Al-Risala · October 1996

بھائی اور بہن

Al-Risala, October 1996, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ؛ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک جان سے اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں زمین پر پھیلا دیں۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور خبر دار رہو قرابت والوں سے، بے شک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اس حیاتیاتی حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے سے الگ مخلوق نہیں ہیں، بلکہ دونوں ایک ہی مادہ سے بنائے گئے ہیں۔ دوسرے کے لئے خونی بھائی اور خونی بہن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ہی وسیع تر انسانی برادری کے ارکان ہیں۔ حیاتیات کے اعتبار سے جو عورت ہے وہی مرد ہے، اور جو مرد ہے وہی عورت

تمام انسان، خواہ وہ عورت ہو یا مرد، پیدائش کے اعتبار سے ایک ہیں۔ آخر کار ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں جن کو حوا اور آدم کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا فطری تقاضا ہے کہ ہر مرد دوسرے مرد کو اپنا بھائی سمجھے، ہر عورت دوسری عورت کے ساتھہ بہن کا سا معاملہ کرے۔ تمام مرد اور تمام عورتیں اپنے اپنے دائرہ میں ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر رہیں۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کریں۔

پھر اس وسیع انسانی برادری میں جو براہ راست رحمی رشتے ہیں ان میں نسلی اتحاد کا یہ پہلو اور زیادہ قوی ہو جاتا ہے۔ اس لئے قریبی رحمی رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ جو آدمی قریبی رشتوں میں اچھا سلوک نہ کرے وہ دور کے رشتوں میں بھی اچھا سلوک نہیں کر سکے گا۔

مردوں اور عورتوں کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانوں کا خود اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام عورتوں اور مردوں کے اوپر

عظیم و برتر خدا ہے۔ وہ آخر میں ہر ایک سے حساب لینے والا ہے۔ ہر ایک دنیا میں جیسا عمل کرے“ اسی کے مطابق آخوت میں اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس لئے ہر عورت اور ہر مرد کو چاہئے کہ کسی سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو وہ محض ایک انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈر سے اور قول و عمل کے اعتبار سے اپنے آپ کو اس روش کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے یہاں کامیابی دینے والی ہو۔ قرآن زمین کے اوپر ایک وسیع انسانی سماج بنانا چاہتا ہے۔ ایک ایسا سماج جس میں ہر طرف انسانی برابری کی فضا ہو ، ہر طرف انسانی خیر خواہی کا ماحول ہو۔ اور وہ فضا اور ماحول ختم ہو جائے جس میں لوگ ایک دوسرے کو شک اور نفرت اور رقابت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب لوگوں کے ذہن سے یہ حقیقت نکل جاتی ہے تو انسانی دنیا جنگ کی مانند ہو جاتی ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دوسری عورت یا دوسرا مرد میرے راستہ کی رکاوٹ ہے۔ اس لئے مجھے اس کو اپنے راستہ سے ہٹانا ہر ایک کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنا نہیں سمجھتا بلکہ وہ دوسروں کو غیر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سوچ جب زیادہ بڑھ جائے تو دنیا امن کے بجائے بد امنی کا گہوارہ بن جاتی ہے، یہاں پیار کے چشمے بہنارک جاتے ہیں۔ اس کے بجائے نفرت کی گرم ہوائیں ہر طرف چلنے لگتی ہیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ تمام عورتوں اور مردوں کو ان کی اصل حقیقت یاد دلائی جائے ۔ کے اندر یہ ذہنی بیداری لائی جائے کہ وہ اپنی اصل سے آگاہ ہو کر اپنی سوچ کو اس کے لوگ آج بھی اسی طرح بھائی اور بہن کی طرح مل جل کر رہنے لگیں جس طرح وہ زندگی کے آغاز میں رہ رہے تھے۔

یہ ذہن جب لوگوں میں نہ رہے تو اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کی ترقی پر آپ کو جلن ہوگی ، کیوں کہ دوسرے کو آپ نے اپنا نہیں سمجھا بلکہ غیر سمجھا۔ دوسرا آگے بڑھے تو آپ چاہیں گے کہ اس کے راستہ میں رکاوٹ ڈال کر اس کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ ایک عورت گھر کے اندر یہ چاہے گی کہ وہی ہر چیز کی مالک بن جائے اور دوسروں کے قبضہ میں کچھ نہ رہنے دے۔ حالاں کہ اگر وہ گھر کے دوسرے ارکان کو اپنا سمجھے تو اس قسم کا احساس اس کے اندر نہیں پیدا

کیوں کہ ایسی حالت میں وہ اپنی چیز کو دوسروں کی چیز سمجھے گی، اور دوسروں کی چیز بھی اس کو اپنی نظر آئے گی۔

سب کو اپنا جانیے اور اپنے کو سب کا سمجھیے ، یہی اچھا گھر بنانے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہی کسی سماج کو اچھا سماج بنانے کا طریقہ بھی۔

حدیث میں آیا ہے کہ ان العباد كلهم إخوة (ابوداؤد) یعنی خدا کے تمام بندے آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ عالمی اخوت کا یہ تصور اسلام کی نہایت اہم تعلیم قرآن وحدیث میں اس کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

ظاہری طور پر انسانوں میں بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مثلاً رنگ کا فرق، صورت کا فرق ، قد کا فرق ، اسی طرح جنس اور نسل کا فرق ، وغیرہ ۔ ان فروق کی بنا پر قدیم زمانہ میں طرح طرح کے تفریقی نظریے بنائے گئے۔ کسی نے برتر نسل اور کمتر نسل کا نظریہ بنایا۔ انسانیت کو حاکم طبقہ اور محکوم طبقہ میں بانٹا۔ اس طرح ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف قسم کی تفریقیں وجود میں آگئیں۔

مگر اسلام نے ان تمام تفریقی دیواروں کو گرا دیا۔ اس نے تمام انسانوں کو برابر قرار خواہ وہ ایک رنگ کے ہوں یا دوسرے رنگ کے۔ خواہ وہ ایک طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے طبقہ سے۔ خواہ وہ مرد کی جنس سے ہوں یا عورت کی جنس سے۔

اسلام نے صرف نظریاتی اعلان نہیں کیا۔ بلکہ اسی اصول مساوات کی بنیاد پر ایک پورا سماج عملی طور پر قائم کر دیا۔ تاکہ ہر دور کے انسانوں کے لئے وہ نمونہ کا کام دے۔ قیامت تک کے تمام لوگ اس سے مساوات انسانی کا نظریاتی سبق بھی لیں، اور اسی کے ساتھ اس کے عملی نمونہ کو دیکھ کر اس کے قابل عمل ہونے کا یقین بھی حاصل کریں۔

Printed page