غیر اسلامی فعل
Al-Risala, October 1996, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اصول فقہ کا ایک مسلمہ قاعدہ ہے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: دَرْءُ المفسدةِ مقدمٌ علی جلبِ المصلحةِ ۔ یعنی خرابی کو دور کرنا بہتری کے حصول پر مقدم ہے۔ حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ مصلحت کے حصول کے لئے کی جانے والی ایک کارروائی اپنے عملی نتیجہ کے اعتبار سے خرابی میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ مذکورہ شرعی اصول اسی نقصان سے بچنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایسے حالات میں مصلحت کو حاصل کرنے کے لئے اقدام نہ کرنا ہی سب سے بڑی شرعی مصلحت ہوتی ہے۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے، جہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں جس طرح اہل حق کو مواقع حاصل ہیں اسی طرح اہل باطل کو بھی یہاں مواقع حاصل ہیں۔ یہ مواقع خود خدا کی طرف سے دئے اس لئے کسی بھی شخص یا گروہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے مخالفین سے عمل کے مواقع چھین لے۔ ایسی حالت میں فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ جب آپ کوئی اقدام کریں تو صرف یہ نہ دیکھیں کہ آپ جو اقدام کرنے جا رہے ہیں وہ بظاہر ایک صحیح اقدام ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ لازمی طور پر اس کا بھی جائزہ لیں کہ جب آپ اپنا اقدام کریں گے تو دوسرے لوگوں کا ردعمل اگر حالات بتاتے ہیں کہ دوسرے لوگ اس پوزیشن میں ہیں کہ آپ کے اقدام کو آپ کے اوپر الٹ دیں اور آپ کو مزید مشکلات سے دوچار کریں، تو ایسی حالت میں اقدام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اقدام نہ کیا جائے۔
مثال کے طور پر سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے قتل کا جو فتویٰ دیا گیا، اس کے نتیجہ میں وہ لوگ قتل تو نہیں البتہ معاندین نے اس کو استعمال کر کے ساری دنیا میں اسلام کو بدنام کر دیا۔ بابری مسجد کے لئے جو دھواں دھار تحریک چلائی گئی وہ مسجد کو بچانے کا ذریعہ تو نہیں بنی البتہ مسلمانوں کی عزت اور جان و مال کی تباہی کا سبب بن گئی۔ اسلامی اقدام وہی ہے جو نتیجہ خیز ہو، جو حالات کو بہتر بنائے۔ اس کے برعکس جو اقدام بے نتیجہ ہو، اور حالات کو مزید ابتر کرنے کا ذریعہ بن جائے، وہ اسلامی عمل نہیں ہے۔ نادانی کی اچھل کود ہے جس کا خدا اور رسول سے کوئی تعلق نہیں، خواہ بظاہر اس کو اسلام کے نام پر کیا گیا ہو۔