Al-Risala · October 1996

Fortune favours a prepared mind.

Al-Risala, October 1996, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قولی میں ایک فطری حقیقت بیان کی گئی ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ اور دنیا کے ہر معاملہ سے ہے۔ سائنس کے میدان میں جس آدمی نے بھی کوئی ڈسکوری (دریافت) کی ہے؛ وہ وہی شخص ہے جو وسیع مطالعہ اور لمبے تجربہ کے نتیجہ میں اس قابل ہو چکا تھا مذکورہ دریافت کی علامتیں جب ظاہر ہوں تو وہ فوراً اس کو پہچان لے اور اس پر مزید تحقیق کر کے اس کو ایک مکمل فارمولا کی حیثیت دے سکے۔

اسی طرح معاشی ترقی کے میدان میں کوئی بڑی کامیابی اسی آدمی کو حاصل ہوتی ہے جو پہلے سے اس کے لیے ضروری تیاری کر چکا ہو۔ معاشی ترقی کے مواقع بار بار آتے ہیں۔ مگر اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتا ہے جو پہلے سے اس معاملہ کی پوری معلومات رکھتا ہو اور پیش آمدہ موقع کو استعمال کرنے کی ضروری صلاحیت بھی اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔

ٹھیک یہی معاملہ دینی معرفت کا بھی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر آن حکمت و معرفت کی بارش ہو رہی ہے مگر اس میں حصہ صرف اسی شخص کو ملتا ہے جو اپنے سینہ میں اس کا برتن فراہم کر چکا ہو۔ کائنات میں خدا کی تجلیات بکھیری ہوئی ہیں مگر ان تجلیات کا مشاہدہ صرف وہ شخص کر پاتا ہے جو پہلے سے اپنے اندر تدبر و تفکر کا مزاج بنا چکا ہو۔ دنیا عبرتوں اور نصیحتوں سے بھری گئی ہے مگر کسی چیز سے عبرت اور نصیحت کا رزق لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر تو سم (الحجر ۵۷) کی صلاحیت پیدا کر چکا ہو۔ مناظر فطرت میں ہر طرف خدا کی عظمتیں نمایاں ہیں مگر ان عظمتوں کو محسوس کر کے تڑپ اٹھنا صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اپنی بڑائی کے ہر احساس سے اپنے ذہن کو خالی کر چکا ہو۔ یہی معاملہ ان تمام تجربات کا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔

Printed page