ پاکستان سے بھاگ بھاگ کر یورپ اور امریکہ پہنچ گئے کیا اس کا محرک مذہب نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اس کا واحد سبب اقتصادی تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے مقابلہ میں برطانیہ اور امریکہ میں ان کے لئے زیادہ بہتر کمائی کے مواقع ہیں، وہاں وہ زیادہ بہتر

آرمی زندگی بنا سکتے ہیں۔ اس لئے جس پاکستانی کو موقع ملا وہ پہلی فرصت میں پاکستان سے بھاگ کر وہاں پہنچ گیا۔ کتنا بڑا فریب تھا جس میں لوگ ۱۹۷۴ء سے پہلے مبتلا ہوئے، اور کتنا بڑا فریب ہے جس میں وہ اب تک مبتلا ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ برطانیہ کے ایک اسلامک سنٹر کے مدیر (ڈائرکٹر) گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس زمانہ میں دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اسلامی دنیا میں ان کی سازشوں اور ان کے فتنوں کے توڑ کے لئے دعوت سب سے زیادہ اہم ہے، خواہ مسلم ملکوں کا معاملہ ہو یا دوسرے ملکوں کا۔ (الدعوة في عصرنا هذا أهم من واجب الواجبات لمواجهة اعداء الاسلام ودفع مؤامراتهم ومكائدهم وشرورهم عن ديار الاسلام سواء اخل ديار المسلمين اوخارجها)

میں نے کہا کہ آخری نتیجہ کے اعتبار سے یہ دعوت کا ایک پہلو ہو سکتا ہے۔ مگر دامی کے اپنے ذہن کے اعتبار سے یہ کوئی درست بات نہیں۔ دعوت در اصل محبت اور خیر خواہی کا عمل ہے۔ آپ دوسری قوموں کو دشمنِ اسلام کے خانہ میں ڈال دیں تو آپ کبھی خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ ان کے اوپر دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ دعوت کے لئے ماں کا جذبہ درکار ہے، اور ماں کبھی اپنے بیٹے کو دشمن کے روپ میں نہیں دیکھتی ، خواہ بظاہر وہ سرکشی کا فعل کیوں نہ کر رہا ہو۔ مانچسٹر کالج ، آکسفورڈ سے ایک جنرل نکلتا ہے۔ اس کا نام ہے فیتھ اینڈ فریڈم۔ نمبر ۱۳۲ (۱۹۹۲ء) میں جارج کریسیڈیز (George Chryssides) کا ایک مضمون دیکھا۔ اس کا عنوان تھا نہ یہی آزادی (Religious Freedom) - اس مضمون میں روزنامہ گارڈین (The Guardian) کے شمارہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء کے حوالہ سے ایک واقعہ نقل کیا گیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا: کچھ لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ انگلینڈ جیسے بظاہر آزاد سماج میں سب کچھ ٹھیک ہے اور وہاں مذہبی آزادی محفوظ ہے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ بہت سی مثالوں سے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کچھ مہینہ پہلے ایک انجینئرنگ فرم کے میٹنگ ڈارکٹر نے راتھرم (Rotherham) میں ایک اسٹاف کے لئے اشتہار دیا۔ اس اشتہار میں یہ شرط درج تھی کہ مسلمان اس کے لئے درخواست نہ بھیجیں :

Printed page