Al-Risala · January 1996

اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں

Al-Risala, January 1996, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اجتہادی بصیرت سے محرومی کی بنا پر موجودہ صدی میں ہمارے ساتھ جو المیہ پیش آیا، یہی برعکس صورت میں مسیحی چرچ کی بے بصیرتی کے نتیجہ میں اسپین میں ان کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ محض ایک سیاسی داخلہ نہ تھا، وہ نئے علوم اور نئی ٹکنیک کا داخلہ تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اسپین میں صرف اپنی سیاسی بالا دستی قائم نہیں کی، بلکہ انھوں نے غیر معمولی محنت سے ملک کی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے اسپین کو ہم عصر یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔

لیکن اس زمانہ کے مسیحی علماء ٹھیک اسی طرح اجتہادی بے بصیرتی کا شکار تھے جس طرح مسلم علماء انیسویں صدی میں اجتہادی بے بصیرتی میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ ان مسیحی علماء نے اپنے ملک میں مسلمانوں کے سیاسی داخلہ کو تو دیکھا مگر وہ ان کے اس پہلو کو نہ دیکھ سکے کہ وہ جدید علمی اور فنی ترقیوں کے نقیب (harbinger) بن کر یہاں آئے ہیں۔ اپنی اس بے بصیرتی کو انھوں نے مسلمانوں کے اوپر انڈیل دیا اور انھیں اپنے ملک سے نکالنے کی مجنونانہ کوشش شروع کر دی۔ جب کہ مقامی اسپینیوں کی علمی پس ماندگی کا یہ عالم تھا کہ مسلمان جب مجبورانہ طور پر اسپین سے واپس آگئے تو ان کی چھوڑی ہوئی

رصد گاہوں کا کوئی مصرف اسپینی مسیحیوں کو معلوم نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ان رصد گاہوں کو چرچ کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دیا۔

نومبر ۱۹۹۴ میں میں نے اسپین کا سفر کیا تھا۔ میں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ اسپین دوسرے ترقی یافتہ یورپی ملکوں کے مقابلے میں کمتر درجہ کا ملک نظر آتا ہے۔ جب کہ آٹھ سو سال پہلے وہ جدید ترقیات کا ہر اول بنا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسیحی علماءء را سپینی مسلمانوں کے علمی پہلو کو نہ دیکھ سکے ۔ وہ صرف ان کے سیاسی پہلو کو دیکھ کر ان کے ساتھ منتقمانہ لڑائی لڑنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں خود یورپ کے انصاف پسند مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین اگر مسلمانوں کے ساتھ سیاسی انتقام میں نہ پڑتا اور ان کی لائی ہوئی علمی اور فنی ترقیوں میں شریک ہو جاتا تو آج بلاشبہ اسپین بر اعظم یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

انیسویں صدی میں جس مجتہدانہ رہنمائی کی ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ مسلم علما یہ فتویٰ دیتے کہ یورپی قوموں سے سیاسی ٹکراؤ کو نظر انداز کرو اور اس کے بجائے ایک طرف ان قوموں کو پر امن انداز میں دعوت حق کا مخاطب بناؤ، اور دوسری طرف جدید تعلیم اور ریسرچ میں ان کے شریک بن جاؤ۔ طرح ایک طرف اسلام کی اشاعت ہوتی ۔ اور دوسری طرف مسلمان جدید علوم اور جدید ترقیوں میں دوبارہ اپنا وہ سفر شروع کر دیتے جو پندرہویں صدی میں اسپین میں ختم ہو گیا تھا۔ مگر مجتہدانہ بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارا امکان استعمال ہونے سے رہ گیا ۔

موجودہ زمانہ میں جب مغربی قو میں مسلم علاقوں میں گھس گئیں تو مسلم علما نے قدیم روایات کے مطابق ، ان کے خلاف تیر اور تلوار اکٹھا کیے اور ان سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ان کا یہ اقدام کامل شکست اور تباہی کی صورت میں بر آمد ہوا ۔ اس المیہ کا سبب مغربی قوموں کی سازشیں نہیں تھیں ، جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے، بلکہ خود مسلم رہنماؤں کی اجتہادی نا اہلی تھی۔ اصل یہ ہے کہ ہتھیار کا تعلق زمانی حالات سے ہے۔ قدیم زمانہ کا حریف چونکہ تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر آتا تھا اس لیے ہمارے اسلاف نے تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر اس کا بھر پور مقابلہ کیا۔ استعمار کا معاملہ قدیم حریفوں سے بالکل مختلف تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پچھلے کئی سو سال کے عمل کے نتیجہ میں خود قوت کے معیار کو بدل دیا تھا۔ اب قوت کا سر چشمہ علم تھا نہ کہ تلوار۔ مسلم رہنما اگر

اس راز کو جانتے تو وہ کہتے کہ نئے حریف سے مقابلہ کرنے کے لیے علم کی قوت فراہم کرو۔ موجودہ زمانہ میں بعض سیکولر مسلمانوں نے مسلمانوں کو جدید علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا اور اس سلسلہ میں قرآن کی ان آیتوں کا حوالہ دیا جن میں علم کا ذکر ہے۔ لیکن ہمارے علماء نے یہ بحث چھیڑ دی کہ قرآن میں علم سے مراد علم دین ہے نہ کہ جدید طبیعی علوم جو یورپ کے راستہ سے آ رہے ہمارے علماء کم از کم دو سو سال تک اس غیر متعلق بحث میں الجھے رہے یہاں تک کہ مسلم قوم علوم جدیدہ میں ساری دنیا سے پچھڑ گئی۔

ہمارے علماء اجتہاد کا دروازہ بند کر کے اگر اپنے آپ کو مجتہدانہ بصیرت سے محروم نہ کر چکے ہوتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ جدید علوم کی اہمیت اگر چہ قرآن کی آیتِ علم سے نہیں نکلتی مگر وہ قرآن کی آیت قوت سے پوری طرح نکل رہی ہے۔ یہ علوم دورِ جدید کی قوت ہیں اس لیے قرآن کے حکم (اعداد قوت) کے مطابق ، ہمیں چاہیے کہ ان کو بھر پور طور پر حاصل کریں۔

موجودہ زمانہ میں ایک عجیب مظہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ مسلمان جو دورِ زراعت میں دنیا کی امامت کر رہے تھے وہ دورِ صنعت میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ گئے ۔ اس مظہر کی توجیہہ عام طور پر صرف ایک کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ المیہ صلیبیوں اور صہیونیون کی سازش کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اسی ذہن کی ترجمانی کرتے ہوئے ۸۰ سال پہلے شبلی نعمانی نے کہا تھا :

کہاں تک لو گے ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک آج بھی مسلمانوں کے تمام اخبار و رسائل خواہ وہ اردو کے ہوں یا عربی کے یا کسی اور زبان کے، سب کے سب ” نظریہ سازش“ کی تفصیلات سے بھرے رہتے ہیں۔ مگر یہ نظریہ نہ صرف لغو ہے بلکہ وہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ قرآن میں صاف طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آدمی جو کچھ بھگتتا ہے وہ صرف اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اس پس ماندگی کا واحد سبب جدید علوم میں مسلمانوں کا پچھڑاپن ہے۔ مسلمان جدید علوم میں پیچھے ہو گئے ، اس لیے وہ جدید صنعت میں بھی پیچھے ہو گئے ، اور جدید صنعت میں پیچھے ہونے کے نتیجہ میں وہ دورِ جدید کے ہر شعبہ میں پچھڑ کر رہ گئے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں تمام چیزوں کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔

Printed page