Al-Risala · September 1996

no Muslims need apply .

Al-Risala, September 1996, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈار کٹر کا خیال تھا کہ مسلمان جارح اور جنگ پسند ہوتے ہیں۔ اس کے ذہن میں مسلمان کی تصویر اس غضب ناک بھیڑ کو دیکھ کر بنی تھی جو حال کے مظاہروں میں سلمان رشدی کی کتاب دی سٹنگ ورسز کے نسخے سڑکوں پر جلا رہا تھا (صفحہ ۴۹)

اگست کو مانچسٹر سے بذریعہ ٹرین روانگی ہوئی۔ ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر طے کرنے کے بعد برمنگھم ایک عرب نوجوان میرے ساتھ تھے۔ ان سے پورے راستے میں باتیں ہوتی رہیں۔ کرتے اور میں جواب دیتا۔ اس کو وہ ساتھ ہی ساتھ ٹیپ پر ریکارڈ کرتے رہے۔

برمنگھم ریلوے اسٹیشن پر جناب شمشاد خاں صاحب موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہوکر ان کی رہائش گاہ پہنچا جہاں مجھ کو شہرنا تھا۔ شمشاد خاں صاحب کو قرآن کے مطالعہ کا بہت ذوق ہے۔ کا وقت زیادہ تر قرآن کے بارہ میں مذاکرہ میں گزرا۔ انھوں نے بتایاکہ عبد اللہ یوسف علی کا جو ترجمہ ملینوں کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں پھیلا ہے، اس کے تفسیری نوٹ میں غالباً اختصار کے خیال سے کئی چیزیں نکال دی گئی ہیں۔ مگر اختصار کی اس کوشش میں بہت سی نہایت اہم چیزیں بھی مثلاً سورہ فاتحہ کی کمتری میں انھوں نے ایک بڑی قیمتی چیز لکھی تھی جو موجودہ نسخوں میں انھوں نے لکھا تھا کہ کیوں ایسا ہے کہ سورہ فاتحہ میں جو الفاظ ہیں وہ اس طرح ہیں جس طرح ہم اپنی زبان سے ان کو ادا کریں۔ یعنی وہ بندہ کی زبان میں ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے لکھا تھا کہ جب ہم معرفت کے درجہ کو پہنتے ہیں تو یہ الفاظ بے ساختہ طور پر ہمارے اندر سے نکلنے لگتے ہیں، When we reach enlightenment, they flow spontaneously from us. (p. 14)

کمتری کا یہ جزء ایمانی کیفیت سے بھرا ہوا ہے لیکن موجودہ نسخہ میں اس کو نکال دیا گیا ہے۔ عبد اللہ یوسف علی صاحب نے اپنے ترجمہ قرآن کا جو دیباچہ (Preface) ۱۹۳۴ کے ایڈیشن میں شامل کیا تھا، اس کے آغاز میں انھوں نے لکھا تھا کہ قرآن کی تبلیغ ایک ایسا کام ہے جس میں ہر مرد و عورت بلکہ بچے بھی اپنی استعداد (capacity) کے مطابق حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات بے حد اس کی ایک عملی مثال مجھے برمنگھم کے اس سفر میں معلوم ہوئی۔

شمشاد خاں صاحب کی چھوٹی صاحبزادی امینہ یہاں ایک اسکول میں پڑھتی ہیں۔ ایک روز ان

کی عیسائی ٹیچر نے بائبل کے مطابق بتایا کہ خدا نے چھ دن میں دنیا بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ آمینہ نے ہاتھ اٹھایا۔ خاتون ٹیچر نے کہا کہ تم کو کچھ کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بچہ نے کہا کہ آمینہ نے کہا کہ آپ کہتی ہیں کہ خدا نے آرام کیا۔ مگر میرے والدیں نے تو مجھ کو بہت چاہا ہے کہ خدا کو آرام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی :

My parents say that God Almighty does not need any rest. ٹیچر لڑکی کی اس بات سے متاثر ہوئی ۔ اس نے کہا کہ اچھا تم اسلامی لٹریچر لا کر ہمیں دو، ہم اس کو اس کے بعد آمینہ نے انھیں اسلامی کتابیں پہنچانا شروع کر دیا۔ آمینہ کے بھائی اسد میاں نے دیکھا کہ بہن اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے تو انہوں نے بھی اپنی کلاس میں اسی طرح کی گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا۔

۸ اگست کی صبح کو چار بجے نیند کھل گئی۔ فجر کی نماز یہاں ۵ بجے تھی۔ شمشاد خاں صاحب اور ان کے صاحبزادۂ اسد میاں کے ساتھ سنٹرل مسجد گیا اور وہاں فجر کی نماز ادا کی۔ مسجد کافی بڑی ہے۔ صف میں آدھی صف کے بقدر نمازی موجود تھے۔ راستہ میں شمشاد خاں صاحب نے کئی قصے بتائے۔ احمد دیدات صاحب اکثر انگلینڈ آتے رہتے ہیں۔ ان کے اندر حاضر جوابی کی صفت بہت انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک بار ایک عیسائی مبلغ سے ان کا ڈیبیٹ تھا۔ نے کہا کہ آپ ایک افریقی ہیں۔ مگر آپ امریکہ کے جس شہر میں چاہیں جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم مکہ کیوں نہیں جا سکتے۔ احمد دیدات صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر ملک میں داخل ہونے کے لئے کچھ شرطیں ہوتی ہیں۔ آپ ایک مقرر فارم پر کرتے ہیں۔ پھر آپ کو ویزا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی آپ اس ملک میں داخل ہوتے ہیں، اسی طرح مکہ میں داخل ہونے کی بھی ایک سادہ سی شرط ہے۔ کہئے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور پھر آپ جب چاہیں مکہ کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر عیسائی نے کہا کہ آپ امریکہ میں آئے ہیں۔ یہاں ہم اور آپ ایک جگہ بیٹھ کر ڈیبیٹ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مکہ میں دو مذہبوں کے درمیان ڈیبیٹ کیوں نہیں ہو سکتا۔ صاحب نے کہا کہ یہ بھی بہت آسان بات ہے۔ آج ہم سٹیلائٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ ڈیبیٹر کو سفر کر کے کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آج سٹیلائٹ کے ذریعہ ہر جگہ اس قسم کے مشترک

ڈیبیٹ کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ایک سعودی شیخ نے احمد دیدات صاحب کے اس پروگرام کو ویڈیو اس جواب پر وہ اتنا خوش ہوا کہ اس نے انھیں دو ملین ڈالر دے دیے۔ مغربی دنیا میں سب سے بڑا فتنہ ٹی وی ہے۔ تقریباً سبھی لوگ اس کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر تقریباً سبھی لوگ عملاً اس کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس کا اثر بچوں پر بہت برا پڑ رہا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس مسئلہ کا نہایت عمدہ حل نکال لیا ہے۔ پہلے ان کے گھر میں ٹی وی دیکھا جاتا تھا۔ اب انھوں نے اینٹینا نکال کر اس کا استعمال اپنے گھر کے اندر بالکل بند کر دیا ہے۔ جہاں تک خبروں کا تعلق ہے، وہ ان کو ریڈیو پر سن لیتے ہیں۔ بقیہ پروگرام کے لئے انھوں نے ایک صاحب کے ذریعہ یہ انتظام کیا ہے کہ ہر ہفتہ وہ چیک کر کے دیکھ لیا کریں کہ اس ہفتہ میں کون کون اسلامی پروگرام آرہا ہے یا کون سا مفید پروگرام ہے۔ ایسے پروگرام کو وہ ویڈیو پر ریکارڈ کر کے انھیں دے دیتے ہیں تاکہ وہ ان کو وی سی آر پر دیکھ سکیں۔ اس طرح چونکہ انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اب وہ اور ان کے بچے ٹی وی پر آنے والے سارے پروگرام نہیں دیکھتے۔ وہ صرف وہی پروگرام دیکھتے ہیں جن کو وہ خود دیکھنا چاہتے ہیں:

مذکورہ مسلمان کے صاحبزادہ مسز اسد علی سے میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ہم کو کمی کا احساس ہوتا تھا۔ مگر اب ایسا احساس نہیں ہوتا۔ اب ہمارا تمام وقت تعلیم کی مصروفیات میں گذر سارا معاملہ یوز ٹو (Use to) ہونے کا ہے۔ آپ جس چیز کے عادی ہو جائیں وہی آپ کو ٹھیک معلوم ہونے لگے گا۔

برمنگھم کے اخبار ایوننگ میل (۲۰ جولائی ۱۹۹۶) میں ایک اشتہار تھا کہ دس ہزار پونڈ تک ایک کار جیتو (win a car) اس عنوان کے تحت جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔ اپنے خواب کو پورا کرنے کا ایک موقع :

Printed page