باشعور افراد
Al-Risala, October 1996, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
عبد اللہ بن ابی قدیم مدینہ کا سب سے بڑا سردار تھا۔ حتی کہ مدینہ کے باشندے اس پر متفق ہوگئے تھے کہ اُس کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آگئے تو آپ ہی کو مدینہ کے لوگوں نے بڑا مان لیا۔ مدینہ میں ابتدا مہاجرین اقلیت میں تھے۔ مقامات سے لوگ ہجرت کر کے آتے رہے، یہاں تک کہ مدینہ میں مہاجرین کی اکثریت ہوگئی اور انصار اقلیت میں ہوگئے جن کا عبد اللہ بن ابی سردار چلا آرہا تھا (تفسیر ابن کثیر ۳۰/۴) ان باتوں کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین سے سخت وہ کسی نہ کسی طرح آپ کو اور مہاجرین کو مطعون کرتا اور انھیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتا۔ سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق میں عبد اللہ بن ابی اپنے قبیلہ کے بہت سے لوگوں کے راستہ میں ایک واقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے خلاف دشنام طرازی کی۔ اپنے قبیلہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ کے عزت والے لوگ ہیں۔ اگر ہم مدینہ پہنچ جائیں تو ہم لوگ اپنے شہر سے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے (المنافقون ۸)
یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ قافلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ کے قریب پہنچ گیا۔ وقت ایک نہایت غیر معمولی واقعہ ہوا جو راوی کے الفاظ میں یہ تھا :
ان ابن عبد الله وقف لابيه اس کے لڑکے عبد اللہ اپنے باپ عبد اللہ بن ابی بن عبد الله بن ابی بن سلول عند سلول کے لیے مدینہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ مضيق المدينة فقال قف فوالله عبد اللہ بن ابی وہاں پہنچا تو انھوں نے کہا کہ ٹھہرو، لا تدخلها حتى يأذن رسول الله خدا کی قسم تم شہر میں داخل نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ صلى الله عليه وسلم في ذلك۔ فلما جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو استأذنه في ذلك فاذن له عبد اللہ بن ابی نے آپ سے اجازت مانگی۔
فنارسلہ حتی دخل المدینۃ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس کے بعد عبد اللہ (البدایہ والنہایہ ۳/ ۱۵۸) نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں داخل ہوگیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام اتنے دانش مند لوگ تھے کہ وہ بتائے بغیر باتوں کو جان لیتے حضرت عبد اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تھا۔ انھوں نے بطور خود یہ جان لیا کہ اس موقع پر انھیں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ اس وقت موزوں ترین بات یہ تھی کہ عبد اللہ بن ابی کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے کہ اب مدینہ کے بڑے تم نہیں ہو، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے بڑے اور مدینہ کے سردار ہیں۔
حضرت عبد اللہ نے اس بات کے مظاہرہ کا انتہائی بروقت اور صحیح طریقہ اختیار کیا۔ اس کام کو کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ عبد اللہ بن ابی کا بیٹا اسے انجام دے۔ حضرت عبد اللہ نے اس حقیقت کو سمجھا اور عین وقت پر وہ مطلوبہ کردار ادا کیا جو اس موقع پر انھیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ کسی مشن کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس کو با شعور افراد کی ایک ٹیم مل جائے، اس طرح کی با صلاحیت ٹیم کے بغیر کوئی بھی مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس ٹیم کے افراد میں دو صفت لازمی طور پر ہونا چاہیے۔ ایک یہ کہ اس کا ہر فرد اطاعت گزار اس سے جو کچھ کہا جائے وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے، خواہ وہ ذاتی عذر ہو یا خارجی عذر۔
دوسری صفت یہ ہے کہ اس ٹیم کے افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ کہے بغیر باتوں کو جان وہ بتائے بغیر صورت حال کو سمجھ لیں۔
اس دوسری صفت کی اہمیت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بہت سی باتیں بتائی نہیں جاسکتیں۔ جب مشن پھیلتا ہے اور نئے نئے تقاضے سامنے آتے ہیں تو یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو ساری ضروری باتیں بتادی جائیں۔ ایسے وقت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنی عقل سے باتوں کی گہرائی کو سمجھے، وہ خود ہر موقع پر اس کے موافق ضروری اقدام کر سکے۔ کوئی بھی دوسری چیز اس شعوری پختگی کا بدل نہیں بن سکتی۔