Al-Risala · October 1996

Are you moving.

Al-Risala, October 1996, pp. 33–38

By Maulana Wahiduddin Khan

حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ چور تھے جو بند مکان کا سامان لے کر فرار ہونے والے تھے۔ پڑوسی اتنا بے خبر تھے کہ انھوں نے سمجھا کہ یہ خود گھر والے ہیں جو اپنا سامان لے کر کہیں اور جا رہے ہیں: ایک صاحب نے بتایا کہ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے ایک لیڈر نے ایک کمپنی سے اپنی پارٹی کے لئے چندہ لیا۔ یہ چندہ رواج کے خلاف تھا۔ اس کے کچھ سال بعد وہ کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے جائزہ کے بعد ایک رپورٹ شائع کی جس میں وہ اسباب بتائے گئے جن کی وجہ سے کمپنی فیل ہوئی۔ ایک سبب یہ بھی تھا کمپنی کے کچھ افسر کرپٹ ہو گئے تھے اور اس کے ثبوت میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے کنزرویٹو پارٹی کو مذکورہ عطیہ دیا۔

یہ رپورٹ چھپی تو کنزرویٹو پارٹی کے ذمہ داروں نے اس مسئلہ پر میٹنگ کی۔ کے بعد انھوں نے دو فیصلے کئے ۔ ایک یہ کہ مذکورہ رقم کمپنی کو واپس کر دی جائے ۔ دوسرے یہ کہ جس لیڈر نے چندہ لیا اور جو اس وقت حکومت میں وزیر تھا۔ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے عہدے سے

یہی کرپشن کو دور کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ اگر اوپر کے لوگ ایسا کریں کہ وہ خود کرپشن میں مبتلا حتیٰ کہ وہ یہ قانون بنوالیں کہ ان کے اوپر خود ان کی اجازت کے بغیر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا البتہ وہ جلسوں میں آکر دوسروں کو نصیحت کریں کہ وہ کرپشن سے بچیں تو اس طرح کبھی کرپشن کا خاتمہ

ایک مسلمان مقیم برطانیہ نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے اوپر

تہذیبی حملہ (cultural onslaught) ہے جو ہندوستان میں ٹی وی اور دوسرے ذرائع سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اثر سے مسلمان ہند و تہذیب کو قبول کر رہے ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کی شادیوں میں ہندو طریقے رائج ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ چیزیں تو ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ پاکستانی مسلمانوں میں آرہی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کی شادیوں میں بڑے پیمانے پر ہندو طریقہ کی نقل کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس کا اعتراف کیا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ ہند و کلچر کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ تماش کلچر کا مسئلہ ہے۔ مسلمان اپنی بڑھی ہوئی مادیت کی بنا پر تماشا پسند ہو گئے ہیں، اس لئے وہ اس قسم کی تماشائی رسموں کو اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا یہ فعل ہندو تہذیب کی تقلید کے طور پر نہیں ہے بلکہ تماشا تہذیب کی تقلید کے طور پر ہے۔ تماشے کی رسیں چوں کہ اسلام میں موجود نہیں تھیں، انہوں نے ان کو باہر سے در آمد کر لیا۔

مختلف ملکوں کے جو مسلمان برطانیہ میں آباد ہیں ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ ملین ہے۔ میں پاکستانی مسلمانوں کی تعداد تقریباً آٹھ لاکھ ہے۔ ان میں بھی زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو آزاد کشمیر (ہندوستانی زبان میں مقبوضہ کشمیر) سے آئے ہیں۔ ایک پاکستانی مسلمان جو برمنگھم میں رہتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ برمنگھم میں ۸۰ ہزار پاکستانی آباد ہیں۔ ان میں ۶۰ ہزار وہ لوگ ہیں جو آزاد کشمیر کے علاقہ سے آئے ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم کچھ کشمیری مسلمانوں سے گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں آپ جو جنگ جویانہ تحریک چلا رہے ہیں، اس کا مقصد آپ کے اعلان کے مطابق کشمیر کو آزاد کرنا ہے۔ یہ مقصد آپ اس حصہ میں بالفعل حاصل کر چکے ہیں جس کو آپ خود آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ پھر جب آپ کا ڈریم لینڈ یا آپ کا مطلوب کشمیر جزئی طور پر آزاد کشمیر کے علاقہ میں عملاً بن گیا تو اس کو چھوڑ کر دوبارہ آپ لوگ برطانیہ کی غلامی میں کس لئے آگئے۔ آپ کی یہ روش بتاتی ہے کہ آزادی کشمیر کی تحریک چلانے میں آپ سنجیدہ نہیں ہیں۔

میں نے کہا کہ اصحاب رسول کو جب مدینہ میں ایک آزاد اسلام لینڈ مل گیا تو سارے لوگ وہاں مقیم ہو گئے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ مدینہ میں چوں کہ مادی آرام نہیں تھا وہ اس کو چھوڑ کر شام اور عراق اور فلسطین چلے جاتے ، کیوں کہ وہاں مادی راحت موجود تھی۔ آپ لوگ زبان

سے تو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں مگر حقیقتہ آپ نا دہ پسند ہیں۔

۱۲ اگست کو جمعہ کا دن تھا۔ حضرت سلطان باہو ٹرسٹ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ جمعہ سے پہلے ۲۰ منٹ کا خطاب ہوا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اتحاد کی اہمیت بتائی۔ آخر میں کہا کہ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے قائم ہوتا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اتحاد کے ساتھ متحد ہونے کا۔ کیوں کہ ایسا اتحاد تو کبھی دنیا میں وجود میں آنے والا نہیں۔ ٹرسٹ کے چیرمین صاحب نے خطاب کے بعد کہا کہ آپ کی ضرورت سب سے زیادہ انگلینڈ میں ہے۔ یہاں اسی طرح کی باتوں کی ضرورت ہے۔ مگر ایسی باتیں کرنے والا یہاں کوئی نہیں۔ آپ نے ہمارے جذبات کو الفاظ دیدہئے ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ہم آپ کے لئے سارا انتظام کریں گے، آپ اب یہیں رہ جائیں ، انڈیا نہ جائیں۔ خطاب کے بعد ایک صاحب الگ سے ملے انھوں نے کہا کہ مجھے معاف کیجئے ۔ آپ کے بارہ میں میرے دل میں بد گمانیاں تھیں۔ مگر اب سازی بد گمانی ختم ہو گئی۔

شام کو مغرب کی نماز مرکز اہل حدیث کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں مغرب کے بعد ایک خطاب اس کا موضوع یہ تھا کہ سنت رسول سے موجودہ زمانہ میں کس طرح رہنمائی حاصل کی جائے ۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ معروف سنتوں کے سوا بھی بہت سی سنتیں ہیں جو نہایت اہم ہیں۔ مگر وہ لوگوں کے لئے اجنبی بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک سنت تیسیر العسر ہے۔ یعنی مشکل کو آسان بنانا، اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کرنا۔ تقریر کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی وجہ سے یہاں ایسے تعلیم یافتہ حضرات آگئے جو عام طور پر دینی اجتماعات میں نہیں آتے۔ آخر میں سوالات کئے گئے جن کا جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اب جہاد بالسيف منسوخ ہو چکا ہے۔ اب صرف جہاد باللسان اور جہاد بالقلم کا حکم ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ جہاد کو منسوخ کہنا خود اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ کون ایسی حماقت کرے گا۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ جہاد کی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر جہاد کرنا جائز نہیں۔ یہ شرطیں آپ فقہ کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ غزوہ بدر میں کوئی تیاری نہیں تھی۔ مگر بے سروسامانی کے باوجود

جہاد کیا گیا۔ میں نے کہا کہ غزوہ بدر کی تیاری تو اتنی بڑی تھی کہ اس سے بڑی تیاری ممکن نہیں۔ تھی کہ تیاری نہ ہونے کی وجہ سے اصحاب رسول جہاد کرنے میں متردد تھے۔ اس وقت قرآن میں یہ یقین دہانی نازل کی گئی کہ تم لوگ میدان جنگ کی طرف بڑھو، تمہاری مدد کے لئے فرشتے اتارے پھر جس گروہ کا ساتھ دینے کے لئے فرشتے آجائیں وہ تو اتنی طاقت ور ہو جائے گی کہ ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی اس کو زیر نہ کر سکیں۔

مرکز اہل حدیث کے اجتماع میں تقریر کے بعد بہت سے تحریری سوالات آئے۔ سوال یہ تھا کہ آجکل نظام خلافت کے احیاء کا بڑا چرچا ہے۔ قریب میں لندن میں حزب التحریر نے اس موضوع پر ایک کامیاب کانفرنس منعقد کی تھی۔ کیا اسلامی خلافت کا احیاء موجودہ زمانہ میں ممکن ہے۔

میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، خلافت اقتدار ارض ، احیاء کا مسئلہ نہیں ہے، وہ اعطاء کا مسئلہ ہے۔ یعنی خلافت کسی گروہ کو خدا کی طرف سے دی جاتی ہے، وہ کسی تحریک خلافت کے ذریعہ کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ قرآن کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ احیاء کی کوشش افراد ملت پر کی جائے ، افراد ملت میں جب زندگی آجائے گی تو اس کے بعد خدا کی طرف سے اس کے حق میں خلافت وحکومت Wembley Arena, London <...> <...> <...> |

فیصلہ بھی کر دیا جائے گا۔

ایک اور سوال یہ تھا کہ ۔ آپ نے کہا ہے کہ مشکل کو آسان سمجھنا چاہئے، کیوں کہ یہ نبی رسول اللہ کی سنت ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان ایک مشکل عمل ہے بقول بعض، پھر کیا ہم اس کو آسان سمجھیں اور اس کے لئے کوشش کریں تو یہ سنت رسول ہوگی۔

میں نے جواب دیا کہ جو بات میں نے کہی وہ یہ تھی کہ عسر میں یسر کو دیکھنا اور اس کو استعمال کرنا یہ بھی ایک سنت رسول ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ یسر کے پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں اور عصر سے اپنا سر ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے کشمیر کے مسئلہ کو دیکھئے تو آپ لوگوں نے سنت کے برعکس طریقہ اختیار کیا ہے۔ ۱۹۸۹ میں جب آپ نے موجودہ مسلح تحریک شروع کی کشمیر میں عسر کے ساتھ یسر پوری طرح موجود تھا۔ وہ یہ تھا کہ سیاسی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے تعلیم، اقتصادیات اور دعوت جیسے میدانوں میں کشمیری قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے پرامن کوشش کی جائے۔ مگر آپ لوگوں نے اس موقع کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے بجائے آپ نے عسرت کی سیاسی چٹان سے سر ٹکرانا شروع کر دیا۔ یہ سنت رسول کے سراسر خلاف ہے۔

ایک سوال یہ تھا _ فتنہ قادیانیت ایک نئے روپ میں، برطانیہ میں خصوصاً پھیل اس سلسلہ میں آپ کی کوئی نصیحت ہو تو بتائیں کہ ہم اس فتنہ کا مقابلہ کس طرح کریں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس زمانہ میں ہندستان میں قادیانیت پیدا ہوئی اسی کے قریب زمانہ میں امریکہ کی بلیک مسلم تحریک بھی پیدا ہوئی۔ دونوں کا کیس بالکل ایک تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بلیک مسلم تحریک کا فتنہ جلدی ختم ہو گیا اور قادیانیت کا فتنہ دائمی تک باقی ہے اور بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ بلیک مسلم تحریک کے فتنہ کو خاموش تدبیر سے حل جب کہ قادیانی فتنہ کو شور وغل کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور شور وغل سے کبھی کوئی چیز ختم نہیں ہوتی۔

بلیک مسلم تحریک الیا محمد (۱۹۷۵ء - ۱۸۹) نے شروع کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں۔ چنانچہ ان کے تمام پیروان کو پیغمبر خدا مانتے تھے۔ مگر ۱۹۷۵ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کا لڑکا وارث دین محمد ان کا جانشیں ہوا۔ بیٹے کا رجحان یہ تھا کہ ان کے والد پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ

ایک ریفارمر تھے۔ امریکہ کے مسلمانوں نے اس کو خوب استعمال کیا۔ یہاں تک کہ بلیک مسلم اصلاح یا ہو کر بڑی تعداد میں عالمی مسلم امت کا جزو بن گئے۔

ٹھیک یہی معاملہ قادیانیت کا ہوا۔ ۱۸۸۹ء میں غلام احمد قادیانی نے اس کی تشکیل کی۔ کے بعد اس نے دعویٰ کر دیا کہ وہ خدا کا پیمیر ہے۔ مگر ۱۹۱۴ء میں اس کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو جانشین بنایا گیا۔ بیٹے نے اعلان کر دیا کہ اس کا باپ پیغمبر نہیں تھا۔ یہاں موقع تھا کہ دوبارہ بیٹے کو استعمال کرکے قادیانی فتنے کا خاتمہ کر دیا جائے۔ عداوت کی نفسیات کی بنا پر یہاں کے مسلمان نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کو استعمال کر سکے۔ امکان بالکل غیر استعمال شدہ رہ گیا۔ یہاں تک کہ شور و غل کی سیاست نے قادیانی فتنے کو وہاں پہنچادیا جہاں آج آپ اس کو دیکھ رہے ہیں۔

برطانیہ کے زمانہ قیام میں مسلسل لوگوں سے، خاص طور پر اہل علم سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ان سے اسلام اور ملتِ اسلام کے مسائل پر تبادلہ خیال جاری رہا۔

ڈاکٹر خالد علوی یہاں ایک یونیورسٹی میں سینئر پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال پہلے ان کی ایک ملاقات برطانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی لیڈر والے ہرٹ لے (Roy Hertley) سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ برمنگھم میں کم از کم دو ایسے انتخابی حلقے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر پارلیمنٹ کے انتخاب میں کبھی کوئی مسلم یہاں سے کامیاب ہوکر نہیں آتا نہ آپ لوگ مسلمانوں کو ٹکٹ دیتے ہیں۔ ہرٹ لے نے جواب دیا کہ جب ایک مسلمان مسلمان کی حیثیت سے منتخب ہوکر ایم پی بنے گا تو وہ برٹش پارلیمنٹ کے خاتمہ کا دن ہوگا :

When a Muslim on the basis of being Muslim is elected as M.P. that will be the end of British Parliament.:

پروفیسر اینڈرسن (Anderson) سے ڈاکٹر علوی کی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے ساتھ خیریت برتتے ہیں، حالانکہ مسلمان مسیح کو پیغمبر سمجھتے ہیں اور ان کی عزت کرتے اس کے برعکس یہود کو آپ اپنا سمجھتے ہیں حالانکہ انھوں نے مسیح کو سولی پر چڑھایا اور ان کو جھوٹا انھوں نے جواب دیا کہ اس کو ذہن میں رکئے کہ مسیح ایک یہودی تھے :

Printed page