Al-Risala · October 1996

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

Al-Risala, October 1996, pp. 23–33

By Maulana Wahiduddin Khan

برمنگھم کے ایک اسٹور میں داخل ہوا۔ یہ فیریکس روڈ پر واقع ہے۔ اس میں ہر قسم کی گھریلو چیزیں برائے فروخت موجود تھیں ۔ اس اسٹور کا نام تھا ڈومیسٹکس (Domestiks) مذکورہ قسم کے اسٹور کے لئے یہ نام بہت موزوں معلوم ہوا۔ میں نے سوچا کہ ڈومیسٹکس جیسا ایک لفظی نام اردو میں بناؤں ۔ مگر کوئی مناسب لفظ سمجھ میں نہ آیا۔ اسی طرح یہاں چوکر سمیت گیہوں کا بسکٹ بنایا جاتا ہے جو کھانے میں بہت ہلکا اور مفید ہے اس کا نام ہوتا ہے (Whole Wheat biscuit) اس کو بھی میں نے اردو میں کہنا چاہا۔ مگر کوئی لفظ میں وضع نہ کر سکا۔ اردو میں شاعرانہ ترکیبیں بنانا آسان ہے، مگر سائنٹفک ترکیبیں بنانا بہت مشکل۔

۸ اگست کو کار ڈف (Cardiff) میں پروگرام تھا۔ شام کو چار بجے برمنگھم سے کارڈف کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ بذریعہ کار دو گھنٹہ کا سفر تھا جو ویلس (Wales) کے علاقہ سے گزرا۔ یہ یہاں کا بہت خوبصورت علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف سبز پوش پہاڑیاں اور ہرے بھرے میدان دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ مگر سر میں چکمہ کی کیفیت کی وجہ سے کار کی پچھلی سیٹ پر لیٹ گیا اور راستہ کے ان خوبصورت مناظر کو دیکھ نہ سکا۔ دنیا میں آدمی کو اگر تمام سامان راحت مل جائے تب بھی اپنی محدودیت کی وجہ سے کسی کے لئے یہاں کی راحتوں سے لطف اندوز ہونا ممکن

کارڈف میں داخل ہو کر پہلے ہم لوگ جناب اقبال احمد صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ دیر کے انھوں نے بتایا کہ کارڈف شہر میں مسلمانوں کے تقریبا آٹھ ہزار خاندان آباد ہیں۔ مسجدیں چھ ہیں۔ مغرب کے قریب تک اقبال احمد صاحب سے گفت گو ہوتی رہی۔ با صلاحیت آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ گہرا دینی جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ یہاں ایک اچھی سروس میں مگر اب پیشگی ریٹائرمنٹ لے کر "دعوہ ورک" میں مشغول ہونا چاہتے ہیں۔ مغرب کی نماز کناٹ روڈ (Connaught Road) کی مسجد میں پڑھی۔ اسی مسجد میں خطاب کا پروگرام تھا اور اچھا خاصا اجتماع موجود تھا۔ بہت سے لوگ دور دور سے آئے تھے۔ نماز کے بعد میں

لوگ موجود ہیں وہ غیر موجود کو یہ پیغام پہنچادیں (فلیبلغ الشاهد الغائب)، چنانچہ آپ کی وفات کے بعد صحابہ عرب سے نکل کر تمام ملکوں میں پھیل گئے اور اسلام کی عالمی اشاعت کی۔ دوسراول کا یہ کام دعوتی منصوبہ کے تحت ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب (industrialisation) نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکالا اور دوبارہ ان کو ساری دنیا میں پھیلا یہ بھی ایک منصوبۂ الہی ہے۔ وہ اس لئے ہے تاکہ مسلمان موجودہ انسانی نسلوں تک اسلام کا پیغام ہم کو اس خدائی منصوبہ کا شعوری ادراک ہونا چاہئے تاکہ ہم اس کے مطابق خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کر سکیں۔ اس کے بعد میں نے صحابہ کرام اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا تقابل کرتے ہوئے بتایا کہ صحابہ میں وہ کون سی صفات تھیں جس کی وجہ سے وہ "انصار اللہ بن سکے۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں وہ کون سی کیاں ہیں جن کو ہمیں دور کرنا ہے تاکہ ہم خدائی منصوبہ کی تکمیل میں اپنا حصہ ادا کرسکیں ۔ اور خدا کی طرف سے دنیا و آخرت میں اس کا انعام پائیں۔ کے بعد لوگوں نے غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہاں ایک اور پروگرام رکھا جائے۔ مگر وقت کی کمی کی بنا پر مجھ کو معذرت کرنی پڑی۔ ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ آپ نے ہمارے جذبات کو زبان بخش

مسجد میں ڈاکٹر فقیر محمد خاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ کار ڈف کی تبلیغی جماعت کے امیر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دو سال پہلے وہ ایک جماعت لے کر نیو بارک گئے۔ نیو یارک ایئر پورٹ پر ہم سے تو نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ ان لوگوں نے وہیں اذان دی اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ سفید فام امریکی اس منظر کو بہت غور سے دیکھتا رہا۔ آخر میں وہ ان لوگوں کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ لوگ انگریزی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر اس نے پوچھا کہ یہ آپ لوگ یہاں کیا کر رہے انھوں نے بتایا کہ ہم اسلام کے مطابق خدا کی عبادت کر رہے تھے۔ اس کا تجسس دیکھ کر جماعت والوں نے اس کو اپنے پاس بٹھایا اور اس کو اسلام کے بارہ میں بتانا شروع کیا۔ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اسی نشست میں اس نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔ ایک صاحب جوریج (seed) سے متعلق تحقیقی ادارہ میں کام کرتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ہم ہر چیز کے بیج کو خورد بین کے شیشے کے نیچے رکھ کر دیکھتے ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صرف انسان

ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس دنیا کا ہر ذرہ اور ہر چھوٹی بڑی چیز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مثلاً سیب کے دس ہزار بیج کو لیا جائے اور خوردبین میں اس کو بڑا کرکے دیکھا جائے تو ہر بیج ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دے گا۔ نیچر (فطرت) میں اتنا زیادہ تنوع ایک طرف ارتقا کی تردید ہے، کیوں کہ مفروضہ ارتقائی عمل یکسانیت کو چاہتا ہے نہ کہ تنوع کو۔ اور دوسری طرف وہ بتاتا ہے کہ کتنا عجیب قدرت والا ہے وہ خدا جس نے اتنی بڑی کائنات بنائی اور اس کو اس طرح بنایا کہ اس کی ان گنت چیزیں سب کی سب ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔

8 اگست کی دوپہر کو برمنگھم کے مضافات میں گیا جس کو یہاں کی اصطلاح میں کنٹری سائیڈ کہا مغربی ملکوں میں کنٹری سائیڈ نہایت خوبصورت ہوتا ہے۔ جناب شمشاد خاں صاحب کا یہاں بہت بڑا مکان ہے۔ یہاں وہ دس سال تک رہے ہیں۔ اب وہ اس کو چھوڑ کر شہر میں نسبتاً چھوٹے مکان میں رہتے ہیں۔ ایک صاحب نے اس کو دیکھ کر کہا: آپ اتنا اچھا گھر چھوڑ کر کیسے چلے گئے۔ میں نے کہا کہ آپ اچانک اس گھر کو دیکھ رہے ہیں اس لئے وہ آپ کو پرکشش معلوم ہو رہا ہے۔ آپ گھر کو حاصل کرلیں اور اس میں رہنے لگیں تو کچھ ہی دنوں بعد آپ کے لئے اس کی جذابیت ختم ہو جائے گی۔ اس دنیا میں کوئی چیز اسی وقت تک پرکشش ہے جب تک وہ مل نہ ہو۔ ملنے کے بعد ہی آدمی کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی کشش ختم ہو گئی۔

کارڈف میں پاکستان سے آئے ہوئے ایک مسلمان رہتے ہیں۔ ان کا نام مسٹر انور شیخ ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۰ میں ایک کتاب چھاپی ہے جس کا نام ابدیت (Eternity) ہے۔ ۳۸ صفحہ کی کتاب میں اسلام کے بارہ میں نہایت باغیانہ قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ پہلے میں کٹّر مسلمان تھا۔ پھر پاکستان میں میں نے دیکھا کہ اسلام ایک مذاق بن گیا ہے۔ کے لئے ذریعہ توست ہے اور ملاّ کے لئے ذریعہ معاش۔ شفاعت کے عقیدہ کی وجہ سے کوئی بھی اچھے اخلاق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ سب یہی کہتے ہیں کہ محمد عربی ہماری سفارش کر دیں گے اور ہم سیدھے جنت میں چلے جائیں گے۔

مصنف سے میری ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کی کتاب میں نے دیکھی۔ اس کتاب کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ خدا انسان ہے اور انسان خدا ہے (God is man and man is God)

اس کتاب کے بارہ میں ان کا ایک انٹرویو لندن کے ماہنامہ کردار (مارچ ۱۹۹۳) میں دیکھا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ قرآن میں بعض آیات ایسی ہیں جن سے میرے دعوی کی دلیل ملتی ہے۔ مثلاً قرآن کی آیت ہے کہ قیامت کے دن اللہ میاں منصف پر بیٹھے گا اور اس کے دائیں طرف محمد عربی بیٹھیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں ایک ہیں۔ ہر شخص جس نے قرآن کو پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ ایسی کوئی آیت قرآن میں نہیں ہے۔ علوم میں کوئی مصنف اس قسم کی بے بنیاد بات نہیں کہے گا۔ مگر مذہب کے معاملہ میں لوگ اپنے کو آزاد سمجھتے ہیں کہ وہ جو چاہیں لکھیں۔ عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود وہ اپنے بارہ میں یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے والے لوگ ہیں۔

انگلینڈ میں اور پورے یورپ میں بڑی تعداد میں مسلمان اور دوسرے ایشیائی اور افقی لوگ بستے ہیں۔ جن کو یہاں نسلی قومیتیں (ethnic communities) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی یہ لوگ بڑی تعداد میں ہیں۔ مگر دونوں مقامات میں ایک فرق ہے۔ امریکہ میں منتخب ہجرت (selective migration) ہوئی ۔ اس لئے وہاں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ پہنچے۔ جب کہ انگلینڈ وغیرہ میں لوگ بلا امتیاز آئے۔ اسی لئے یہاں زیادہ تر مزدور طبقہ داخل ہوا۔

اس فرق کے مظاہر ہر سطح پر پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں بسنے والے مسلمان اور دوسرے ایشیائی لوگ زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ معیاری زندگی گزارتے ہیں جب کہ یہاں کا معاملہ اس سے مثالاً لندن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے بہت بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں جن میں ہندی اور ار دو مقررین پر جوش تقريریں کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایسا نہیں۔ اجتماعات ہال کے اندر کانفرنس کے انداز میں ہوتے ہیں۔ جب کہ یہاں اسی طرح پارکوں میں بڑے بڑے عوامی جلسے ہوتے ہیں جیسا کہ ہندستان یا پاکستان میں نظر آتے ہیں۔ ۱۹ اگست کی صبح کو میں شمشاد خاں صاحب کے مکان پر اپنے کمرہ میں تھا۔ مکان سے ملحق گارڈن اور میرے کمرہ کے درمیان صرف شیشہ کی دیوار حائل تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک سفید فام نوجوان آتا ہے اور آتے ہی فوراً اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ اس نے مشین کے ذریعہ لان کی گھاس کاٹی۔ کو درست کیا۔ پورے گارڈن کی صفائی کی۔ وہ آدھ گھنٹہ تک لگاتار اپنے کام میں مشغول رہا۔ نہ بیٹھا، نہ

کسی سے بات کی۔ نہ ادھر اُدھر دیکھا۔ حتیٰ کہ چائے پیتے ہوئے بھی اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اس طرح کام کرتا ہے جیسے مشین کا بٹن دبا دیا جائے اور وہ بند کئے جانے تک مسلسل چلتی رہے۔ کا نام بلی (Billy) تھا۔ وہ مہینہ میں دو بار یہاں آتا ہے اور ایک بار کا ۳۰ پونڈ لیتا ہے۔ یورپی قوموں میں یہ صفت ان کے معمولی ورکر سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں تک پائی جاتی ہے۔ ان کا یہی قومی کردار ان کی ترقی کا راز ہے، نہ کہ کوئی سازش جس کا انکشاف ہمارے دانشور اکثر عارفانہ انداز میں کیا کرتے ہیں۔

برمنگھم میں اسلامک پروپیگیشن سنٹرانٹرنیشنل (IPCI) دعوت کے میدان میں بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔ میں نے اس کا مرکز دیکھا۔ یہ مرکز اپنی ترتیب اور اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے پورے طور پر یورپی معیار کے مطابق ہے۔

انھوں نے انگریزی میں بہت سا لٹریچر شائع کیا ہے۔ ایک پمفلٹ کا ٹائٹل یہ ہے کہ بائبل محمدؐ کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کا جو قدیم عبرانی ایڈیشن ہے، اس میں آج بھی’’ محمدؐ‘‘ کے نام سے پیغمبر آخرالزماں کی پیشین گوئی موجود ہے۔ اس پمفلٹ میں عبرانی نسخہ کے اصل الفاظ شائع کئے گئے ہیں۔ پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمدؐ کا ذکر اپنے نام کے ساتھ امثال سلیمان میں موجود ہے۔ عبرانی لفظ جو اس میں استعمال کیا گیا ہے وہ محمدہم ہے : Muhammad is mentioned my name in the Song of Solomon (5:16) The Hebrew word used there is Mahammuddim, translated as ‘altogether lovely’ in the authorised version of the Bible or ‘The Praised One’ i.e. Muhammad. اخبار جنگ کا لندن ایڈیشن (۱۹ اگست ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے درمیانی صفحہ پر جناب خرم مراد صاحب کا مضمون تھا۔ اس میں پاکستان کی بربادی کی ذمہ داری پاکستان کے سیاسی لیڈروں کے اس غلط فیصلہ پر ڈالی گئی تھی کہ انھوں نے امریکہ سے تعلق قائم کر لیا (جو کہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا، اکتوبر اور نومبر ۱۹۵۳) میں جنرل ایوب کی واشنگٹن یاترا کے بعد ۱۹ مئی ۱۹۵۴ کو پاکستان کی فوجی امداد کی درخواست قبول کر کے امریکہ نے امریکہ۔ پاکستان باہمی دفاعی معاہدہ پر دستخط کر دئے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم دانشور اسی قسم کے انکشافات میں مشغول ہیں۔

واقعہ کو دریافت نہ کر سکا کہ مذکورہ قسم کا شدید تر معاہدہ امریکہ اور جاپان کے درمیان دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوا۔ مگر یہ معاہدہ جاپان کو ترقی سے نہ روک سکا۔ پھر ایسا نسبتاً ایک کمتر معاہدہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کیسے بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی ترقی ان کی داخلی طاقت پر منحصر ہے نہ کہ کسی قسم کے بیرونی معاہدہ پر۔

لندن کے اردو روزنامہ جنگ (19 اگست (199) میں مسٹر مقیم احمد کا بیان چھپا ہوا تھا کہ" بتھنل گرین کے علاقہ میں ایشیائی تاجروں کا تناسب 35 فی صد سے زائد ہے۔ مگر ان تاجروں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے ڈاکٹر تصدیق حسنی سے بات کی جو یہاں 20 سال سے زیادہ عرصہ سے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہے کہ برطانیہ کے سفید فام باشندے ہم لوگوں سے امتیاز برتتے ہیں۔ ہم کو ہائر جاب نہیں دیا جاتا۔ اور اگر کوئی آدمی سروس میں پہنچ جائے تو اس کو پروموشن نہیں ملتا۔ البتہ یہ نمایاں صورت میں نہیں ہے۔ اس کو آپ مخفی امتیاز (hidden discrimination) کہہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے امتیاز کے کئی ذاتی تجربے

برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔ اگر ان مسلمانوں سے ملئے تو وہ طرح طرح کی شکایتیں بیان کریں گے۔ لندن کے ایک مسلم دانشور نے برطانی مسلمانوں کا ایک اجتماع کیا اور اس میں مسلم پارلیمنٹ بنانے کا اعلان کر دیا جو برطانی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرے گی۔ میڈیا نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ ایک ملک میں دو پارلی منٹ نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد یہاں کے مسلمان اس تحریک سے بے تعلق ہو گئے اور مسلم پارلی منٹ کی بات ہوا میں تحلیل ہو کر ہندوستان کے مسلمان بھی اگر اپنے جذباتی لیڈروں کے ساتھ یہی معاملہ کریں تو یہاں بھی جھوٹی لیڈڑی کی جڑ کٹ جائے اور فرقہ وارانہ جھگڑے اپنے آپ ختم ہو کر رہ جائیں۔ یہی جذباتی لیڈر ہیں جو اپنے حقیر مقاصد کے لئے فرقہ وارانہ جھگڑے کھڑا کرتے ہیں۔ جذباتی لیڈر کو طاقت ہمیشہ مسلمانوں کے سپورٹ سے حاصل ہوتی ہے۔

برطانیہ میں ایک برٹش نیشنل پارٹی ہے۔ ان لوگوں کا نعرہ ہے کہ برطانیہ برطانیوں کے وہ ایشیا اور افریقہ سے آنے والے تمام لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔

سال پہلے ان کا ایک لیڈر اینک پاویں (Enoch Powel) منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ گیا تھا وہاں وہ اشتعال انگیز تقریریں کرتا رہا۔ برطانی لوگوں نے اس کو پسند نہیں کیا۔ چنانچہ اس بار وہ الیکشن میں ہار گیا۔ اور دوبارہ پارلیمنٹ میں نہ پہنچ سکا۔ یہی اگر ہندوستان میں ہو تو یہاں بھی تمام تخریب پسند تحریکوں کی جڑ کٹ جائے۔

9 اگست کو مغرب کی نماز اسپارک بروک کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد یہاں خطاب ہوا۔ خطاب میں میں نے اس حدیث کو موضوع بنایا : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث میں نے کہا کہ بدگمانی کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ہے واقعہ کو غلط رخ سے دیکھنا۔ غلط رخ سے دیکھنے ہی کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور آدمی الٹی رائے قائم کرلیتا ہے جس کو بدگمانی کہا جاتا ہے۔ یہ سخت گناہ کی بات ہے۔ دور صحابہ کی مثالوں سے بتایا کہ غلط رخ سے دیکھنے میں کس طرح مقدس شخصیتوں کی تصویر بھی بگڑ جاتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ کسی کے بارہ میں رائے قائم کرتے ہوئے سخت احتیاط سے کام لیا جائے۔

10 اگست کی صبح کو اخبار جنگ کے نمائندہ مسٹر عباس ملک آگئے۔ ان سے دیر تک موجودہ زمانہ کے مسلم مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ وہ اس کو انٹرویو کی شکل میں اخبار جنگ میں شائع کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ایک قصہ ہے کہ ایک بزرگ کا قافلہ چل رہا تھا۔ اس نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا۔ کچھ عرصہ کے بعد فاختہ کے غول وہاں آگئے اور درخت کے اوپر اپنی بولی بولتے ہوئے بزرگ نے پوچھا تو فاختہ کی جماعت کے لیڈر نے کہا کہ ہمارا ایک جوڑا ایک درخت پر پتیوں کے سایہ میں آرام کر رہا تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے غلیل مار کر ایک فاختہ کو گرا لیا اور ذبح کر ڈالا۔ بزرگ نے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ حضرت، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا: یہ جانور تو ہماری خوراک ہیں اور وہ ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں۔ بزرگ نے فاختہ کے لیڈر تک یہ جواب پہنچا دیا۔ اس نے کہا کہ ہماری شکایت یہ نہیں ہے۔ ہماری شکایت تو یہ ہے کہ آپ لوگ یہاں صوفی کے روپ میں آئے مگر آپ نے شکاری والا کام کیا۔ آپ کو صوفی کے روپ میں دیکھ کر ہم مطمئن تھے کہ آپ سے ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر آپ شکاری کے روپ میں ہوتے تو ہم نے بھی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیا ہوتا۔

یہ اگرچہ ایک کہانی ہے۔ مگر وہ صوفیا، اور بادشاہوں کے فرق کو بہت اچھی طرح بیان کرتی صوفیاء بے ضرر بن کے لوگوں کے سامنے آئے اس لئے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ شکاری کے روپ میں آئے اس لئے لوگ ان سے متنحش ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملکوں میں جو جھگڑا فساد ہے اس کا سبب ڈیمو کریسی ہے۔ ڈیمو کریسی نے ہر آدمی کو سیاسی حوصلہ مند (ambitious) بنا دیا ہے۔ آپ تقابلی طور پر دیکھئے کہ جو انتشار پاکستان میں ہے وہ سعودی عرب میں کیوں نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں تمام لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی گدی تو صرف شاہی خاندان کو ملے گی۔ اس لئے لوگ سیاست سے نظریں پھیر کر اپنے کھانے کمانے میں لگے رہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں ڈیمو کریسی ہے۔ اس لئے یہاں ہر آدمی سمجھتا ہے کہ میں بھی کوئی سیاسی عہدہ حاصل کر سکتا ہوں۔ اس لئے ہر آدمی حتیٰ کہ علماء تک سیاست کے میدان میں قسمت آزمائی کے لئے نکل پڑے ہیں۔

جمہوری نظام میں اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے لوگوں کے اندر بنڈل ڈسپلن یہ بنڈل ڈسپلن یا تو تعلیم کے ذریعہ آتا ہے یا تقویٰ کے ذریعہ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ڈیمو کریسی صالح ڈیمو کریسی بنے تو آپ کو یہی کرنا ہوگا کہ وہاں کے سماج کو یا تو برطانیہ کی طرح تعلیم یافتہ سماج بنائیں یا دورِ اول کے اسلام کی طرح متقی سماج۔

لندن کے اخبار جنگ (۹ اگست ۱۹۹۴) میں ایک دلچسپ نیوز آئٹم دیکھنے کو ملا۔ اس کا عنوان تھا: سلمان رشدی اپنے قلم سے اپنا دفاع کرے۔ اس عنوان کے تحت حسب ذیل خبر درج ملعون مصنف سلمان رشدی کی حفاظت پر سرکاری اخراجات پر عوام میں اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سلمان رشدی کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہئے۔ قلم کا وار تلوار سے زیادہ کاری ہوتا ہے تو رشدی کو بھی اپنے قلم سے اپنا دفاع کرنا چاہئے۔ اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ اگر رشدی ایسا کہے تو اس کا کیا جواب ہوگا کہ تم لوگوں نے تو میرے قلم کے جواب میں تلوار اٹھائی اور مجھ کو مشورہ دے رہے ہو کہ تمہاری تلوار کا جواب میں قلم سے دوں۔

یہاں ایک کتاب دیکھی۔ ۲۳۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام تاریخ برطانیہ (British History) تھا۔

اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانی تاریخ میں کوئن وکٹوریہ کے زمانہ سے لے کر پہلی عالمی جنگ تک کے دور کو دی ایچ آف ایمپائر کہا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں برنش ایمپائر سب سے زیادہ وسعت (greatest extent) تک پہنچی جب کہ دنیا کے لینڈ ایریا کا تقریباً (one-fifth) حصہ اس کے قبضہ میں یہ اس وقت کی عالمی آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ تھا۔ چونکہ یہ پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، اس لئے اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ شہنشاہیت جس میں سورج غروب نہیں ہوتا: the Empire on which the Sun never sets. (p. 162)

آگے اسی کتاب کے باب دی ماڈرن ورلڈ میں درج تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانی شہنشاہیت ختم ہوگئی۔ جو ممالک اس میں شامل تھے وہ ۱۹۷۰ تک آزاد ہو گئے: After the Second World War Britain's Empire disappeared, the countries belonging to it were almost all independent by 1970. (p 190)

برطانی شہنشاہیت کی یہ مدت تقریباً سوا سو سال ہوتی ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں تمام سلطنتوں کو عروج کے بعد زوال ہوا ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی قوم کے لئے ابدی اقتدار مقدر نہیں۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار آزمائش کے لئے ہوتا ہے۔ یہ آزمائش ہر ایک کی ہونی ہے، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ کسی ایک قوم کو ابدی طور پر سیاسی اقتدار کا مالک بنا دیا جائے۔ انگریز قوم کی یہ دانش مندی ہے کہ اس نے تاریخ کے اس فیصلہ کو بخوشی قبول کر لیا۔

برمنگھم میں حضرت سلطان باہو کے نام پر ایک مرکز ہے۔ ۱۰ اگست کی شام کو مغرب کی نماز یہاں کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد خطاب کا پروگرام تھا۔ میں نے اس آیت کو موضوع بنایا کہ وما ارسلناك الا رحمة للعالمين۔ میں نے کہا کہ اسلام امن اور رحمت کا دین ہے۔ کلچر رحمت کلچر ہے۔ یہ اس کی ابدیت کا ثبوت ہے۔ اسلام اگر جنگ کلچر کا علمبردار ہوتا تو موجودہ زمانہ میں اس کی اہمیت ختم ہو جاتی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد جنگ صرف تباہی کے ہم معنی بن کر رہ گئی ہے۔ تلوار کے دور میں جنگ کا کچھ فائدہ ہو سکتا تھا۔ گرمیوں کے دور میں یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ جنگ کے ذریعہ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ حاصل ہو سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ کی جنگ دو طرفہ تباہی بن کر رہ گئی ہے۔

ان خیالات کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا: آپ نے ہمارے جذبات کو زبان دیدی۔ مرکز کے ذمہ داروں نے دوبارہ پروگرام رکھنے پر اصرار کیا۔ تقریر کے بعد سوال وجواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ برائی کے خلاف اقدام صرف اس وقت جائز ہے جب آپ کے پاس برائی کو ختم کرنے کی طاقت موجود ہو۔ ایسا اقدام جس کے نتیجہ میں شدیدتر برائی پیدا ہو جائے وہ اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔

1 اگست کی شام کو لندن میں پروگرام تھا۔ جناب شمشاد خاں صاحب کے ساتھ برمنگھم سے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ دو گھنٹہ کا سفر کر کے ہم لوگ لندن پہنچے۔ پہلے کچھ دیر کے لئے جناب محمد اسحاق صاحب کے مکان ڈیگری روڈ، پر کچھ دیر کے لئے قیام کیا گیا۔ یہاں عصر کی نماز پڑھی گئی۔ کچھ مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال ہوا جو یہاں اکٹھا ہو گئے تھے۔

مغرب کی نماز پاکستان کمیونٹی سنٹر (ولٹن گرین) کی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد اس کے ہال میں خطاب ہوا۔ یہ خطاب سیرت کے موضوع پر تھا۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ سنٹر کے چیئرمین نے آخر میں بولتے ہوئے کہا کہ آج ایسی ہی تقریر بروں کی ضرورت ہے۔ مسلمان اگر اس کے مطابق عمل کریں تو ان کے تمام مسائل انشا اللہ حل ہو جائیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ کب ایسا ہو گا کہ مسلمان دوبارہ اسلامی خلافت قائم کرنے میں کامیاب میں نے کہا کہ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جب وہ اس کی شرطیں پوری کر دیں گے ۔ قرآن کے مطابق ، یہ شرط ایمان باللہ اور عمل صالح ہے (النور ۵۵)

رات ہی کو ہم لوگ دوبارہ برمنگھم واپس آگئے ۔ مذکورہ پروگرام اور اسی طرح برطانیہ میں ہونے والے تمام پروگرام ویڈیو ریکارڈ کئے جاتے رہے۔ ریکارڈنگ کا انتظام اسلامک پروپیگیش سنٹر انٹرنیشنل نے کیا تھا۔

اگست کی رات کو جب ہم لوگ پروگرام سے فارغ ہو کر مکان واپس آئے تو یہاں گھر کے اندر دو سفید فام پولیس کے آدمی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ جناب شمشاد خاں صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ اس کے راستہ سے کچھ چور اندر گھس آئے۔ میں کچھ پونڈ اور کچھ جوئلری رکھی ہوئی تھی اس کو لے کر بھاگ گئے۔ گھر کی خاتون نے پولیس کو ٹیلی فون کیا۔

منٹ کے بعد پولیس آئی۔ اس وقت تک چور بھاگ چکے تھے۔

معلوم ہو کہ چوری کے واقعات یہاں عام ہیں۔ حتیٰ کہ یہ چور نہایت ڈٹھائی کے ساتھ چوری چورں کہ پڑوس میں یہاں لوگ ایک دوسرے سے بے تعلق ہوتے ہیں، اس سے چوروں کو مزید موقع مل جاتا ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک روز کسی مکان کے سامنے ایک بڑی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ گھر کا تالا کھول کر اس کا قیمتی سامان گاڑی پر لادا جا رہا تھا۔ پڑوسی نے اپنے گھر سے نکلتے ہوئے اس کو دیکھا تو کہا ــ کیا آپ یہاں سے جا رہے ہیں:

Printed page