عزیمت کیا ہے
Al-Risala, October 1996, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
عزیمت کے لفظی معنی پختہ ارادہ کے ہیں۔ اللیث لغوی نے کہا : العزم ما عقد عليه قلبك من امر انك فاعله (لسان العرب ٤٩٩/١٢) عزیمت مومن صادق کی پہچان ہے۔ یہ اہل حق کی ایک نہایت اہم خصوصیت ہے۔ قرآن میں اللہ کے پیغمبروں کو (اولوا العزم الاحقاف (٢٥) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں عزیمت کو جنگ اور ٹکراؤ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جنگی کارنامہ دکھانے والے شخص کو صاحب عزیمت سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس نظریہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن میں صبر اور تقویٰ اور عفو و درگزر کی روش پر قائم ہونے کو عزیمت کہا گیا ہے (آل عمران ۱۸۶ ، الشوریٰ (۴۳) حدیث میں ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے رشد پر عزیمت کی دعا کرتا ہوں (واسألك عزيمة الرشد)
پچھلی چند صدیوں سے مسلسل جس چیز سے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے، وہ یہی عزیمت کا غلط تصور ہے۔ مسلمان صدیوں سے انتہائی بے فائدہ قسم کے ٹکراؤ میں مشغول ہیں۔ تباہ کن روش کو اسلامی عزیمت قرار دے کر اس کو خوب گلوریفائی کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اب یہ حال ہو چکا ہے کہ جو آدمی اقتدار وقت سے ٹکراؤ کرے وہ فوراً قوم کے اندر ہیرو بن جاتا ہے۔ اور جو آدمی صبر اور اعراض کی روش اختیار کرنے کی تلقین کرے وہ اس کے برعکس زیرو کے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس غیر اسلامی اور غیر عقلی روش نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بے حساب نقصان پہنچایا ہے۔ وہ تمام تباہیاں جن کو ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ دشمنان اسلام کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہے، وہ سب کی سب بلاشبہ اسی غلط تصور اسلام کا نتیجہ ہیں۔
اس غلط روش کا یہ اندوہناک نتیجہ ہوا کہ دورِ جدید کی مسلم نسلوں میں اسلامی تفکیر کا نشوونما بالکل تفکیر صحیح ہمیشہ مبنی بر حقیقت سوچ سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر عزیمت کے مذکورہ بالاتصور نے اسلامی فکر کو حقیقت سے منقطع کر دیا۔ حقیقت الگ ہو گئی اور اسلامی سوچ الگ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تاکیدی ہدایت حدیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ حکمراں میں خواہ بگاڑ آجائے مگر تم ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ حکومتی بگاڑ سے براہ راست تعرض کیے بغیر تم دوسرے تعمیری اور اصلاحی شعبوں میں اپنی کوششیں جاری رکھنا۔ چنانچہ ان واضح ہدایات کی بنا پر علماء اسلام
نے اس پر اتفاق کر لیا کہ مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، خواہ وہ بظاہر فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں گےہیں۔
اس واضح اسلامی اصول کے باوجود مسلمانوں کا رہنما طبقہ صدیوں سے حکومتوں سے ٹکراؤ کرنے میں مصروف ہے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے عمل کی توجیہہ کرتا ہے۔ ان بنا پر ان مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کی توجیہہ کرنا بھی ضروری تھا۔ وہ حقیقی دلائل کے ساتھ اپنے عمل کو جائز ثابت نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے لیے ایک ہی ممکن راستہ تھا۔ اور وہ غلط استدلال تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی پوری تفکیر غلط استدلال پر قائم کر دی۔
موجودہ زمانہ میں جو بے فائدہ جنگی کارروائیاں کی گئیں، ان سب کے لیے عزیمت کے لفظ سے جواز فراہم کیا گیا ہے۔ مگر یہ ایک غلط انتساب تھا، اسی لیے امت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ نے صرف امت کی تباہی میں اضافہ کیا۔ اس کے برعکس اگر عزیمت کو صابرانہ عزیمت کے مفہوم میں لیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ مسلمانوں کو حاصل ہوتا۔ جیسا کہ دورِ اول میں اسی قسم کی عزیمت کے ذریعہ اہل اسلام کو حاصل ہوا تھا۔
اگر لوگوں میں صابرانہ عزیمت کا مزاج ہوتا تو وہ نقصان اٹھانے کے باوجود منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے استحکام نو کی تدبیر کرتے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرتے۔ وہ غیر ضروری طور پر وقار کی جنگ چھیڑنے کے بجائے حکمت کی روش اختیار کرتے۔ وہ سیاسی محرومی کو برداشت کرتے ہوئے جدید علوم کے شعبوں میں دستگاہ حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو لگا دیتے۔
جنگی عزیمت انہیں صرف تباہی کی طرف لے گئی۔ صابرانہ عزیمت انہیں ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتی۔ اگر سچی عزیمت کی یہ پالیسی اختیار کی جاتی تو پہلی ہی نسل میں وہ فائدہ مل جاتا جو کئی نسلوں کی قربانی کے باوجود ابھی تک ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔